جموں و کشمیر
جموں وکشمیرمیں غیرمحفوظ منجمد اور ٹھنڈے گوشت کی مصنوعات کااستعمال تیاری، ذخیرہ و تقسیم ، نقل و حمل اور فروخت پرتاحکم ثانی حکومتی پابندی عائد

خوراک کی حفاظت اورمعیارات ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی ناگزیر
صحت کے خطرات، فوری احتیاطی کارروائی کی ضرورت: کمشنر فوڈ سیفٹیسمیتا سیٹھی
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹری کے فوڈ سیفٹی کمشنر نے ایک امتناعی حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں منجمد اور ٹھنڈے گوشت کی مصنوعات کی تیاری، ذخیرہ کرنے، تقسیم کرنے، نقل و حمل اور فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے جو فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز(خوراک کی حفاظت اورمعیارات) ایکٹ 2006 کے تحت قانونی معیارات پر پورا نہیں اُترتے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن جموں و کشمیرسمیتا سیٹھی کے ذریعہ جاری کردہ ایک امتناعی حکم میں کہاگیاہے کہ فوڈ سیفٹی آفیسرز اور ڈرگ اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن کے فوڈ سیفٹی ونگ کے نامزد افسران کے وسیع معائنے کے بعد ہے، جسکے دوران بڑی مقدار میں بوسیدہ، سڑی ہوئی اور غیر لیبل والی مصنوعات ملی ہیں۔ غیر محفوظ سٹاک ضبط کر کے قانون کے مطابق تلف کر دیا گیا۔ممنوعہ اشیائ’غیر محفوظ خوراک‘ کے زمرے میں آتی ہیں جیسا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے سیکشن 3(1)(zz) میں بیان کیا گیا ہے، باب IX بشمول سیکشن 59 کے تحت تعزیراتی نتائج کو راغب کرتا ہے۔مزید، ضبط شدہ مصنوعات فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز (لیبلنگ اینڈ ڈسپلے) ریگولیشنز، 2020 کے تحت لازمی لیبلنگ تفصیلات کے بغیر پائی گئیں، جیسے:بیچ/لاٹ نمبر،تیاری/پیکنگ کی تاریخ اور میعاد ختم ہونے/استعمال کی تاریخ،ذخیرہ کرنے کے حالات (منجمد/ٹھنڈا)،مینوفیکچرر/پیکر/امپورٹر کا نام اور پتہ،FSSAI لائسنس نمبر اور لوگو۔مقررہ انداز میں نان ویجی ٹیرین علامت:بہت سے ڈیکلریشنز غائب یا ناجائز تھے، جس سے مذکورہ ضوابط کے ضوابط 4(1)، 6 اور 9 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔آرڈر میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (فوڈ بزنس کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن) ریگولیشنز، 2011 کی دفعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں اہم تقاضوں کو اجاگر کیا گیا ہے:منجمد کھانے کا درجہ حرارت منفی18ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم ہونا چاہئے۔ کچے گوشت، پولٹری اور سمندری غذا کو مناسب درجہ حرارت اور نمی کے کنٹرول کے ساتھ، پروسیس شدہ یا پیک شدہ مصنوعات سے الگ ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ کھانے کے کاروبار کو تمام مراحل پر سخت وقت اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے نظام کو برقرار رکھنا چاہیے ، وصول کرنا، پروسیسنگ، کھانا پکانا، کولنگ، اسٹوریج، پیکیجنگ، تقسیم اور خدمات۔غیر محفوظ طریقوں کی تکرار کو روکنے کے لیے، کمشنر فوڈ سیفٹی جموں وکشمیرنے منجمد اور ٹھنڈے گوشت کی مصنوعات کے لیے کم از کم قانونی معیارات کا اعادہ کیا:منجمد گوشت اور گوشت کی مصنوعات کو تمام مراحل پرمنفی18ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم پر ذخیرہ اور منتقل کیا جانا چاہیے۔قلیل مدتی ہینڈلنگ کے لیے ٹھنڈا گوشت منفی0-4ڈگری سینٹی گریڈ پر ذخیرہ کیا جانا چاہیے۔آرڈرمیں مزید کہاگیاہے کہ منجمد گوشت کے ساتھ منجمد کی تاریخ ہونی چاہیے اور اس تاریخ سے بارہ مہینوں کے بعد فروخت نہیں کیا جانا چاہیے۔ای کامرس ڈیلیوری کو کم از کم 30فیصد شیلف لائف یا میعاد ختم ہونے سے 45 دن پہلے، جو بھی پہلے ہو یقینی بنانا چاہیے۔اسٹوریج اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں دستاویزی/ڈیجیٹل ریکارڈ کے ساتھ درجہ حرارت کی نگرانی کرنے والے آلات کیلیبریٹڈ ہونا ضروری ہے۔گوشت کی مصنوعات کا نام واضح طور پر جانوروں کی انواع (مثلاً، بکری، بھینس، مرغی) کو واضح کرنا چاہیے۔یہ حکم فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ2006 کے سیکشنز 1(a)، 18(1)(f) اور 29(3) کے تحت اہم قانونی دفعات کا حوالہ دیتا ہے، جس میں صحت عامہ کی حفاظت، شہریوں کو خطرات سے آگاہ کرنے، نگرانی کو نافذ کرنے، اور محفوظ خوراک کے طریقوں کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے۔ایکٹ کے سیکشن 30(2) کے تحت، فوڈ سیفٹی کے کمشنر کو عوامی مفاد میں، ایک سال تک کسی بھی کھانے کی اشیاءکی تیاری، ذخیرہ، تقسیم یا فروخت پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے۔معائنہ کے نتائج اور متعلقہ قانونی دفعات پر غور کرنے کے بعد، کمشنر نے اعلان کیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں صحت کے خطرے کی صورت حال موجود ہے جس کے لیے فوری احتیاطی کارروائی کی ضرورت ہے۔اس کے مطابق، ایکٹ کی دفعہ 30 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، سمیتا سیٹھی کمشنر آف فوڈ سیفٹی (کمشنر، فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن، جے اینڈ کے) نے منجمد اور ٹھنڈے گوشت کی مصنوعات کی تیاری، ذخیرہ کرنے، تقسیم کرنے، نقل و حمل اور فروخت پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ اس کے معیار اور فوڈ 60 کے مطابق نہیں ہیں۔یہ حکم اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک کہ اس بات کی تصدیق کے بعد منسوخ یا اس میں ترمیم نہ کی جائے کہ مزید صحت کا خطرہ برقرار نہیں رہتا۔
