اہم خبریں
سندھ: درجنوں ہندوؤں کا قبولِ اسلام، زبردستی تبدیلیٔ مذہب یا کوئی اور وجہ؟

کراچی — پاکستان کے سوشل میڈیا پر سندھ کے ضلع بدین کے شہر ماتلی کے ایک گوٹھ میں ہندو برادری کے 60 افراد کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کرنے کی ویڈیو زیرِ گردش ہیں جس کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ آیا ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا یا ان کے ساتھ زبردستی کی گئی۔
بھارتی میڈیا پر بھی اس خبر کو بھرپور کوریج دیتے ہوئے اسے زبردستی تبدیلیٔ مذہب قرار دیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر سوالات اُٹھائے ہیں۔
تقریب میں شریک خمیسو، موتی، اچھن اور ڈوڈو بھیل سمیت دیگر افراد کے اسلامی نام رکھنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ان افراد میں سے مسلمان ہونے والے ایک شخص محمد بشیر نے وائس آف امریکہ کو فون پر بتایا کہ ان کے خاندان کے بہت سے لوگ پہلے بھی مسلمان تھے اور اب یہ بھی کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ہونے سے قبل ان کا نام لالو بھیل تھا۔ صرف وہ ہی نہیں بلکہ ان کے قبیلے کے 60 لوگوں میں 13 خواتین نے بھی اسلام قبول کیا ہے۔ انہوں نے اس سے مکمل انکار کیا کہ مذہب کی تبدیلی کے لیے ان پر یا ان کے خاندان کے دیگر افراد پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ڈالا گیا ہے۔
یہ افراد ضلع بدین کے شہر ماتلی کی میونسپل کمیٹی کے سابق چیئرمین اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ سندھ اسمبلی حاجی عبدالغفور نظامانی کے بیٹے عبدالرؤف نظامانی کی زمینوں پر کام کرتے ہیں۔
عبدالرؤف نظامانی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ان تمام افراد نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ ان کے بقول بھیل کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے یہ افراد کئی پشتوں سے انہی کی زمینوں پر کام کرتے آئے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھیل کمیونٹی کے قبیلے کے وہ لوگ جو ان کی زمینوں پر کام کرتے تھے، پہلے بھی اسلام قبول کر چکے ہیں اور اس کے لیے ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ یا زبردستی نہیں کی گئی۔ بلکہ عبد الرؤف نظامانی کے بقول انہوں نے خوشی سے اسلام قبول کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان افراد سے کوئی بھی شخص رابطہ کر سکتا ہے اور ان سے اس بارے میں تصدیق کر سکتا ہے کہ آیا کہ انہوں نے زبردستی دائرہ اسلام میں داخل کیا گیا یا انہوں نے دینِ اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان خاندانوں کو مسلمان کرنے کے لیے گزشتہ 10 برس سے کوشش کر رہے تھے۔
البتہ، انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مسلمان ہونے کے بعد ان لوگوں کی جو بھی مدد کی جا سکے گی وہ کی جائے گی اور یہ ہماری زمینیوں پر یہی لوگ پہلے کی طرح ہی کام کرتے رہیں گے۔
اسلام قبول کرنے پر ان کا قرض معاف اور مالی امداد کی پیش کش؟
واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ کے مختلف علاقوں سے ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں ہندو برادری کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ان کی خواتین کا زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا۔
البتہ، اس کیس پر بات کرتے ہوئے بدین سے ہی تعلق رکھنے والے سوشل ورکر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن مکیش میگھواڑ کا کہنا ہے کہ عام طور پر بھیل کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد انتہائی غریب ہیں اور وہ مختلف زمینداروں کے پاس کام کر کے اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔ جن سے مشکل اوقات میں وہ قرضہ لیتے ہیں اور یوں وہ مکمل طور پر ان زمینداروں ہی کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں۔
مکیش میگھواڑ کے مطابق غربت کی سطح سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ایسے افراد پر ظاہر ہے کہ دباؤ بھی ہوتا ہے اور ایسے میں بعض جاگیردار انہیں اسلام قبول کرنے پر ان کا قرض معاف کرنے کی پیش کش کرتے ہیں۔
اُن کے بقول بدترین غربت میں قرض تلے پھنسے ایسے افراد کو اس سے اچھی کوئی اور ڈیل نہیں مل سکتی اور ایسے میں وہ مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
مکیش میگھواڑ کا کہنا تھا کہ ریاستی سطح پر یا غیر ریاستی سطح پر بھی کوئی ایسے ادارے موجود نہیں جو نچلے طبقے کے ہندو کمیونٹی کے لوگوں کی دیکھ بھال کریں یا ان کی وکالت کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندو کونسل جیسے ادارے بھی عام طور پر کاروباری یا تجارت سے وابستہ ہندوؤں ہی کی مدد کرتے نظر آتے ہیں اور لوئر کلاس کے لوگوں تک ان کی رسائی بالکل نہیں۔
اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا کمیشن کیا کر رہا ہے؟
لیکن دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کئی مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے ہیں جن میں سب سے اہم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن کا قیام ہے اور اس میں تمام اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کا مقصد وفاق اور اس کی اکائیوں میں اقلیتوں کو آئین اور قانون میں دیے گئے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ان کی ترقی کے لیے سفارشات مرتب کرنا اور ہر قسم کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔
کمیشن کے سربراہ شیلا رام نے چند ماہ پہلے یہ بھی بتایا تھا کہ کمیشن نے ملک سے زبردستی تبدیلیٔ مذہب کے خاتمے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ مل کر مجوزہ قانون تیار کر لیا ہے۔
البتہ، عظمیٰ نورانی کا کہنا تھا کہ کمیشن کے پاس سفارشات جاری کرنے کے علاوہ اختیارات کی کمی ہے جس سے یہ کمیشن ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر پا رہا۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان6 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
ہندوستان1 week agoڈی آر ڈی او نے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹارا’ کا کامیاب تجربہ کیا
دنیا3 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا6 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا3 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
تازہ ترین6 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا4 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان5 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
ہندوستان4 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر







































































































