دنیا
ایم وی ہونڈیئس پر سوار امریکی شہریوں میں سے ایک کا ہنٹا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
واشنگٹن، ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز سے وطن واپس آنے والے 17 امریکی شہریوں میں سے کم از کم ایک شخص ہنٹا وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔
امریکی محکمۂ صحت نے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔ امریکہ کے 17 شہریوں اور امریکہ میں مقیم ایک برطانوی شہری کو ہنٹا وائرس انفیکشن کے خدشے کے پیش نظر پیر کی علی الصبح خصوصی نگرانی اور طبی معائنے کے لیے ریاست نیبراسکا منتقل کیا گیا۔ یہ تمام افراد ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز پر سوار تھے، جہاں اینڈیز ویریئنٹ ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ وائرس عموماً چوہوں جیسے کترنے والے جانوروں سے پھیلتا ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جہاز پر یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوا ہو۔ اب تک اس جہاز سے وابستہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر بیمار ہیں۔
خصوصی طیارہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح 2:30 بجے اوماہا کے ایپلی ایئر فیلڈ پہنچا۔ اس میں 17 امریکی شہری اور ایک برطانوی شہری سوار تھا جو امریکہ میں ہی رہائش پذیر ہے۔
امریکی محکمۂ صحت و انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) نے اتوار کی رات بتایا کہ مسافروں میں سے ایک شخص کے ٹیسٹ میں وائرس کے لیے “کمزور مثبت” نتیجہ آیا ہے، جبکہ دوسرے مسافر میں ہلکی علامات پائی گئی ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر دونوں کو طیارے میں خصوصی بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا گیا۔
ایچ ایچ ایس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ محکمہ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ امریکی شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق مسافروں کو پہلے اوماہا میں واقع یونیورسٹی آف نیبراسکا میڈیکل سینٹر کے “ایمرجنگ اسپیشل پیتھوجن ٹریٹمنٹ سینٹر” منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہلکی علامات والے مسافر کو اس کے آخری مقام پر موجود دوسرے خصوصی علاج مرکز بھیجا جائے گا۔
نیبراسکا میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ جس مسافر کی رپورٹ مثبت آئی ہے، اس میں فی الحال کوئی علامات موجود نہیں، تاہم اسے براہِ راست بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا جائے گا۔ دیگر مسافروں کو قومی قرنطینہ یونٹ میں نگرانی اور ٹیسٹنگ کے لیے رکھا جائے گا۔
اسپین کے وزارتِ صحت کے مطابق یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول کے ایک اہلکار نے جہاز پر جا کر مسافروں کا معائنہ کیا تھا۔ وزارت نے کہا کہ ایک ٹیسٹ میں نتیجہ “کمزور مثبت” سمجھا گیا، اگرچہ ہسپانوی حکام کے مطابق وہ فیصلہ کن نہیں تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میں رپورٹ منفی آئی۔
ہسپانوی حکام نے کہا کہ متعلقہ مسافر میں کیپ وردے میں قیام کے دوران کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، لیکن امریکی حکام نے احتیاطاً اسے مثبت تصور کرتے ہوئے خصوصی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے مسافر کو 6 مئی کو ہلکی کھانسی ہوئی تھی، جو اسی دن ختم ہو گئی تھی۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق سی ڈی سی کے حکام ٹینیرائف سے مسافروں کے اترنے کے بعد سے مسلسل ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ بیجنگ اہم کاروباری شخصیات کو بھی ساتھ لے گئے، تجارتی مذاکرات پر عالمی نظریں
بیجنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی وفود کے درمیان تجارتی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر اپنے ہمراہ ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی کئی بڑی شخصیات کو بھی چین لے کر گئے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشل ٹروتھ‘‘ پر بتایا کہ ان کے وفد میں این ویڈیا کے بانی اور سی ای او جینسن ہوانگ، ایلون مسک، ایپل کے سی ای او ٹم کک، بلیک راک کے سربراہ لاری فنک، بوئنگ کے کیلی آؤٹبرگ سمیت متعدد نمایاں کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کارگل کے برايان سائکس، سٹی گروپ کی جین فریزر، جی ای ایرواسپیس کے لاری کالب، گولڈمین سیکس کے ڈیوڈ سولومون، مائکرون ٹیکنالوجی کے سنجے مہروترا اور کوالکومکے کرسٹیانو آمون بھی وفد میں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کریں گے کہ چین اپنی مارکیٹ مزید کھولے تاکہ عالمی تخلیق کار اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں اور چین کی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق اس سربراہی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے نئے میکانزم پر اتفاق متوقع ہے، جبکہ چین کی جانب سے بوئنگ کے طیاروں، زرعی مصنوعات اور توانائی کی خریداری کے اعلانات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت شروع ہونے کے بعد امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چین امریکی پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے، خاص طور پر جدید سیمی کنڈکٹرز اور چپ ٹیکنالوجی کی برآمدات سے متعلق پابندیوں کے حوالے سے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ بیجنگ سے یہ مطالبہ بھی کریں گے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ اہم سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے
بیجنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہم سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال، علاقائی کشیدگی اور ایران سے متعلق جاری جنگ سمیت اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کے دورۂ چین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ واشنگٹن کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق دونوں صدور ملاقات کے دوران عالمی امن، اقتصادی تعاون اور مختلف بین الاقوامی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ ایران جنگ کے معاملے پر ’’طویل بات چیت‘‘ کریں گے۔
یواین آئی م س
دنیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
تہران، ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ پیشگی شرائط رکھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا، جس میں ایران کے کئی سینیئر رہنما جاں بحق ہو گئے تھے۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکہ کی حالیہ 14 نکاتی امن تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے “خودسپردگی کی مانگ” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سفارت کاری کے ذریعے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش ہے جسے امریکہ اور اسرائیل فوجی کارروائی سے حاصل نہیں کر سکے۔
آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ایجنسی ‘فارس’ نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران صرف اسی صورت میں براہ راست مذاکرات کی طرف لوٹے گا جب اس کے بنیادی مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ ایران کی ان پانچ شرائط میں درج ذیل نکات میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کا خاتمہ، ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ،اسلامی جمہوریہ کے منجمد اثاثوں کی بحالی،جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کی باقاعدہ تسلیم شدگی شامل ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہی پانچ مطالبات مذاکرات کی بحالی کی بنیاد ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر ان میں سے اکثر مطالبات، خاص طور پر جنگی معاوضے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ نے انہیں “ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔
اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا صرف ایک دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
دریں اثنا، ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اس کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔ ایرانی فوجی یونٹوں نے ملک کے گرد و نواح میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق، ان مشقوں کا مقصد امریکہ یا اسرائیل کے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کی تیاری ظاہر کرنا ہے۔ آئی آر جی سی کے بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ “شہید کمانڈر” نامی ان پانچ روزہ مشقوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی افواج “کسی بھی مقام اور کسی بھی وقت” فوری جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا6 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا5 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
ہندوستان7 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا4 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا6 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
دنیا1 week agoامریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی : باقر قالیباف












































































































