Connect with us

تازہ ترین

کون، کب کتنی مدت تک بھارتی وزیراعظم رہا

Published

on

خبراردو: بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک ہونے والے انتخابات کی پولنگ کے آخری دن ہی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اس بار بھی نریندر مودی اتحادیوں کی حمایت کے ساتھ ایک بار پھر بھارت کے وزیر اعظم بن جائیں گے اور یہ چہ مگوئیوں سچ ثابت ہوئیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نریندر مودی کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنہا 300 سے زائد نشستیں حاصل کیں جب کہ مجموعی طور پر بی جے پی کی سربراہی میں بننے والے سیاسی اتحاد نے 350 نشستیں حاصل کیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بی جے پی کو اتنی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور ساتھ ہی 1952 کے بعد کانگریس کے علاوہ کوئی دوسری جماعت پہلی بار ریکارڈ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

اگر بی جے پی چاہے تو وہ تنہا بھی حکومت بنا سکتی ہے اور نریندر مودی کسی اتحادی سیاسی جماعت کے ووٹ کی حمایت کے بغیر ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بن جائیں گے، کیوں کہ انہیں وزیر اعظم بننے کے لیے 272 ووٹ درکار ہوں گے اور ان کی پارٹی کے ووٹ ہی 300 سے زائد ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے اتحادیوں سمیت 336 نشستیں حاصل کی تھیں مگر اس بار یہ پارٹی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

بی جے پی کی واضح برتری کے بعد نریندر مودی ہی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنائے گئے، کیوں کہ بی جے پی نے کسی اور امیدوار کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان ہی نہیں کیا تھا۔

نریندر مودی مجموعی طور پر بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم ہیں اور انہیں اب تک نہرو و گاندھی خاندان کے بعد سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے والے وزیر اعظم کا درجہ حاصل ہے۔

انگریزوں سے آزادی کے بعد بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں جہاں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات 17 بار منعقد ہوچکے ہیں، وہیں اب تک بھارت پر 15 وزیر اعظم حکمرانی کر چکے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز پنڈت جواہر لال نہرو کے پاس ہے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم بھی تھے۔

بھارت کے اب تک ہونے والے 15 وزرائے اعظم میں سے پنڈت جواہر لال نہرو وہ واحد شخص تھے جو تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے اور ایک بار وہ انگریزوں کی جانب انتقال اقتدار کے تحت وزیر اعظم بنائے گئے اور یوں وہ سب سے زیادہ عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔

اگرچہ ان کی طرح اٹل بہاری واجپائی بھی تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے، تاہم ان کی وزارت عظمیٰ کی مدت 2 بار منتخب ہونے والے وزریر اعظم من موہن سنگھ سے بھی کم ہے۔

ان دونوں کے علاوہ بھارت کے 15 میں سے 5 وزیراعظم دو دو بار عہدے پر براجمان ہوئے۔

دو بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے والے دیگر وزرائے اعظم میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی، ان کے بیٹے راجیو گاندھی، گلزاری لال نندا، من موہن سنگھ اور نریندر مودی شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دو بار وزیر اعظم رہنے کے باوجود اقتدار میں سب سے کم عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کا اعزاز گلزاری لال نندا کے پاس ہے۔

گلزاری لال نندا مجموعی طور پر دونوں مدتوں کے دوران محض 26 دن کے لیے بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ وہ پہلی اور دوسری مدت کے دوران محض 13، 13 دن کے لیے وزیر اعظم بنے۔

بھارت کے وزرائے اعظم کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے اور کچھ افراد اتفاقی طور پر وزیر اعظم بھی بنے۔

ایسے وزرائے اعظم میں اٹل بہاری واجپائی بھی ہیں جو پہلی بار 1996 میں وزیر اعظم بنے تو محض 16دن ہی عہدے پر براجمان رہ سکے اور وہ سیاسی اتحاد ہی بکھر گیا جس کے تحت وہ وزیر اعظم بنے تھے۔ علاوہ ازیں من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ انہیں کانگریس نے مجبوری کے تحت وزیر اعظم بنایا۔

