اہم خبریں
جمہوریت ہے پھر بھی مسلمانوں کی سیاسی شناخت گم!!

جاوید اختر بھارتی
ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی یعنی ملک آزاد ہوئے 75 سال ہو گئیے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر ہندوستانی کو اس کا حق مل گیا ، ملک کا ہر شخص اپنے پیر پر کھڑا ہوگیا، وزارت، ملازمت، سیاست میں سب کو حصہ مل گیا، گاندھی جی کا سارا خواب پورا ہو گیا؟ اگر ہوا ہوتا تو نظر آتا اور نہیں ہوا تو آخر کیوں؟ یوں تو سبھی سیاسی پارٹیاں کہتی ہیں کہ ہمیں گاندھی جی کے خوابوں کا ہندوستان بنانا ہے مگر یہ کوئی پارٹی نہیں بتاتی کہ گاندھی جی کا خواب کیا تھا ؟ شائد اس لئے کہ کہیں عوام باخبر نہ ہوجائے ۔۔۔ ہم بتاتے ہیں،،
گاندھی جی کا خواب تھا کہ ملک میں امن و چین رہے، آبادی کے تناسب سے ہر سماج کو ہر شعبے میں نمائندگی ملے تاکہ ملک میں کبھی فرقہ پرستی کا ماحول قائم نہ ہوسکے اوربرسراقتدار و حزب مخالف دونوں کا نظریہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر و تنقید برائے اصلاح ہو اور دونوں ملک کے مفاد میں ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ حزب مخالف پارٹیاں ایوان میں ایک بیدار پہریدار کا رول ادا کریں اور دونوں کا مقصد ملک و ملت کا مفاد ہو لیکن افسوس کہ سبھی سیاسی پارٹیاں اصل راستے سے بھٹک گئیں اور عوامی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ذاتی مفاد کی سیاست کرنے لگیں نتیجہ یہ ہوا کہ ہر گاؤں ہر علاقے میں آج بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں جن کے پاس رہنے کے لئے مکان نہیں بلکہ وہ سڑکوں اور ریل پٹریوں کے کنارے ڈیرہ ڈال کر سردی، گرمی، برسات ہر موسم کا سامنا کرتے ہوئے اپنی زندگی کا گذر بسر کرتے ہیں ، ان کا کوئی آدمی ایوان تک نہیں پہنچتا کیا اسے سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی طرح اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے بچوں کی طرح جینے کا حق نہیں ہے ؟اگر ہے تو اسے اوپر اٹھانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہاں تک احساس ہو چکا ہے کہ ہمیں اسی طرح رہنا ہے اور یہی ہماری پہچان ہے-
یہ بھی انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آذادی حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے جو ریزرویشن کی سہولت کا نظام بنایا تھا اگر وہ نظام برقرار رہاہوتا تو سیاسی میدان میں مسلمانوں کا بیک ورڈ طبقہ اور مسلمانوں میں سب سے دبا کچلا طبقہ نٹ، بھانٹ، بنجارہ، حلال خور، دھوبی وغیرہ کے حالات بھی کافی تبدیل ہوئے ہوتے اور وہ بھی غیر مسلم برادری میں پاسی، دھوبی، سونکر، دلت وغیرہ کی طرح ریزرو سیٹوں پر الیکشن لڑتے اور اسمبلی و پارلیمنٹ تک پہنچتے مگر کانگریس نے اگست 1950 میں دفعہ 341 کے پیرا 3 پر صدر جمہوریہ کے ذریعے آرڈینس جاری کراکر صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر مسلمانوں کی مذکورہ برادری کو ریزرویشن سے محروم کردیا ۔۔
1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھے جانے کا معاملہ پیش آیا تو اسے حل کرنے کے بجائے الجھائے رکھا گیا اور 1992 میں کانگریس نے ہی اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو منہدم بھی کرایا اس طرح آذادی حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے ہندو مسلم کی سیاست کانگریس نے کی،، اس کے بعد سے تو مسلمانوں کی ہمدرد سبھی پارٹیاں بننے لگیں لیکن آج تک ساری ہمدردی محض سبز باغ دکھانے تک محدود رہی سبھی پارٹیاں سیکولر ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہیں اور وقت آتا ہے تو منافقانہ کردار ادا کرتی ہیں طلاق ثلاثہ بل، شہریت ترمیمی بل جیسے