جموں و کشمیر
کشمیرمیںدوران شب سے بدھ کی صبح تک تازہ بارش،درجہ حرارت میں کئی ڈگری کمی

شدیدگرمی کی لہرمیں نمایاں نرمی ،اہلیان کشمیرکو ملی راحت
اگلے48گھنٹوں کے دوران ٹنل کے آرپارکئی مقامات پر شدیدبارشوںکی وارننگ
بارش کےساتھ ٹھنڈے موسم کی توقع، درجہ حرارت موسمی اوسط سے کم:ماہر موسمیات فیضان عارف
سری نگر:جے کے این ایس : منگل کودیرارت سے بدھ کی صبح تک سری نگرسمیت وادی کے بیشتر علاقوں میںہلکی سے درمیانی نیز موسلا دار بارشوںکی وجہ سے کشمیر وادی میں ہفتوں سے جاری شدید گرمی کی لہرمیں کافی نرمی آئی ہے جبکہ دن اور رات کے درجہ حرارت میں بھی تنزلی ریکارڈکی گئی ہے ۔دوران شب ہونے والی بارشوں سے کئی علاقوں میں نکاسی آب کا بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سڑکیں ،گلی کوچے اورچوراہے زیرآب آگئے ۔ا س دورا ن موسمیاتی ماہرین اور موسمیاتی مرکز سری نگرنے جموں وکشمیرمیں اگلے48گھنٹوں کے دوران مزید بارشیں ہونے کی پیش گوئی کی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق سری نگرمیں دن کا درجہ حرارت 35.5ڈگری اور رات کا پارہ ریکارڈ25.2ڈگری تک پہنچ جانے کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہرمیں آئی تیز ی کو گزشتہ48گھنٹوںکی بارشوںنے کافی حدتک کم کردیاہے ۔حکام نے بتایاکہ بدھ کو کشمیر کے کئی حصوں میں بارش ہوئی، جس سے گرمی کی شدید لہر کے حالات سے راحت ملی۔سری نگرسمیت وسطی ،شمالی اور جنوبی کشمیرکے کئی علاقوںمیں منگل کو دیررات شروع ہونے والی تازہ بارشیں بدھ کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہیں،جسکے نتیجے میں سری نگرسمیت کشمیر کے تمام علاقوںمیں شبانہ درجہ حرارت میں کئی ڈگری کمی درج ہوئی ،اورساتھ ہی بدھ کے روز لوگوںنے گرمی کی شدت میں نمایاںکمی محسوس پاکر راحت کی سانس لی ۔محکمہ موسمیات نے اگلے48 گھنٹوں کے دوران وادی کے کچھ مقامات پر تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے اور کہا کہ موجودہ موسمی نظام جمعرات تک جاری رہے گا ،جس دوران کئی مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش اورگرج چمک کے ساتھ بارش جاری رہے گی۔ کشمیر کے چند مقامات پر شدید اورموسلا دھار بارش ہوسکتی ہے اور الگ تھلگ مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔موسمیاتی محکمہ نے مزیدکہاکہ چند خطرناک مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھراو ¿ کے ساتھ سیلاب کا امکان ہے۔ اس سے دریاو ¿ں، ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ اور چند نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔موسمیاتی ماہرفیضان عارف نے بدھ کو کہاکہ کئی ہفتوں کے شدید گرمی کی لہر کے بعد، جموں و کشمیر میں اگلے48 گھنٹوں کے دوران بارش اور ٹھنڈے درجہ حرارت کا تجربہ کرنے کے لئے تیار ہے۔آزاد موسم کی پیشن گوئی کرنے والے (کشمیر ویدر)، فیضان عارف نے بتایا کہ آنے والی موسمی سرگرمیاں ایک ویسٹرن ڈسٹربنس اور فعال مانسون ہواو ¿ں کی وجہ سے شروع ہو رہی ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر بارش اور دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔فیضان نے کہاکہ مغربی ڈسٹربنس اور فعال مانسون ہواو ¿ں کی بدولت جموں وکشمیر کے کئی حصوں میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران بارش کے ساتھ ٹھنڈے موسم کی توقع ہے۔انہوںنے کہاکہ چند مقامات پر تیز بارش اور یہاں تک کہ بادل پھٹنے کا امکان ہے۔فیضان عارف نے مزید کہا کہ درجہ حرارت پورے خطے میں موسمی اوسط سے کم رہے گا۔پیشن گوئی میں تیز ہواو ¿ں اور اس مدت کے دوران کچھ علاقوں میں ژالہ باری کے امکان کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 11 سے13 جولائی تک مختلف مقامات پر ہلکی بارش کے ساتھ گرم اور مرطوب موسم کا امکان ہے۔ موسمیاتی مرکز سری نگر کی پیش گوئی کے مطابق، اگلے9اور10 جولائی کو کئی مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش/گرج چمک کے ساتھ عام طور پر ابر آلود آسمان دیکھیں گے۔
کشمیر اور جموں ڈویڑن میں چند مقامات پر تیزاورموسلا دھار بارش کا امکان ہے، جموں ڈویڑن میں الگ تھلگ مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔موسمیاتی مرکز نے مزیدکہاکہ11 سے13 جولائی تک موسم میں تبدیلی متوقع ہے، گرم اور مرطوب حالات کے ساتھ ساتھ ہلکی بارش اورگرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی جبکہ14سے16 جولائی تک کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا ایک اور سلسلہ متوقع ہے۔موسمیاتی پیش گوئی کی روشنی میں، جموں و کشمیر میں چند مقامات پر ممکنہ شدید بارش کی وارننگ جاری کی گئی ہے، جموں ڈویڑن میں الگ تھلگ مقامات پر موسلادھار بارش کی توقع ہے۔مزید برآں، ندیوں، ندی نالوں اور مقامی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا امکان ہے۔ کسانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران آبپاشی اور دیگر کھیتی کے کاموں کو معطل کر دیں۔
جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
تازہ ترین
بارہمولہ میں مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں کے الزام میں خاتون پر پی ایس اے نافذ
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک خاتون کو مبینہ غیر قانونی اور قوم مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سخت عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔
حکام کے مطابق بارہمولہ پولیس نے بارہمولہ کے شیری علاقے کی رہائشی حسینہ بیگم کے خلاف پی ایس اے کے تحت نظر بندی وارنٹ پر عمل درآمد کیا ہے۔ پی ایس اے ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت حکام عوامی نظم و نسق یا ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بغیر مقدمہ چلائے دو سال تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون کے خلاف مختلف اضلاع میں درج متعدد مجرمانہ مقدمات میں مبینہ شمولیت کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ نے نظر بندی کا حکم جاری کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے خاتون کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں اسے ضلع جیل بھدرواہ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون غیر قانونی اور مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں سے متعلق کئی مقدمات میں شامل رہی ہے، تاہم اس کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
بارہمولہ پولیس نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے اور سلامتی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف آئندہ بھی اسی نوعیت کی سخت قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ انتظامیہ منشیات کی تجارت کے پورے نیٹ ورک کو ہر سطح پر ختم کر رہی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرگرم نارکو دہشت گردوں اور منشیات اسمگلروں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔
کشتواڑ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہاکہ ’’ہم منشیات کی تجارت کی زنجیر کی ہر کڑی کو توڑ رہے ہیں۔ چاہے وہ سرحد پار اسمگلر ہوں، مقامی منشیات فروش ہوں یا دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے عناصر، کسی کے لیے بھی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں۔ ہماری ایجنسیاں ہر نارکو دہشت گرد کا تعاقب کر رہی ہیں اور ان کے نیٹ ورکس کو مستقل طور پر ختم کر رہی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران جموں و کشمیر بھر میں معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگوں نے منشیات کے خلاف بیداری مہم میں حصہ لیا، جس سے منشیات کے استعمال اور نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی سطح پر مزاحمت کو فروغ ملا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ’’ہمارا مقصد منشیات کے استعمال کے خلاف نچلی سطح پر مزاحمت پیدا کرنا اور نارکو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اب تک یہ مہم جموں و کشمیر کے 19 اضلاع تک پہنچ چکی ہے، جس سے دیہات اور قصبوں کو منشیات سے پاک بنانے کے اجتماعی عزم کو تقویت ملی ہے۔
انتظامیہ کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ گزشتہ 56 دنوں سے ان کا ایک ہی مشن ہے کہ خطے سے ہر منشیات اسمگلر اور نارکو دہشت گرد کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ ’’نارکو دہشت گرد اور منشیات اسمگلر، چاہے وہ پلوامہ میں ہوں یا رام بن، کولگام میں ہوں یا کشتواڑ، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کے لیے کوئی رحم نہیں ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں نارکو دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ جو منشیات کے عادی افراد بحالی اور علاج کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی، لیکن منشیات کی تجارت سے منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظا
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا2 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا4 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا



































































































