تازہ ترین
لاک ڈاؤن 5.0: ہندوستان میں ’اَن لاک-1‘ کا آغاز، جانیں کس ریاست میں مل رہی چھوٹ اور کہاں پابندی رہے گی جاری!

ہندوستان میں آج سے کورونا لاک ڈاؤن کا پانچواں مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً دو مہینے سے بند پڑے ملک کو دوبارہ کھولنے کی قواعد شروع ہو گئی ہے۔ مرحلہ وار طریقے سے بندشوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ 30 جون تک چلنے والے لاک ڈاؤن 5.0 کے دوران پابندیاں صرف کنٹنمنٹ زون میں نظر آئیں گی۔ اَن لاک-1 کے پہلے مرحلہ میں مرکزی وزارت داخلہ کی رہنما ہدایات کے مطابق 8 جون سے سبھی مذہبی مقامات، ہوٹل، ریستوران اور شاپنگ مال کھل سکیں گے۔ ہندوستان کی کچھ ریاستوں نے اَن لاک-1 کے تحت اپنے اپنے حساب سے رعایتیں دی ہیں۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی اہم ریاستوں میں آج سے کیا کیا کھلا ہے اور کن ریاستوں نے پابندیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں تشدد کی آگ وہائٹ ہاؤس تک پہنچی، ٹرمپ مع اہل خانہ بنکر میں چھپنے کو مجبور
اتر پردیش:
اتر پردیش میں اَن لاک-1 میں کئی شعبوں میں چھوٹ دی گئی ہے۔ ریاست میں آج سے سبھی ریاستی دفاتر کھل گئے ہیں۔ لیکن دفتر میں تین شفٹ میں کیے جائیں گے، یعنی 9 سے 5، 10 سے 6 اور 11 سے 7 بجے تک۔ ریاست میں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک دکانوں کو کھولنے کی اجازت رہے گی اور اس درمیان سپر مارکیٹ کو کھولنے کی بھی اجازت ریاستی حکومت نے دی ہے۔ علاوہ ازیں مٹھائی کی دکانیں بھی کھلیں گی لیکن صرف پارسل کی سہولت دی گئی ہے۔
یو پی انتظامیہ کے ذریعہ جاری گائیڈ لائنس کے مطابق بینکوئٹ ہال بھی کھل سکیں گے لیکن صرف 30 لوگوں کو ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ سیلون، بیوٹی پارلر بھی کھلیں گے لیکن کورونا سے جڑی رہنما ہدایات پر عمل کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ ریاست میں آج سے پارک بھی کھلیں گے جس کا وقت صبح اور شام 5 بجے سے لے کر 8 بجے تک ہوگا۔ اسٹیڈیم کھولنے کی اجازت بھی انتظامیہ نے دی ہے لیکن ناظرین کے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ٹو وہیلر اور فور وہیلر والوں کو آروگیہ سیتو ایپ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
بڑی بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں 8 جون سے مذہبی مقامات، عبادت گاہوں، شاپنگ مال، ہوٹل اور ریستوراں کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھی ریاستی حکومت نے رہنما ہدایات جاری کر دیئے ہیں جس پر سبھی کو عمل کرنا ہوگا۔
بہار:
بہار حکومت نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری رہنما ہدایات کو اپنی ریاست میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاک ڈاؤن 5.0 میں نتیش حکومت نے لوگوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے ریاست کے اندر بس سمیت سبھی پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کی اجازت دی ہے۔ کنٹنمنٹ زون کو چھوڑ کر بہار کے سبھی اضلاع کی سبھی دکانیں، سرکاری اور نجی دفاتر، ہوٹل اور ریستوراں آج سے پوری طرح کھل جائیں گے۔ حالانکہ یہاں بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ یہ صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔ ریاست میں رات کا کرفیو نافذ رہے گا۔ اس مدت میں صرف میڈیکل سامانوں کی دکانیں، دوا دکانیں اور میڈیکل کلینک ہی کھل سکیں گی۔ 8 جون سے کئی مزید معاشی اور سماجی سرگرمیاں شروع ہوں گی۔ تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ جولائی میں ہوگا۔ 21 کنٹنمنٹ زون کو چھوڑ کر لوگ کہیں بھی آمد و رفت کر سکیں گے۔
مہاراشٹر:
مہاراشٹر حکومت نے اَن لاک-1 کے تحت کسی بھی طرح کی نرمی دینے سے پرہیز کیا ہے۔ بین ریاستی ٹرانسپورٹیشن کی اجازت بھی ادھو حکومت نے نہیں دی ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے کہا ہے کہ پھنسے ہوئے مہاجر مزدوروں وغیرہ کی بین ریاستی اور بین ضلعی آمد و رفت کو جاری رکھا جائے گا اور پورے مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن 5.0 کی مدت کو 30 جون تک بڑھایا گیا ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ طبی اہلکاروں، صفائی اہلکاروں اور ایمبولنس کے لیے بین ریاستی آمد و رفت کی اجازت رہے گی اور گیراج، الیکٹریشین اور پلمبرس کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس درمیان 5 جون سے ریاست میں بازار، دکانیں، کیب اور ٹیکسی چلانے کو منظوری دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 8 جون سے پرائیویٹ دفاتر 10 فیصد ملازمین کے ساتھ کھولے جا سکیں گے۔
