تازہ ترین
ہندوستانی فوج نریندر مودی کی نجی جاگیر نہیں: راہل گاندھی

خبراردو :کانگریس صدرراہل گاندھی نے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی بنیادی مدوں سے عوام کو بھٹکانے کے لئے روز نئی نئی باتیں کر رہے ہیں اس سے صاف ہے کہ مودی حکومت جانے والی ہے۔
نریندر مودی کے تازہ بیانات کی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوے کہا ہے کہ ’’آرمی نریندر مودی کی پرسنل پراپرٹی نہیں ہے۔ فوج ہندوستان کی ہے کسی ایک شخص کی نہیں ہے اور وزیر اعظم کو فوج کو بے عزت نہیں کرنا چاہیے‘‘۔
راہل گاندھی نے مزید کہا ’’جن سرجیکل اسٹرائک کا کانگریس نے ذکر کیا ہے وہ کانگریس نے نہیں بلکہ وہ فوج نے کی ہیں اور نریندر مودی اگر کہتے ہیں کہ یہ ویڈیو گیم ہے تو کانگریس کی نہیں بلکہ فوج کی بے عزتی کرتے ہیں‘‘۔
مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے پر راہل گاندھی نے کہا کہ’’مسعود اظہر ایک دہشت گرد ہے۔ اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اس کو وہاں بھیجا کس نے۔ اس کو آج دہشت گرد بتایا جا رہا ہے لیکن وہ پاکستان پہنچا کیسے۔ کیا کانگریس نے وہاں پہنچایا۔ کس حکومت نے دہشت گردی کے سامنے جھک کر اس کو پاکستان بھیجا۔ کانگریس نے تو نہیں بھیجا۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی سمجھوتے کرتی ہے۔ کانگریس نے کسی دہشت گرد کو پاکستان نہیں بھیجا، اور نہ ہی بھیجیں گے‘‘۔
کانگریس صدر نے واضح طور پر الیکشن کمیشن کی کارکرادگی پر سوال کھڑے کیے ’’جہاں بی جے پی کے معاملے ہیں وہاں الیکشن کمیشن کا معاملہ سیدھا ہے اور جہاں اپوزیشن کی بات آتی ہے وہاں الیکشن کمیشن جانبدار نظر آتا ہے۔ دراصل مودی حکومت نے آئنی اداروں پر قبضہ کر رکھا ہے اور الیکشن کمیشن پر بھی اس کا اثر ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن جو کچھ بھی کرے، لیکن ملک کے عوام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے‘‘۔
صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ’’اصل مسائل روزگار، کسان، بدعنوانی، آئینی اداروں پر حملہ ہے اور وزیر اعظم ان مسائل کا سامنا نہیں کر پا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایسے بیان دے رہے ہیں اور ایسے مدے اٹھا رہے ہیں جن سے ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹ جائے‘‘۔
راہل نے معیشت کے مدے ہر کہا کہ مودی حکومت نے ملک کی معیشت کو برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا معیشت ک تباہی کی وجہ سے پہلے سے موجود بے روزگاری میں مزیر اضافہ ہوا ہے اور آج ہندوستان میں 45 سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔
انتخابی منشور کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ کانگریس کے منشور کا سب سے پہلا باب ہی بے روز گاری ہے اور ہم نے یہ واضح کیا ہے کہ ہم کیسے ’نیائے‘ کریں گے اور اس پر کیسے عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا نوٹ بندی کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لئے کانگریس نے ’ری مونیٹائزیشن‘ کرنے کا طریقہ اپنے منشور میں لکھا ہے جس سے مڈل کلاس کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ایک تاریخی منصوبہ بنایا ہے جس کے بعد مڈل کلاس کا کوئی بھی شخص اگر کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے تین سال کے لیے کسی سے کوئی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ تین سال کے بعد آپ حکومت کے پاس جائیں گے اور پھر اس کے بارے میں تفصیل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے منشور میں نوجوانوں کے تعلق سے کچھ ہے اور روزگار کے بارے میں خاموش ہے۔ پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں نے صحافیوں سے گزارش کی کہ وہ وزیر اعظم سے کہیں کہ پریس کانفرنس کیا کریں اس سے بین الاقوامی میڈیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔
کانگریس کی کتنی سیٹیں آئیں گی اس سوال پر انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا پہلا ہدف بی جے پی کو، نریندر مودی کو ہرانے کا ہے۔ ہندوستان کے جو ادارے ہیں ان کو بچانے کا ہے۔ ہم نے ہماری پوزیشن صاف کر دی ہے۔ انتخاب سے پہلے ہم ان چیزوں کی بات نہیں کرنے جا رہے ہیں۔ انتخاب کے بعد کریں گے کیونکہ اس سے پہلے یہ چیزیں ڈسٹریکٹ کرتی ہیں‘‘۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین5 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان3 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا2 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین5 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر3 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی




































































