ان دونوں وزرائے اعظم کے علاوہ ایچ بی دیوے گوڑا کو بھی بھارت کا اتفاقی اور معجزاتی وزیر اعظم مانا جاتا ہے۔

پنڈت جواہر لال نہرو (16 سال 286 دن)

پنڈت جواہر لال نہرو نہ صرف آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے بلکہ وہ اس سے پہلے بھی ہندوستان کے مقبول سیاسی رہنما تھے اور انہیں موہن داس گاندھی کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔

وزیر اعظم بننے سے قبل ہی وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے اور پھر انگریزوں سے آزادی کے بعد وہ برٹش حکومت کی جانب سے انتقال اقتدار کے سیٹ اپ کے تحت 1947 میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔

نہرو پہلی مرتبہ کسی انتخابات کے بغیر ہی اقتدار کی منتقلی کے لیے انگریز سرکار کی جانب سے بنائے گئے سیٹ اپ کے تحت وزیر اعظم بنے تھے۔

بعد ازاں 1952 میں بھارت میں پہلے عام لوک سبھا انتخابات کرائے گئے جن میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور پہلی بار منتخب وزیر اعظم بنے۔

پنڈت جواہر لال نہرو جہاں بھارت کے پہلے اور دوسرے وزیر اعظم بھی بنے، وہیں وہ بیک وقت وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم وزارتوں کے سربراہ بھی تھے۔

پہلی منتخب حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھارت میں 1957 میں دوسرے انتخابات کرائے گئے اور ایک بار پھر کانگریس نے میدان مارلیا اور تیسری بار بھی جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے۔

لوک سبھا کے تیسرے انتخابات 5 سال بعد مئی اور اپریل 1962 میں ہوئے اور ایک مرتبہ پھر کانگریس کو فتح حاصل ہوئی اور جواہر لال نہرو وزیر اعظم بنے، مجموعی طور پر انہوں نے تقریبا 17 سال تک بطور وزیر اعظم خدمات سر انجام دیں۔

بھارت کے نئے آزاد ملک بننے اور اسے کئی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی و بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنے میں جواہر لال نہرو کو محنت کرنا پڑی اور ساتھ ہی ساتھ انہیں چین، پاکستان، امریکا اور روس جیسے ممالک سے معاملات کو بھی انتہائی ہوشیاری سے دیکھنا پڑا جس وجہ سے ان کی صحت خراب ہوتی گئی اور بالآخر وہ 27 مئی 1964 کو چل بسے۔

وہ مجموعی طور پر 16 سال 286 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔

گلزاری لال نندا (26 دن)

بھارت کے پہلے اور طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے جوہر لال نہرو کے اچانک انتقال کے بعد اس وقت وفاقی وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے گلزاری لال نندا کو 27 مئی کو نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔

گلزاری لال نندا کو محض 13 دن کے لیے 27 مئی سے 9 جون تک وزیر اعظم بنایا گیا بعد ازاں کانگریس نے اپنی پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما لال بہادر شاستری کو وزیر اعظم منتخب کیا۔

تاہم بعد ازاں 1966 میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد ایک بار پھر گلزاری لال نندا کو 11 جنوری 1966 سے 24 جنوری 1966 تک دوسری بار نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔

گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر نگراں وزیر اعظم بنے اور وہ مجموعی طور پر 26 دن تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہے۔
وہ بھارت کے پہلے نگراں وزیر اعظم بھی بنے۔

لال بہادر شاستری (ایک سال 216 دن)

لال بہادر شاستری کو بعض سیاسی ماہرین بھارت کا دوسرا وزیر اعظم تسلیم کرتے ہیں، کیوں کہ گلزاری لال نندا لوک سبھا امیدواروں کے ووٹوں کے بغیر ہی وزیر اعظم بنے تھے۔

