دنیا
گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل بقیہ کارکنوں کو بھی جلد ملک بدر کر دیا جائے گا : اسرائیل

یروشلم، غزہ کے لیے امدادی گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی بھی اسرائیلی حکام نے روک لی، جبکہ پہلے سے گرفتار چار اطالوی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ گرفتار کارکنوں نے احتجاجاً غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
غزہ کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی کو بھی اسرائیلی حکام نے روک لیا ہے، ساتھ پہلے سے گرفتار رضاکاروں میں سے 4 اطالوی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہےکہ اس نے 4 اطالوی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے جبکہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل بقیہ کارکنوں کو بھی جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگ زدہ غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے پورے امدادی فلوٹیلا کو روک کر درجنوں کشتیوں سے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔
جمعہ کی صبح گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی پر بھی اسرائیلی فورسز نے زبردستی چڑھائی کر دی، پولینڈ کے جھنڈے والی ‘میرینیٹ’ کشتی پر 6 افراد موجود تھے۔
غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے قائم بین الاقوامی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ کئی گرفتار کارکنوں نے اپنی گرفتاری کے ساتھ ہی ‘غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال’ بھی شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ یہ عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے، وزارت خارجہ نے گرفتار کیے گئے تمام 461 کارکنوں کے ‘محفوظ اور صحت مند’ حالت میں ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
اس سے قبل گلوبل صمود فلوٹیلا نے اسرائیل سے تمام کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اسرائیل کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل صحافیوں کو گرفتار کرنے کی مذمت کی ہے، پیرس میں قائم میڈیا واچ ڈاگ کے مطابق فلوٹیلا پر 20 سے زائد غیر ملکی صحافی موجود تھے۔
آر ایس ایف کے مطابق، مذکورہ صحافی یکم سے 2 اکتوبر کے درمیان اس وقت گرفتار ہوئے جب اسرائیلی بحریہ نے ان کشتیوں کو روکنا شروع کیا۔
آر ایس ایف کے کرائسس ڈیسک کے سربراہ مارٹن روکس نےکہا کہ صحافیوں کو گرفتار کرنا اور انہیں اپنا کام کرنے سے روکنا آزادیِ اظہارِ رائے اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایف صحافیوں کی غیر قانونی گرفتاری کی مذمت کرتی ہے۔
یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو غزہ کے لیے امداد لے جانے والے 40 سے زائد ممالک کے تقریبا 500 کارکنوں کو اسرائیلی بحریہ نے گرفتار کر لیا تھا۔
اسرائیل نے رضاکاروں پر الزام لگایا کہ وہ ‘ایک قانونی بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش’ کر رہے تھے اور مزیدکہا کہ انہیں روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
اسرائیلی بحریہ نے قافلے میں شامل ہر کشتی کو روکا، عملے کو گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں اسرائیل منتقل کر دیا گیا، جہاں سے اب انہیں ملک بدر کیا جائے گا، گرفتار شدگان میں کئی نمایاں شخصیات جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، سابق میئر بارسلونا آدا کولاو اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اب تک کا سب سے بڑا بحری امدادی مشن تھا جس نے فلسطینی علاقے تک سامان پہنچانے کی کوشش کی اور کشتیوں کے قبضے نے عالمی سطح پر مذمت کو جنم دیا اور دنیا بھر میں احتجاج کا باعث بنے۔
سیکریٹری جنرل انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (آئی ٹی ایف) اسٹیفن کاٹن، جو دنیا بھر کے 1 کروڑ 65 لاکھ سے زائد ٹرانسپورٹ ورکرز کی نمائندگی کرتے ہیں، انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ بین الاقوامی پانیوں میں غیر مسلح امدادی کشتیوں پر حملہ یا قبضہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستیں یہ فیصلہ نہیں کر سکتیں کہ کب بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور کب نہیں، سمندر کو جنگ کا میدان نہیں بنایا جا سکتا۔
دنیا بھر کے رہنماؤں نے بھی ان غیر قانونی کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جن میں کولمبیا کے صدر گسٹو پیٹرو بھی شامل ہیں جنہوں نے اسرائیلی سفیروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان اور آزاد تجارتی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
یورپی ممالک جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، یونان اور آئرلینڈ نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرفتار کیے گئے عملے کے حقوق کا احترام کرے، اقوام متحدہ نے ابھی تک اسرائیلی اقدامات پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے ان گرفتاریوں کو ‘غیر قانونی اغوا’ قرار دیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور خلیجی ممالک کی مخالفت کے باوجود عمان کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے رقم وصول کرنے کا عندیہ
مسقط، امریکہ اور خلیجی ممالک کی مخالفت کے باوجود عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنےوالے جہازوں سے رقم وصول کرنے کا عندیہ دے دیا۔
امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق عمان نے یورپی حکام سے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آلودگی سے بچانے اور جہازوں کو راہداری میں مدد دینے کے عوض فیس وصول کی جا سکتی ہے۔
عمانی حکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اب جنگ سے پہلے کے حالات تک لے جایا نہیں جا سکتا۔ عمانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی ہمیشہ پابندی کریں گے لیکن آبنائے ہرمز کو آلودگی سے پاک رکھنے اور جہازوں کو راہداری میں مدد دینے کی خدمات کے لیے کچھ فیس لی جا سکتی ہے۔
قطر نے بھی آبنائے ہرمز فیس پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ قطر نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر سمندری راستوں پر آنے والے خرچ سے متعلق بات کرے گا۔
واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کے آبنائے ہرمز میں ٹول لگانے کی مخالفت سے متعلق اعلامیے پر عمان اور قطر دونوں نے ہی دستخط کیے تھے۔ دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوئی فیس نہيں ہوگی ، کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز سے ٹیکس وصول نہيں کرسکتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا4 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت




































































