جموں و کشمیر
سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل
سری نگر،سری نگر میں ‘سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز’ (سی آئی ٹی یو) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مئی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کی تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے خلاف مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔
پروگرام کا آغاز شکاگو کے ‘مارکیٹ افیئر’ کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا جن کی عظیم قربانیوں نے دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ یومِ مئی مزدوروں کے اتحاد، استقامت اور انصاف کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر کے صدر اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا مزدور کبھی انتہائی نامساعد حالات میں 17 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور تھے۔آج ہمیں جو حقوق حاصل ہیں—چاہے وہ باقاعدہ اوقاتِ کار ہوں، مناسب اجرت ہو یا بنیادی تحفظ—یہ کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیے، بلکہ یہ دہائیوں کی انتھک جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
تاریگامی نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جو حقوق حاصل کیے گئے تھے، وہ اب بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور لیبر قوانین کی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا:
“جب تک لوگ آواز نہیں اٹھاتے، کوئی نہیں سنتا۔ تبدیلی تب ہی آتی ہے جب مزدور متحد ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔”
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے مزید کہا کہ یومِ مئی محض ماضی کی یاد منانا نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—جو معاشرے کو سماجی انصاف، محنت کی عظمت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے تمام محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور منظم رہیں۔
اس تقریب میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
بہتر ریل خدمات سے معیشت اور صنعت دونوں کو تقویت: اشونی ویشنو
جموں، وزیر ریل اشونی ویشنو نے جمعرات کے روز کہا کہ بہتر ریلوے انفراسٹرکچر مقامی مصنوعات کی آسان نقل و حمل کو ممکن بنا کر جموں و کشمیر کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مسٹر ویشنو نے آج سری نگر-کٹرا وندے بھارت ایکسپریس کی جموں توی تک توسیعی سروس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جموں توی اسٹیشن کو شمالی ہندوستان کے اہم ترین اسٹیشنوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے کے لیے ایک ‘گیٹ وے’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کنیا کماری، ہاوڑہ، ممبئی اور دیگر بڑے شہروں سے براہِ راست رابطے کی وجہ سے یہ اسٹیشن عوامی آمد و رفت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
وزیر ریل نے کہا کہ جموں و کشمیر، جسے اکثر “زمین پر جنت” کہا جاتا ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں اور پرسکون جھیلوں کے لیے مشہور ہے۔ بہتر ریل رابطوں سے سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ ملک بھر سے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں کے مناظر اور متحرک ثقافت کا تجربہ کر سکیں گے۔
اشونی ویشنو نے واضح کیا کہ ریلوے کا نظام یہاں کی مقامی صنعتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہا ہے۔ یہاں کے خشک میوہ جات، پشمینہ شال، سیب اور ہاتھ سے بنے قالینوں کی ملک بھر میں زبردست مانگ ہے۔ بہتر ریل رابطے کے باعث یہ سامان اب ملک کی بڑی منڈیوں تک تیزی سے اور کم لاگت میں پہنچ رہا ہے، جس سے مقامی لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنی زیادہ بلندی پر ریل کا آپریشن ہندوستان کا پہلا تجربہ ہے، جو مستقبل کے منصوبوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ اس ریل لائن نے مال برداری میں بہتری لائی ہے، جس سے کھاد، دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی ترسیل آسان ہوگئی ہے۔ چیری جیسی نازک فصلوں کو اب پارسل سروس کے ذریعے براہِ راست مارکیٹ بھیجا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
وزیر موصوف نے اختتام پر کہا کہ مستقبل میں ہمالیہ کے علاقوں میں ریل کے سفر کو محفوظ اور قابل بھروسہ بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی، پلوں اور سرنگوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