لال بہادر شاستری 9 جون 1964 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور ان ہی کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ 1965 میں شروع ہوئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کو بند کرنے کے لیے ازبکستان کے شہر تاشقند میں دونوں ممالک نے جنگی بندی کا معاہدہ کیا اور لال بہادری شاستری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

تاہم تاشقند معاہدے کے اگلے ہی دن یعنی 10 جنوری 1966 کو وہ تاشقند میں ہی مبینہ دل کا دور پڑنے سے چل بسے، ان کے اہل خانہ نے ان کی موت پر کئی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ لال بہادری شاستری کو کبھی کسی طرح کا دل کا عارضہ نہیں رہا۔

لال بہادر شاستری بھارت کے واحد وزیر اعظم ہیں جن کی موت بیرون ملک ہوئی اور ساتھ ہی وہ دنیا کے ان چند وزرائے اعظم میں بھی شمار ہوتے ہیں جن کی موت بیرون ممالک میں اعلیٰ حکومتی و ریاستی اجلاس کے دنوں کے دوران ہوئی۔
وہ مجموعی طور پر ایک سال 216 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

اندرا گاندھی (11 سال 59 دن)

بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی واحد بیٹی اندرا گاندھی ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، پہلی بار وہ 1966 میں لال بہادر شاستری کی وفات کے بعد وزیر اعظم بنیں اور لوک سبھا کے 1967 میں ہونے والے انتخابات میں بھی ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور وہ ہی وزیر اعظم برقرار رہیں۔

اندرا گاندھی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان کو دو لخت کرنے کی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور واضح طور پر انہوں نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی اور وہ دنیا کی پہلی حکمران تھیں جنہوں نے بنگلہ دیش کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔

اندرا گاندھی کی جانب سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے بعد ان کی پارٹی میں ہی اختلافات سامنے آئے اور کئی رہنما ان سے روٹھ گئے، کیوں کہ وہ کانگریس کی پالیسی سے ہٹ کر کام کر رہی تھیں، سینیئر سیاستدانوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے نئی کانگریس پارٹی کا اعلان کیا اور کہا کہ ماضی کی کانگریس ضم ہوچکی۔

اندرا گاندھی کو والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد طویل عرصے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ مجموعی طور پر 2 مدتوں میں 11 سال سے زائد عرصے تک اپنے قتل تک وزیر اعظم رہیں۔

اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے 1980 میں وزیر اعظم بنیں اور دوسری بار وہ ایسے حالات میں وزیر اعظم بنیں جب ان کے خلاف بھارت بھر میں نفرت پھیلی ہوئی تھی، کیوں کہ انہوں نے پہلی بار وزارت عظمیٰ کے دوران 1975 میں ایمرجنسی نافذ کرکے کئی سیاسی مخالفوں کو سبق سکھانے سمیت عام سیاسی کارکنان اور جماعتوں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا تھا۔

اندرا گاندھی کو 31 اکتوبر 1984 میں اپنے محافظوں نے ہی گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

وہ والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم بننے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں، وہ مجموعی طور پر 11 سال 59 دن تک بھارت کی وزیر اعظم رہیں۔

مرار جی ڈیسائی (2 سال 116 دن)

اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد 1977 میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں کانگریس سے خفا ہوکر الگ ہونے والے رہنماؤں کی پارٹی جنتا دل نے اکثریت حاصل کی اور کانگریس کے خفا رہنما مرار جی ڈیسائی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

انہیں بھارت کے عمر رسیدہ ترین وزیر اعظم کا اعزاز بھی حاصل ہے جو 84 سال کی عمر کے بعد وزیر اعظم بنے اور انہیں یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

وہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں نائب وزیر اعظم بھی تھے، لیکن اصولی سیاست کی وجہ سے ان کے اندرا گاندھی سے اختلافات بھی ہوئے اور بعد ازاں انہیں اندرا گاندھی کے حکم پر جیل میں بھی ڈالا گیا۔

