پاکستان
پاکستانی زائرین دو برس بعد اجمیر آئیں گے

حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے عرس کے موقع پر پاکستانی زائرین دو برس کے بعد ایک بار پھر اجمیردرگاہ پہنچیں گے۔
پاکستانی بیچ میں تقریبا 260 کے قریب پاکستانی زائرین موجود ہوں گے جو ٹرین کے ذریعے اجمیر پہنچیں گے
اس دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جانے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں ضلعی کلکٹر وشو موہن شرما کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی اور تمام ضلعی مجسٹریٹ کو پاکستانی زائرین کے آنے کی اطلاع دی گئی۔میٹنگ میں تفصیلی تیاریوں کو مکمل کرنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔
وہیں ضلع کلکٹر وشو موہن شرما نے بتایا کہ 28 فروری کو پاکستانی زائرین اجمیر پہنچیں گے، جہاں سے انہیں چوڑی بازار میں واقع سینٹرل گرلس اسکول میں ٹھہرایا جائے گا۔زائرین کی حفاظت کو لے کر سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہے، پولیس سپرنٹنڈنٹ کنوار راشٹردیپ نے بتایا کہ ‘سکیورٹی کے مکمل انتظامات کے لیے ہدایات دی گئی ہیں اور کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ ہو اس کے لیے بھی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے۔’
پاکستانی زائرین کی سکیورٹی کے لیے اجمیر پولیس کی جانب سے 200 تا 250 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ رہے گی جس سے کسی طرح کی غیر اخلاقی سرگرمیاں نہ کی جاسکے اور وہیں جگہ جگہ پولیس موجود رہے گی۔
پاکستانی زائرین کے لیے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں سے لے کر درگاہ تک پولیس اور انٹلیجنس ایجنسی کا سکیورٹی گھیرا رہے گا جس سے عرس کے دوران پرامن طریقے سے درگاہ کی زیارت کی جاسکے۔(ای ٹی وی)
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
آئندہ 24 گھنٹے میں امریکہ ایران معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع : وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد ، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، حتمی شکل آئندہ 24 گھنٹے میں متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ فریقین امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں اسے حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ جیسے ہی اس امن معاہدے کو حتمی شکل ملے گی، پاکستان فوری طور پر اس پر دستخط کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
وزیراعظم نے اپنی پوسٹ میں مستقبل کے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس تاریخی امن معاہدے کے فوراً بعد، اگلے ہی ہفتے سے تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا تاکہ معاہدے کی تمام تر تفصیلات اور طریقہ کار کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
انھوں نے مذاکرات کے دوران مسلسل تعاون فراہم کرنے پر امریکہ اور ایران کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے ان تمام برادر ممالک کو بھی دل سے سراہا جنہوں نے اس امن عمل کو کامیاب بنانے میں اپنی بھرپور حمایت اور مخلصانہ تعاون پیش کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی امن معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ مجموعی طور پر پورے خطے میں طویل المیعاد اور پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
ابراہم معاہدہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی نیوز چینل ’’سما‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت نہ ہم نے کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کسی نے باضابطہ طور پر ہمیں اس معاہدے میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ممکن نہیں جن پر ’’ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’’ہمارا واضح مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں، اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام تک شامل نہیں ہے۔‘‘
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔
یواین آئی۔ م س
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان4 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