معاملوں میں سیاسی پارٹیوں کا کردار ایسا رہا کہ بی جے پی کو موقع ملا اور سیاسی پارٹیوں کے چہروں سے نام نہاد سیکولرازم کا لگا لیبل نوچ کر پھینک دیا اور سب کے چہرے بے نقاب ہوگئے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک سمجھا اور بی جے پی سے ڈرایا اور سچائی یہ ہے کہ ان پارٹیوں نے مسلمانوں اور بی جے پی کے درمیان دوری بھی کرائی اور نفرت پیدا کرانے کی کوشش کی اور آج سبھی پارٹیوں کی نظر میں مسلمان کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی ہے اور تیج پتہ کی طرح ہے کہ عرق اتارنے کے بعد پھینک دیا جاتاہے اب مسلمانوں کو صاف طور پر کہنا چاہیے کہ ہم نے کسی کو ہرانے جتانے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے چاہے کوئی ہارے یا جیتے ہمارے سر ناکامی کا ٹھیکرا نہ پھوڑا جائے ۔
ہمارے کچھ علماء و کچھ تنظیمیں 60 سال تک کانگریس کی حمایت کا کردار ادا کرتی رہیں اور کانگریس نے ان علماء اور ان کی تنظیموں کو پارٹی کا ایک سیل (प्रकोष्ठ) بناکر چھوڑا وہ تنظیمیں اندھیرے میں حمایت کرتی رہیں، بدلے میں انہیں ذاتی طور پر سرکاری سہولیات ملیں مگر وہ پارٹی میں یہ باور کراتے رہے کہ ہم مسلمانوں کے رہنما ہیں اسی لئے جب مسلمانوں نے بھی سوال کرنا شروع کردیا کہ آپ جب مسلمانوں کے ووٹ کے ٹھیکیدار ہیں تو آپ نے مسلمانوں کو کیا دلوایا خود تو مہنگی مہنگی کاروں میں چلتے رہے اور ہم دردر کی ٹھوکر کھاتے رہے،، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی ان کی اپیلوں کو ٹھکرا دیا اور انہیں رہنماؤں کی دین ہے کہ سبھی پارٹیوں نے مسلمانوں کو کھلونا بناکر رکھ دیا ورنہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے،، پارٹی بنانے کا، ووٹ دینے کا، ووٹ مانگنے کا آئین کے تحت حق حاصل ہے پھر بھی مسلمان حاشئیے پر ہے،، جو سیاسی پارٹیاں مسلم قیادت کی شکل میں ہیں بھی تو صرف جذباتی نعرہ اور جذباتی تقریروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور بات بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ جس سے فرقہ پرستی کی بو آتی ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس قوم کو حکمراں قوم کہا گیا ہے اس قوم کی ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کوئی سیاسی پہچان نہیں ہے،، کیونکہ مسلم سیاسی پارٹی جو ہے وہ خود مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے کیا اسے نظر نہیں آتا کہ موجودہ برسراقتدار پارٹی نے سماج کی بنیاد پر موریہ، کشواہا، برہمن، راج بھر، پاسی، سونکر وغیرہ کو نمائیندگی و حصہ داری دی ہے تو پھر مسلم قیادت اپنی پارٹی میں سماجی و طبقاتی بنیادوں پر نمائیندگی کیوں نہیں دیتی ۔
مسلمانوں کی کچھ بڑی بڑی تنظیمیں ہیں جس میں آج تک مخصوص طبقے کے لوگ ہی صدر بنتے آرہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب آپ خود اپنے گھر میں اپنے بھائی کو حق نہیں دیتے تو دوسروں سے کس منہ سے حق مانگتے ہو اسی وجہ سے آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کسی کو ووٹ دیتے بھی ہیں تو وہ پارٹی یہی تأثر دیتی ہے کہ ہمیں ووٹ دینا تو تمہاری مجبوری ہے ہمیں نہیں دیتے تو کس کو دیتے،، اس لئے اب سے صحیح راستہ اختیار کرو،، پہلے مسلمان خود مسلمانوں کی برادری کو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے سیاسی، سماجی، فلاحی، دینی اور تعلیمی اداروں، پارٹیوں، تنظیموں اور کمیٹیوں میں حصّہ دے کر انصاف کریں تبھی کامیابی حاصل ہونے کا راستہ ہموار ہوگا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں






































































