مرار جی ڈیسائی نے پرانی پارٹی کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے جنتا دل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی کی ٹکٹ پر انتخابات جیتے اور وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو کانگریس کے علاوہ کسی دوسری جماعت سے اس عہدے پر پہنچے تھے۔

وہ مجموعی طور پر ڈیڑھ برس سے بھی کم یعنی ایک سال 116 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

چرن سنگھ (170 دن)

مرار جی ڈیسائی کی جانب سے عمر رسیدہ ہونے کے باعث وزارت عظمیٰ سمیت تمام سیاسی و حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد جنتا پارٹی کے ہی چرن سگھ وزیر اعظم بنے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کانگریس اور اندرا گاندھی کی مدد سے وزیر اعظم بنے۔

جنتا پارٹی کے کئی رہنما پہلے کانگریس کا حصہ تھے، مگر پھر وہ اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پارٹی چھوڑ گئے تھے۔ رہنماؤں کے چھوڑ جانے کے بعد اندرا گاندھی کو بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور انہوں نے سیاسی چال چلتے ہوئے چرن سنگھ کو وزیر اعظم منتخب کرانے میں کردار ادا کیا۔

لیکن آگے چل کر چرن سنگھ نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا اور ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ انہیں کانگریس اور اندرا گاندھی بلیک میل کرنا چاہتی تھیں اس لیے وہ مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہتے وہ مجموعی طور پر 170 دن تک وزیر اعظم رہے۔

چرن سنگھ کی حکومت کے خاتمے کے بعد 1980 میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر کانگریس کامیاب ہوئی اور اندرا گاندھی دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں اور 4 سال بعد 1984 میں انہیں قتل کردیا گیا۔

وہ ایک سال سے بھی کم عرصے تک عہدے پر رہے، وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر 170 تک رہے۔

راجیو گاندھی (5 سال 35 دن)

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس نے ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم منتخب کیا وہ بھارت کے 7 ویں وزیر اعظم بنے اور اسی سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

راجیو گاندھی کو بھارت کے نوجوان ترین وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے وہ 40 برس کی عمر میں وزیر اعظم بنے، انہیں بھی اپنی والدہ کی طرح کئی طرح کے سیاسی، حکومتی و سیکیورٹی مسائل سے نمٹنا پڑا اور ان ہی مسائل کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی کمی ہوئی۔

راجیو گاندھی کی دور حکومت میں بھارت سری لنکا اور مالدیپ میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور نسلی تصادم میں ملوث ہوا اور ایسے کام کرنے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی پڑی۔

سیاسی بدعنوانیوں، غلط فیصلوں، دیگر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی اور شدت پسندی میں مداخلت کرنے کی وجہ سے راجیو گاندھی کی شہرت میں نمایاں کمی ہوئی اور 1989 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

راجیو گاندھی کو 1991 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، وہ مجموعی طور پر 5 سال 32 تک وزیر اعظم رہے۔

وشوناتھ پرتاب سنگھ (343 دن)

وشوناتھ پرتاب سنگھ نے بھی سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا تھا لیکن اندرا گاندھی کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے بعد وہ بھی پارٹی کو چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے بھی نئی بننے والی پارٹی جنتا دل میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جنتا دل کچھ ہی سال میں کمزور پڑ چکی تھی، جس وجہ سے 1989 کے لوک سبھا انتخابات نے اس نے نیشنل فرنٹ نامی بننے والے سیاسی اتحاد کے ساتھ انتخابات لڑے اور اس اتحاد نے کامیابی حاصل کی جس کے بعد وشوناتھ پرتاب سنگھ کو وزیر اعظم بنایا گیا۔

سیاسی اتحاد کے ذریعے بننے والے وشوناتھ پرتاب سنگھ بھارت کے وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کا ووٹ نہ ملنے کے بعد 343 دن بعد عہدہ چھوڑنا پڑا اور حکومت وقت سے پہلے ختم ہوگئی اور بھارت میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔

لوک سبھا کے 1991 میں ہونے والے انتخابات کے دوران ہی راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا۔