گجرات:
گجرات میں رات 9 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو رہے گا۔ سبھی دکانیں شام 7 بجے تک کھلی رہیں گی۔ اس کے علاوہ گجرات ریاستی ٹرانسپورٹ کی بسیں سبھی ضلعوں میں چلیں گی۔ سبھی سرکاری دفاتر پیر سے کھل گئے ہیں۔ حالانکہ نئی گائیڈ لائن کے مطابق ہوٹل، ریستوران، مذہبی مقامات کو ضابطوں کی بنیاد پر کھولے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
راجستھان:
نئی رہنما ہدایات کے مطابق راجستھان میں آج سے سبھی سیاحتی مقامات کھول دیئے گئے ہیں۔ پہلے ہفتہ تک مسافر مفت میں سیاحتی مقامات پر جا سکیں گے۔ تیسرے ہفتے میں نصف پیسہ دے کر سیاحتی مقامات کی سیر کر پائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اروند کیجریوال نے دہلی بارڈر کو ایک ہفتہ تک مزید بند رکھنے کا کیا اعلان
چھتیس گڑھ:
ریاستی حکومت بین ضلعی اور بین ریاستی سفر کے لیے صرف ای-پاس والوں کو اجازت دے گی۔ ریاست 7 جون تک سبھی کھیل احاطوں، اسٹیڈیم اور عوامی پارک کو بھی بند رکھے گی۔
پنجاب:
پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی مرکزی حکومت کی رہنما ہدایات کے مطابق لاک ڈاؤن 30 جون تک بڑھا دیا ہے۔ لیکن یہ لاک ڈاؤن کنٹنمنٹ زون تک ہی محدود رہے گا۔ محکمہ خوردنی اشیاء کو راشن کٹ میں ماسک بھی شامل کرنے کا حکم حکومت پنجاب نے دیا ہے، تاکہ کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
مدھیہ پردیش:
مدھیہ پردیش حکومت لاک ڈاؤن 15 جون تک بڑھانے کے حق میں ہے اور کنٹمنٹ علاقوں میں کوئی رعایت دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ حالانکہ گرین زون میں کچھ مزید راحت دینے پر غور ہو رہا ہے۔ ابھی حکومت اسکولوں کو بھی 13 جون کے بعد کھولنے کے حق میں ہے، لیکن کورونا انفیکشن کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی آخری فیصلہ لیا جائے گا۔
دہلی:
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے لاک ڈاؤن 5.0 کے مدنظر راجدھانی کے لیے کچھ نئی رہنما ہدایات کی جانکاری میڈیا کو دی۔ انھوں نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ایک ہفتے تک دہلی کے بارڈر سیل رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس دوران صرف ضروری خدمات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ نائی کی دکانیں اور سیلون کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اسپا فی الحال بند رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ کیجریوال نے میڈیا کو بتایا کہ آٹو رکشہ میں ایک سواری پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ پہلے دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں پر جو سواریوں کی پابندی تھی، وہ بھی ہٹا لی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دکانوں کو کھولنے کے لیے طاق-جفت کے ضابطے پر عمل کر رہے تھے، لیکن مرکزی حکومت نے ایسا کوئی ضابطہ نہیں بنایا ہے، اس لیے اب سے سبھی دکانیں کھل سکتی ہیں۔
تمل ناڈو:
تمل ناڈو میں اَن لاک-1 کے تحت بین ریاستی بس ٹرانسپورٹیشن، میٹرو اور سَب اَربن ٹرین خدمات پر پابندی جاری رہے گی۔ ریاستی حکومت کے مطابق بین علاقائی اور بین ریاستی سفر کے لیے ای-پاس ضروری ہوگا۔ 40 فیصد اسٹاف کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سبھی نان اے سی ریستوران کو 50 فیصد ملازم کے ساتھ کھانا دستیاب کرانے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ چنئی کے باہر کی صنعتیں اور نجی ادارے، جیسے آئی ٹی کمپنیاں 100 فیصد ملازمین کے ساتھ کام کر سکیں گی۔ شہری علاقوں کے اندر، آئی ٹی کمپنیوں کو دفاتر میں صرف 20 فیصد ملازم رکھنے کی اجازت ہے۔
شمال مشرق کی ریاستیں:
شمال مشرقی ریاستوں میں میگھالیہ نے لاک ڈاؤن کی مدت کو 6 جون تک بڑھا دیا ہے اور گاڑیوں کی بین ضلعی اور بین ریاستی آمد و رفت پر پابندی بھی جاری رکھی ہے۔ میزورم حکومت نے بھی کہا ہے کہ مسافروں کو لے جانے والی گاڑیوں کی سبھی بین ریاستی یا سرحدی آمد و رفت پر پابندی رہے گی۔ میگھالیہ میں کورونا وائرس کے 27 جب کہ میزوم میں ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































