تازہ ترین
مرکزی سرکار جموں وکشمیر کے تئیں انتہائی غیر سنجیدہ: غلام احمد میر

خبراردو: کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار ریاستی عوام کے مشکلات سے انتہائی حد تک غیر سنجیدہ ہے۔
کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میرکا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار ریاستی عوام کے مسائل اور مشکلات سے انتہائی حد تک غیر سنجیدہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی عوام جن مصائب و آلام کی آج شکار ہے وہ صرف مرکزی سرکار اور سابق مخلوط حکومت پی ڈی پی، بی جے پی کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط حکومت نے عوامی خواہشات کا سرے عام سودا کرتے ہوئے ریاستی عوام کو مشکلات کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبودیا۔ غلام احمد میر نے مرکزی سرکار پر برستے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی عوام کے مسائل و مشکلات سے انتہائی حد تک غیر سنجیدہ ہوچکی ہے۔جنوبی کشمیرکے شاہ آباد ویریناگ علاقے میں عوامی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے غلام احمد میر نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار مستقبل کیلئے کانگریس پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے کیلئے اپنا رول ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی غلط اور ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں جموں وکشمیر بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور مرکزی سرکار ریاستی عوام کی فلاح و بہبود کے جو بلند بانگ دعوے کررہی ہے وہ زبانی جمع خرچ کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔کانگریس صدر کا کہنا تھا کہ ریاستی عوام اس بات کو بخوبی محسوس کررہی ہے کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کا نظم و نسق راج بھون سے چلانے میں ہی خوشی محسوس کررہی ہے اور اس دوران عوامی حکومت کی عدم موجودگی کے نتیجے میں مرکزی سرکار نے کئی اہم فیصلے لیے جس کے نتیجے میں ریاستی عوام کے اندر اضطرابی کیفیت نے مزید جنم لینا شروع کردیا۔ انہوں نے مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں پائے جارہے خدشات کو دور کرنے کی خاطر شکوک و شبہات کو فوری طور پر دور کریں۔ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی ریاست میں تعمیر و ترقی سے جڑے مسائل کو ایڈرس کرنے کے دعوے کررہے ہیں لیکن دوسری جانب ریاست اور یہاں کے عوام کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹا جارہا ہے۔
لوگوں کو عوامی حکومت کا انتخاب کرنے کے حق سے بھی یکسر محروم رکھا جارہا ہے جس کے نتیجے میں عوام کے اندر بڑے پیمانے پر نفرت اُبھر چکی ہے۔انہوں نے مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وہ ریاستی عوام کااعتماد بحال کرنے کیلئے اسمبلی الیکشن کو فوری طور پر منعقد کرے تاکہ لوگوں کو اپنے مسائل کے تصفیہ کی خاطر لاحاصل کوششیں نہ کرنی پڑیں۔غلام احمد میر کا کہنا تھا کہ کانگریس پارٹی عوامی مسائل کے تصفیہ کیلئے مرکزی سرکار اور گورنر انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے گی۔
کاپرن ڈورو اور دیگر دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو درپیش مشکلات کی مثال پیش کرتے ہوئے کانگریس صدر کا کہنا تھا کہ شاہ آباد بالا کے پنچایت حلقوں سے تعلق رکھنے والے عوام سے مجبوراً 350اور 535روپے بجلی فیس کے طور پر وصول کئے جارہے ہیں جو کہ مقامی آباد ی کیلئے تکلیف دہ معاملہ ہے کیوں کہ یہاں رہائش پذیر آبادی کو آمدنی کے حوالے سے بہت سارے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔غلام احمد میر نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کاپرن ڈورو سے اننت ناگ تک ایس آر ٹی سی گاڑیوں کی سروس کو یقینی بنائیں تاکہ عام لوگوں کیساتھ ساتھ غریب لوگوں کو چلنے پھرنے میں آسانی پید اہو۔انہوں نے پی سی سی صدر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے کاپرن سے ویریناگ کا راستہ ہموار کیا جائے تاکہ لوگوں کو راحت کی سانس نصیب ہوسکے۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان4 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ



































































