چندر شیکھر (223 دن)

راجیو گاندھی کے قتل کے باوجود لوک سبھا کے انتخابات کا عمل پورا کیا گیا اور اس بار جنتا دل پارٹی یا کانگریس کے بجائے ایک نئی پارٹی واضح برتری کے ساتھ سامنے آئے۔

لوک سبھا کے دسویں انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے اکثریت حاصل کی لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس کے بعد کانگریس نے سماج وادی پارٹی کا ساتھ دیا اور چندر شیکھر بھارت کے نویں وزیر اعظم بنے لیکن ایک سال بعد کانگریس نے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑ دیا اور انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

وہ مجموعی طور پر 223 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

پی وی نرسمہاراؤ (4 سال 330 دن)

کانگریس کی جانب سے چندر شیکھر کا ساتھ چھوڑے جانے کے بعد کانگریس کے پی وی نرسمہا راؤ کو جون 1991 میں وزیر اعظم بنایا گیا اور وہ گاندھی خاندان کے بعد پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور وہ 1996 تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہے، ان کی دور حکومت میں بابری مسجد کو شہید کرنے کا سانحہ بھی پیش آیا۔

وہ پہلے غیر ہندی زبان بولنے والے بھارتی وزیر اعظم تھے، ان کا تعلق جنوبی بھارت سے تھا اور ان کی مقامی زبان تیلگو تھی وہ وزیر خارجہ و سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکے تھے۔

انہوں نے مجموعی طور پر 4 سال 330 تک وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھائیں۔

اٹل بہاری واجپائی (6 سال 80 دن)

لوک سبھا کے 11 ویں انتخابات 1996 میں ہوئے جن میں اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی نے اکثریت حاصل کی، مگر وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس لیے بی جے پی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی اور اٹل بہاری واجپائی بھارت کے 11 ویں وزیر اعظم بنے۔

مگر محض 13 دن بعد ہی اتحادیوں نے اختلافات کی وجہ سے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اٹل بہاری واجپائی کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

اٹل بہاری واجپائی کے بعد ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنے والی جماعت جنتا دل پارٹی کے ایچ بھی دیوے گوڑا وزیر اعظم بنے اور وہ اپریل 1997 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔

1998 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر بھارتی جنتا پارٹی کو اکثریت ملی اور اٹل بہاری واجپائی ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 13 ماہ بعد 1999 میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر ان کی پارٹی کو کامیابی ملی اور اٹل بہاری واجپائی تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 2004 تک اپنی مدت پوری کی۔

اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کچھ بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا وہ امرتسر کے راستے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔

اٹل بہاری واجپائی کو رومانوی وزیر اعظم بھی مانا جاتاہے، کیوں کہ وہ شاعر بھی تھے اور ان کے چند گانے بولی وڈ فلموں کا حصہ بھی ہیں اور ان کے کئی اداکاروں خصوصی طور پر اس وقت کی مشہور اداکاراؤں سے اچھے تعلقات تھے اور وہ انہیں اکثر ملاقاتوں کے لیے مدعو کرتے رہتے تھے۔

وہ مجموعی طور پر تین ادوار میں 6 سال 80 تک عہدے پر براجمان رہے۔

ایچ بی دیوے گوڑا (324 دن)

اٹل بہاری واجپائی کو جون 1996 میں محض 13 دن کے بعد ہٹائے جانے کے بعد ایچ بھی دیوے گوڑا کو وزیر اعظم بنایا گیا، ان کا تعلق جنتا دل پارٹی سے تھا، ان کے وزیر اعظم بننے کو بھارتی سیاست میں معجزہ قرار دیا جاتاہے اور انہیں اتفاقی وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ دور دور تک ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات نہیں تھے۔

انہوں نے لوک سبھا کے انتخابات بھی نہیں لڑے تھے وہ اس وقت بھارت کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن تھے اور اپنی پارٹی جنتا دل پارٹی کے سربراہ ہونے کی وجہ سے وہ وزیر اعظم بنے۔

