اہم خبریں
جماعت اسلامی وابستگان کیخلاف ابتک کی سب سے بڑی کارروائی

قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) نے اتوار کو کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میںجموں و کشمیر کے14اضلاع میں56 مقامات پر چھاپے مارے۔این آئی اے کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران قابل اعتراض دستاویزات اور الیکٹرانک آلات برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔این آئی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے 14 اضلاع میں جماعت اسلامی کے خلاف درج کیس RC-03/2021/NIA/DLI کے سلسلے میں متعدد مقامات پر تلاشی لی گئی ۔بیان میں کہا گیا کہ اتوار کو سرینگر ، بڈگام ، گاندربل ، بارہمولہ ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، اننت ناگ ، شوپیاں ، پلوامہ ، کولگام ، رام بن ، ڈوڈہ ، کشتواڑ اور راجوری میں 56 مقامات پر تلاشی لی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی تفتیشی ایجنسی نے وزارت داخلہ کے حکم کے مطابق5فروری2021کو جماعت اسلامی کی علیحدگی پسندی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمہ درج کیا ، جو کہ ملک دشمن قانون کے تحت 28فروری2019کو ممنوع قرار دینے کے بعد غیر قانونی تنظیم ہے۔ بیان میں کہا گیا ”تنظیم کے ممبران اندرون اور بیرون ملک عطیہ کے طور پر فلاحی سرگرمیوں کےلئے زکوٰة، اور بیت المال کی شکل میںفنڈز جمع کر رہے ہیں لیکن یہ فنڈ پرتشدد اور علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں“۔ ترجمان نے کہا ہے ” جماعت اسلامی کے جمع کردہ فنڈز کو کالعدم جنگجو تنظیموں جیسے حزب المجاہدین ، لشکر طیبہ وغیرہ کو کارکنوں کے منظم نیٹ ورکس کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔“ بیان میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی متاثر کن نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے اور جموں و کشمیر میں نئے ممبران (رکن) بھرتی کر رہی ہے تاکہ خلل ڈالنے والی علیحدگی پسند سرگرمیوں میں حصہ لیاجاسکے۔ بیان میں کہا گیا کہ اتوار کو تلاشیوں میں کالعدم جماعت کے لیڈروں ، اس کے ممبروں اور ٹرسٹوں کے دفاتر بھی شامل ہیں، جو کہ مبینہ طور پر جماعت اسلامی کے زیر انتظام ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اتوارکی تلاشی کے دوران ، مشتبہ افراد کے گھروں سے مختلف قابل اعتراض دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔
وسطی کشمیر
ذرائع کے مطابق ’این آئی اے ‘ نے سرینگر میں فلاح عام ٹرسٹ نوگام کے دفاتر کے علاوہ غازی معین الاسلام ساکن صورہ، غلام محمد بٹ حال ایچ آئی جی کالونی بمنہ،بشیر احمد لون ساکن ہارون اور فہیم رمضان ساکن لال بازار کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔ وسطی ضلع بڈگام میں ڈاکٹر محمد سلطان بٹ، جو 2019 سے پاکستان میں مقیم ہیں ، غلام محمد وانی اور گلزار احمد شاہ ساکنان سوئیہ بگ ، ریاض احمد صوفی ساکن شولی پورہ اور محمد عبداللہ وانی ساکن وڈون بڈگام حال مندر باغ باغات سرینگر کے گھروں پر بھی چھاپے ڈالے گئے۔وسطی ضلع گاندربل کے کنگن سے نامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق اتوار کو این آئی اے نے کنگن میں عبدالمجید اور گنڈ میں فاروق احمد بٹ جوکہ پولیس محکمہ میں تعینات ہے، کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم ان کے گھروں سے کچھ برآمد نہیں کیا گیا ۔این آئی اے نے گل محمد وار ساکن منی گام لار گاندربل، ظہور احمد ریشی، معراج الدین ریشی ساکنان صفا پورہ گاندربل اور عبدالحمید بٹ ساکن بٹونہ گاندربل کے گھروں کی تلاشیاں لیں۔
جنوبی کشمیر
شوپیاں سے نامہ نگارشاہد ٹاک نے کہا کہ شوپیان ضلع کے ملڈیرہ اور نادی گام علاقوں میں بھی چھاپے مارے گئے۔نادی گام میں این آئی اے کی طرفسے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض( فی الوقت نظر بند) کے بھائی ریاض احمد گنائی ولد محمد یاسین گنائی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ کولگام میں این آئی اے نے سابق امیر جماعت غلام حسن شیخ ساکن تاری گام اور محمد یوسف راتھر ساکن بولسو کے گھروں پر چھاپے مارے۔ان کا کہنا تھا کہ اننت ناگ میں مشتاق احمد وانی اور نذیر احمد رینہ ساکنان لوہرسینزی کوکر ناگ کے علاوہ فاروق احمد خان ساکن سند براری کوکرناگ، آفتاب احمد میر ساکن بدورہ اچھ بل اور احمد اللہ پاری ساکن کھرم بجبہاڑہ کے رہائشی مکانوں کی بھی تلاشیاں عمل میں لائی گئیں۔
شمالی کشمیر
بارہمولہ میں این آئی اے نے پیر غیاث الدین شاہ ساکن واگورہ اور سابق اوقاف صدر عبدالرحمن شالہ ساکن باغ اسلام بارہمولہ کے رہائشی مکانوں کی تلاشیاں لیں۔اولڈ ٹاﺅن بارہمولہ میں عبد الغنی کے گھروں کی تلاشیاں لی گئیں۔ بانڈی پورہ میں محمد سکندر ملک ساکن گنڈ پورہ کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔انن ون کرالہ گنڈہندوارہ میں 10سال قبل قیم جماعت اسلامی رہے غلام قادر لون کے گھر پر بھی چھاپہ ڈالا گیا۔ کل پورہ سلہ کوٹ کپوارہ میں عبدالصمد بٹ کے گھر سے چھاپے کے دوران ایک پاس بک ، ایک پاسپورٹ، بارہ بور رائفل اور ایک موبائل فون ضبط کیا گیا۔ سنر درد پورہ لولاب میں سابق پرنسپل یتیم ٹرسٹ بمنہ غلام محمد شاہ کے گھر کی بھی تلاشیاں لی گئیں۔سابق امیر ضلع کپوارہ عبدالجبار پائر کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔
خطہ چناب
نامہ نگار محمد تسکین کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی نے بانہال میں دو الگ الگ رہائشی مقامات پر بیک وقت تلاشی کارروائیاں کیں اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ چھاپہ ماری کی یہ کارروائی بزرگ دینی رہنما ، خطیب مرکزی جامع مسجد بانہال اور جماعت اسلامی کے سابق ضلع صدر رام بن عبدالاحد مسرور ساکن رلو بانہال اور جماعت اسلامی کے موجودہ ضلع صدر غلام نبی سوہل ساکن شگن تحصیل کھڑی کے گھروں پر کی گئی ۔ عبد الاحد مسرور کے گھر سے موبائل فون، ٹیپ ریکارڈر کی کیسٹیں اور پین ڈرائیو ضبط کی گئیںجبکہ غلام نبی سوہل کے گھر سے دو موبائل فون اور ڈائری نما نوٹ بک ضبط کی گئی ۔ادھر کشتواڑ کے لاین علاقے میں عبدالمجید شیخ کے گھر پرچھاپہ مارا گیا۔ انہیں پولیس تھانے لیا گیا جہاں ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ادھرراجوری میں سابق امیر جماعت اسلامی مولانا محمد امیر شمسی کے گھر کی تلاشیاں لکی گئیں
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں







































































