وزیر ریل اشونی ویشنو نے جموں و کشمیر میں ریلوے کی ترقی کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات فراہم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک “انقلابی تبدیلی” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک کی تکمیل سے وادی کشمیر اب ملک کے باقی ریل نیٹ ورک سے مکمل طور پر جڑ چکی ہے۔ دنیا کے بلند ترین چناب ریل پل اور انجی کھڈ پل جیسے انجینئرنگ کے بے مثال نمونوں نے ہر موسم میں بلاتعطل ریل رابطے کو یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس انفراسٹرکچر کی بدولت مال برداری کے وقت میں نمایاں کمی آئی ہے اور وادی قومی سپلائی چین کا اہم حصہ بن گئی ہے۔
اشونی ویشنو نے ریلوے منصوبوں کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بہتر انفراسٹرکچر کے باعث مقامی تجارت کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر سے ملک کے دیگر حصوں تک اب تک تقریباً دو کروڑ کلو گرام سیب ریلوے کے ذریعے پہنچائے جا چکے ہیں، جبکہ بہتر لاجسٹکس کی بدولت ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی نقل و حمل سستی ہونے سے اس کی قیمت میں فی بوری تقریباً 50 روپے تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔ مزید برآں غذائی تحفظ کے تحت جنوری میں 2,768 میٹرک ٹن چاول لے جانے والی پہلی مال گاڑی اننت ناگ پہنچی، جبکہ اس سے قبل اناج اور گجرات سے نمک کی ترسیل بھی ریل کے ذریعے ممکن ہوئی۔
انہوں نے نئی تجارتی راہوں کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احمد آباد سے جموں و کشمیر کے لیے پہلی بار ڈیری مصنوعات کی مال گاڑی روانہ کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ امیزون نے بھی وادی میں اپنی خدمات شروع کر دی ہیں، جس کے تحت آدرش نگر سے بڈگام تک سامان کی ترسیل اب 30 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہو گئی ہے، جو ای-کامرس کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے وزیر ریل نے بتایا کہ جموں توی اسٹیشن کی تعمیرِ نو اور توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مسافروں کی تعداد کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ قاضی گنڈ اور بارہمولہ کے درمیان ریلوے لائن کی ڈبلنگ کا عمل جاری ہے، جس سے سفر مزید تیز اور آسان ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پونچھ-راجوری ریل لنک اور اڑی-بارہمولہ توسیع جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے مکمل ہونے سے دور دراز اضلاع پہلی بار قومی ریل نیٹ ورک سے جڑیں گے اور تعلیم، صحت اور مقامی صنعتوں کو تقویت ملے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف سرحدی اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں اضافہ ہوگا بلکہ وہاں کے شہریوں کی زندگی میں خوشحالی آئے گی اور سیاحت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں منشیات فروشوں کو دہشت گردوں کی طرح سمجھا جائے گا: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیاء کی تجارت کے خلاف اسی سختی سے کارروائی کی جائے گی جیسے دہشت گردی کے خلاف کی جاتی ہے اور اس کاروبار کو “خاموش دہشت گردی” قرار دیا جو نوجوانوں کو تباہ اور معاشرے کو کمزور کر رہی ہے۔
منوج سنہا نے ضلع ڈوڈہ میں “ڈَرگ فری جموں و کشمیر” مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف عوامی تحریک لوگوں کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہے اور اس لعنت کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ متحد ہو کر آواز اٹھائے۔
انہوں نے کہاکہ “میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ منشیات کا استعمال صرف قانون و نظم کا مسئلہ نہیں بلکہ خاموش دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ دراصل بھیس بدلا ہوا دہشت گردی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ خطرہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو تباہ، خاندانوں کو کمزور اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہاکہ “ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات فروشوں کے ساتھ قانون کے تحت ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ وہ معاشرے، انسانیت اور ہمارے نوجوانوں کے دشمن ہیں۔ ہم اس خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہر اسمگلر، ہر مقامی منشیات فروش اور ہر وہ فرد جو اس نیٹ ورک کا حصہ ہے، کی نشاندہی کر کے اسے جیل میں ڈالا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ “میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک اس زہر کو پھیلانے والے نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔”
یواین آئی۔ ظإ ا
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان7 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان7 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر3 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا7 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا7 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار











































































