وہ راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے دوسرے شخص تھے، ان سے قبل اندرا گاندھی راجیہ سبھا کی رکن ہوتے ہوئے ایک بار وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں۔

ایچ بی دیوے گوڑا جون 1996 سے اپریل 1997 تک وزیر اعظم رہے، وہ مجموعی طور پر 324 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

اندر کمار گجرال (آئی کے گجرال) (332 دن)

ایچ بی دیوے گوڑا کو ہٹائے جانے کے بعد جنتا دل پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن اندر کمار گجرال کو وزیر اعظم بنایا گیا، وہ بھی ایچ بی دیوے گوڑا کی طرح سیاسی اتحاد کے طور پر وزیر اعظم بنے۔

آئی کے گجرال راجیہ سبھا سے وزیر اعظم بننے والے تیسرے شخص تھے۔

ان کے دور حکومت میں اگرچہ بھارت میں کچھ معاشی بہتری آئی، تاہم ان کی حکومت متنازع سیاسی فیصلے کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے، وہ سیاسی اتحاد کے ذریعے ایسے وقت میں وزیر اعظم بنے تھے جب ان کے اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے وفاقی وزرا، ریاستی وزرا اور ریاستی وزرائے اعلیٰ کے خلاف کرپشن کے کیسز چل رہے تھے اور ان پر کرپٹ سیاستدانوں کو تحفظ دینے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں ان کے دور حکومت میں بھارت کے ایک سے زائد ریاستوں میں گورنر راج بھی نافذ کیا گیا، وہ مجموعی طور پر 332 دن تک عہدے پر براجمان رہے۔

من موہن سنگھ (10 سال 2 دن)

ڈاکٹر من موہن سنگھ کو بھی بھارت کا اتفاقی وزیر اعظم مانا جاتا ہے، کیوں کہ وہ بھی لوک سبھا سے نہیں بلکہ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے وزیر اعظم بنائے گئے۔

من موہن سنگھ وزیر اعظم بننے سے قبل اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے جب کہ وہ اس سے قبل کانگریس کی اتحادی حکومتوں کے دوران وزیر خزانہ سمیت کئی اعلیٰ وزارتوں پر براجمان رہ چکے تھے۔

من موہن سنگھ اپنی پوری سیاسی زندگی میں کبھی بھی لوک سبھا کے رکن نہیں رہے، تاہم وہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتے رہے اور پھر وہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوتے رہے۔

2004 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں بننے والے سیاسی اتحادی نے کامیابی حاصل کی تو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے من موہن سنگھ کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔

من موہن سنگھ بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم بھی بنے، ان کی دور حکومت میں بھارت نے ممبئی حملوں سمیت دیگر دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کیا، علاوہ ازیں ان کی دور حکومت میں کرپشن کے کئی اسکینڈل بھی سامنے ائے۔

وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے نہرو کے بعد اپنی پہلی اور دوسری مدت آئینی طور پر مکمل کی، وہ مجموعی طور پر 10 سال تک وزیر اعظم رہے اور 2014 تک انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، وہ مجموعی طور پر 10 سال 2 دن تک بھارت کے وزیر اعظم رہے۔

نریندر مودی (5 سال 3 دن اور دوسری مدت کے لیے موجودہ وزیر اعظم)

نریندر مودی 2014 میں بھارتی جنتا پارٹی کی سرپرستی میں بننے والے سیاسی اتحاد کی جیت کے بعد وزیر اعظم بنے، وہ پہلے وزیر اعظم تھے جو وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے سے قبل ملسلس ریاستی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

وزیر اعظم بننے سے قبل وہ 2001 سے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے آ رہے تھے اور ان کے دور وزارت اعلیٰ میں ہی گجرات میں 2002 میں مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات رونما ہوئے۔

نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات کی مہم کے دوران واضح طور پر ہندو توا اور مسلمانوں سے نفرت کی مہم چلائی، کئی جارحانہ اور متنازع بیانات دیے، لیکن اس کے باوجود وہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی کے بعد بی جے پی کے دوسرے وزیر اعظم ہیں جو مسلسل دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

نریندر مودی کی پہلے دور حکومت میں بھارت میں انتہاپسندی، اقلیتوں کے خلاف تعصب پرستانہ رویوں اور تشدد سمیت وہاں دہشت گردی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

نریندر مودی کی دور حکومت میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھی بھارتی فوج کی جانب سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، علاوہ ازیں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

نریندر مودی کے پہلے دور حکومت میں جہاں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، تشدد اور ہندو انتہاپسندی میں اضافہ ہوا، وہیں انہوں نے معیشت کو بہتر بنانے کے دعوے کے ساتھ کرنسی کے نوٹ بھی اچانک بند کردیے جس وجہ وہاں کئی معاشی مسائل بھی سامنے آئے۔

مجموعی طور پر جہاں نریندر مودی کا پہلا دور حکومت متنازع رہا، وہیں کروڑوں عوام نے نریندر مودی کی سخت پالیسیوں کی تعریف بھی کی اور اسی وجہ سے ہی انہیں اور ان کی پارٹی کو 2019 کے انتخابات میں شاندار کامیابی ملی۔

نریندر مودی دوسری مدت کے لیے جون 2019 سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسری مدت بھی پوری کرلیں گے۔

نریندر مودی کو پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے بعد بھارت کا اب تک کا طاقتور ترین وزیر اعظم بھی مانا جاتا ہے، انہوں نے پہلی مدت کے دوران 5 سال تین دن تک بطور وزیر اعظم ذمہ داریاں سنبھالیں جب کہ وہ دوسری مدت کے لیے 30 مئی 2019 کو وزیر اعظم بنے۔

Continue Reading

دنیا

ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

Published

on

واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔


فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔


ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘


قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔


یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading

دنیا

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او

Published

on

لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔


یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔


ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔


یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading

ہندوستان

آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع

Published

on

نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔


آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔


وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”


وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔


یو این آئی ایف اے

Continue Reading
Advertisement
دنیا19 hours ago

ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

دنیا19 hours ago

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او

ہندوستان20 hours ago

آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع

ہندوستان20 hours ago

سرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے

جموں و کشمیر20 hours ago

آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط

جموں و کشمیر20 hours ago

ہندو مذہب نے کبھی خود کو کسی پر نہیں تھوپا : منوج سنہا

جموں و کشمیر22 hours ago

جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ

دنیا24 hours ago

امریکہ اور خلیجی ممالک کی مخالفت کے باوجود عمان کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے رقم وصول کرنے کا عندیہ

ہندوستان24 hours ago

رام مندر ٹرسٹ نے عقیدت مندوں کی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کیا: کانگریس

دنیا24 hours ago

ایران پر امریکی حملے کے بعد پاسداران انقلاب کا فوری ردعمل

دنیا24 hours ago

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اموات کی تعداد 920 سے تجاوز کرگئی

دنیا24 hours ago

ایران کو کوئی اختلاف ہے تو فون پر بات کر سکتا ہے: جے ڈی وینس

دنیا1 day ago

امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس لگانے کی تیاری، ٹرمپ کو غصہ آ گیا

دنیا1 day ago

فوجی رابطے کا نیا چینل قائم کرنے کا بیان سراسر جھوٹ،ایران کی تردید

دنیا1 day ago

لبنان سے نکل جاؤ ورنہ، حزب اللہ کی اسرائیل کو وارننگ، معاہدہ ماننے سے انکار

دنیا1 day ago

ایران نے چار مرتبہ جہاز پر حملہ کیا جو بالکل اچھا نہیں لگا: ٹرمپ

دنیا1 day ago

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط

دنیا2 days ago

خطے کے چھوٹے ممالک مخصوص یقین دہانیوں سے دھوکہ نہ کھائیں: علی اکبر ولایتی

جموں و کشمیر2 days ago

سرینگر: یومِ عاشورہ پر تاریخی ماتمی جلوس، لیفٹیننٹ گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کی شرکت، ہزاروں عزادار شامل

دنیا2 days ago

وینزویلا میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری، ہلاکتیں 589 تک پہنچ گئیں

جموں و کشمیر2 days ago

پی ڈی پی نے سب سے زیادہ غیر قانونی اور بیک ڈور بھرتیاں کیں: عمر عبداللہ

ہندوستان2 days ago

خصوصی مہم میں چھ ہزار کروڑ روپے کی منشیات تلف کرنے کا ہدف : شاہ

دنیا2 days ago

ایران کا خلیجی ممالک سے مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کی حمایت کا مطالبہ

دنیا2 days ago

ایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا

جموں و کشمیر2 days ago

آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کی لیہ میں لیفٹیننٹ گورنر لداخ سے ملاقات

جموں و کشمیر2 days ago

“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کے ذمے دار امریکہ، اسرائیل اور ایران پر حملوں میں شریک ممالک ہیں: ایران

دنیا2 days ago

امریکہ ایران معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: رافیل گروسی

ہندوستان2 days ago

پاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز میں مال بردار جہاز پر حملہ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں

دنیا2 days ago

ایران کا اربوں ڈالر کمانے کا منصوبہ

دنیا2 days ago

نیویارک میں یومِ عاشور کی مجلس، میئر ظہران ممدانی کی شرکت

دنیا2 days ago

اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے جاری

دنیا2 days ago

خلیجی ملک چاہتے ہیں ایران سے مذاکرات پر اعتماد میں لیا جائے: امریکہ

دنیا2 days ago

امریکہ پاسداران انقلاب کے ساتھ براہ راست چینل قائم کرنے پر متفق

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ

دنیا2 days ago

وینزوئلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 235 ہوئی: وزیر صحت

جموں و کشمیر3 days ago

گلمرگ گونڈولا کیبل کار سروس ایک ماہ بعد دوبارہ بحال

دنیا3 days ago

ایران نے اپنے اثاثوں کےحوالے سے امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

دنیا3 days ago

خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے سے ہی عالمی توانائی کی سپلائی کا تحفظ ممکن ہے: ایران

دنیا3 days ago

اسرائیل کو لبنان کے تمام علاقوں سے نکلنا ہوگا، ورنہ ذلت اور شکست سے دوچار ہوگا: ایران

دنیا3 days ago

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک پر دوطرفہ تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور

دنیا3 days ago

امن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر

دنیا3 days ago

آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف ایران کی مقرر کردہ بحری گزرگاہیں ہی قابلِ قبول ہیں: آئی آر جی سی

دنیا3 days ago

ایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

دنیا3 days ago

وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 167 ،ایک ہزار سے زائد زخمی

ہندوستان3 days ago

موجودہ وقت میں منقسم دنیا ایک حقیقت، استحکام اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون ضروری: جے شنکر

دنیا3 days ago

ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو نے مایوس کیا، یورپ نے بھی ساتھ نہیں دیا: امریکی صدر

دنیا3 days ago

ہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ

دنیا3 days ago

یہ قبول نہیں کرینگے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو: مارکو روبیو

جموں و کشمیر5 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان3 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

جموں و کشمیر4 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین4 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر3 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین5 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین5 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین5 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اہم خبریں5 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ7 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

دنیا4 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

کھیل5 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

ہندوستان2 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

تازہ ترین5 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

کھیل3 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

تازہ ترین5 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

اہم خبریں5 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

دنیا5 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

کھیل4 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین5 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

ہندوستان5 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا4 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

تجزیہ7 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین6 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

دنیا4 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین8 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

جموں و کشمیر5 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

جموں و کشمیر5 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

دنیا4 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تازہ ترین5 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین5 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

دنیا4 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

کھیل5 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر3 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر4 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر5 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں5 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں5 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین5 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر8 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending