تازہ ترین
ایشوریہ نے ہندی فلموں کو بین الاقوامی پہنچان دلائی

یوم پیدائش یکم نومبر کےموقع پر خاص پیشکش
ممبئی،31 اکتوبر(یو این آئی) ایشوریہ رائے کا بالی ووڈ کی ان خاص اداکاروں میں شمار ہوتا ہ جنہوں نے فلموں میں ہیروئن کو محض شو پیش کے طور پراستعمال کئے جانے کے روایتی سوچ کو نہ صرف بدلا بلکہ بالی ووڈکو بین الاقوامی سطح پر بھی ایک خصوصی پہنچان دلائی ایشوریہ رائے بچن کی پیدائش یکم نومبر 1973 کو منگلورمیں ہوئی کچھ عرصے بعدان کا خاندان ممبئی آگیا بچپن میں ان کا رجحان آرکیٹیکٹ بننے کی جانب تھا لیکن بعد میں ان کا رجحان ماڈلنگ کی جانب ہوگیا۔
سال 1994 میں ایشوریہ رائے نے مس انڈیا مقابلہ میں حصہ لیا جہاں انہیں مس انڈیا کے خطاب سے نوازا گیا۔ مس ورلڈ مقابلہ میں ہندستان کاپرچم پوری دنیا میں لہراتے ہوئے ریتا فاریہ کے بعد مس ورلڈکا خطاب جیتنے والی دوسری ہندستانی حسینہ بنیں۔ اس مقابلہ میں انہوں نے فوٹوجینک کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ مقابلہ جیتنے کے بعد ایشوریہ رائے نے سماجی فلاحی کاموں میں حصہ لیا اور اس دوران انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
سال 1997 میں ایشوریہ رائے نے اپنے فلمی کیرئر کی شروعات تمل فلم ایروارسے کی۔ اسی برس انہوں نے بالی ووڈ میں بھی قدم رکھا اوربابی دیول کے ساتھ اور پیار ہوگیا میں کام کیا۔ بدقسمتی سے یہ فلم ناکام ثابت ہوئی۔اسکے بعد 1998 میں ایشوریہ رائے نے ایس شنکر کی تمل فلم جینس میں کام کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد ایشوریہ رائے فلم انڈسٹری میں کچھ حد تک اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔
ہندوستان
پٹرول اور ڈیژل کے دام پھر بڑھے
نئی دہلی، مغربی ایشیا بحران کے درمیان تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیژل کے دام ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں ہندوستان کی سب سے بڑی تیل کی مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ سے حاصل معلومات کے مطابق دہلی میں آج سے پٹرول 87 پیسے اور ڈیژل 91 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے قومی راجدھانی میں آج سے ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 98.64 روپے ہو گئی ہے۔ وہیں، ایک لیٹر ڈیژل 91.58 روپے کا ملے گا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
پٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چار دن کے اندر دوسری بار پٹرول اور ڈیژل کے قیمتیں بڑھائے جانے کے حکومت کے فیصلے پر حیرانی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بارے میں عوام کو جواب دینا چاہیےمسٹر کھرگے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ حکومت نے 15 مئی کے بعد آج صبح اچانک پھر پٹرول اور ڈیژل کے قیمتیں بڑھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب واضح ہو گیا ہے کہ ہندوستان بحران میں ہے اور مسٹر مودی کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ کانگریس صدر نے تیل کے دام چار دن میں دوسری بار بڑھانے کے فیصلے کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ مودی حکومت ناکامیوں کا بوجھ عوام کے سر پر ڈال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دام بڑھے چار ہی دن ہوئے کہ مودی حکومت نے پٹرول اور ڈیژل کے دام پھر بڑھا دیے۔ پوری تمہید باندھ کر، بچت کی نصیحت کرکے اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا کام جاری ہے۔ کانگریس صدر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’عام لوگوں کی لوٹ اور صنعت کار گوتم اڈانی کو امریکہ سے چھوٹ‘، یہی مودی جی کا ’کمپرومائزڈ ماڈل‘ ہے۔ وزیر اعظم نے امریکہ سے ہاتھ پیر جوڑ کر روسی تیل خریدنے کی اجازت کی مدت ایک مہینے کے لیے بڑھوائی ہے اور اس سے ہندوستان کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے مطابق روسی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی ہے، تو پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں کا بوجھ عام لوگوں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔
مسٹرکھرگے نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں دوراندیشی اور قیادت کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت حکومت انتخابات میں مصروف رہی اور بعد میں ’چکنی چپڑی باتیں کر کے لوٹ کا پلان‘ بنایا گیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ صرف بیرون ملک میں اسپانسر شدہ تعلقات عامہ کی سرگرمیاں کرنے سے کوئی ’وشو گرو‘ نہیں بن جاتا، عوام کے تئیں جوابدہی بھی یقینی بنانی پڑتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ہندوستان کے سامنے موجود سوالوں کا جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے، یہ ہندوستان کو بتایا جانا چاہیے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
ناروے اور ہندستان کے درمیان تعاون کے بے شمار امکانات، ناروے کی کمپنیوں کے لیے دروازے کھلے ہیں: مودی
اوسلو، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندستان اور ناروے کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناروے کی کمپنیوں کے لیے ہندستان کے دروازے کھلے ہیں اور انہیں صاف توانائی، جہاز سازی، سمندری صنعتوں اور صحت ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے آگے آنا چاہیے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس غذائی تحفظ، کھاد، ماہی پروری اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کے بہترین مواقع موجود ہیں۔
ناروے کے دو روزہ دورے پر گئے مسٹر مودی نے پیر کی رات ہند – ناروے تجارتی اور تحقیقی سربراہ اجلاس سے خطاب کیا۔
بعد ازاں وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کاروباری شعبے اور تحقیقی برادری کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرنا ایک خوشگوار موقع تھا۔
انہوں نے کہا، “اوسلو سٹی ہال میں وزیر اعظم یوناس گاہر اسٹورے اور میں نے ایک تجارتی اور تحقیقی سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ تجارتی شعبے اور تحقیقی دنیا سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت ایک خوشگوار موقع تھا۔ ہمارے ممالک کے پاس غذائی تحفظ، کھاد، ماہی پروری اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کے بہترین مواقع ہیں۔ میں نے ناروے کو ہندستان کی صاف توانائی اقدامات میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ میں نے ہندستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت میں بھی اپنے خیالات پیش کیے۔ جہاز سازی ایک ایسا شعبہ ہے جو وسیع اور لامحدود امکانات فراہم کرتا ہے۔”
مسٹر مودی نے ہندستان اور ناروے کے درمیان مضبوط اقتصادی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے ناروے کی کمپنیوں سے صاف توانائی، جہاز سازی، سمندری صنعتوں اور صحت ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کو کہا۔
اس چوٹی کانفرنس میں ناروے کے ولی عہد شہزادہ ہاکون کے علاوہ 50 سے زیادہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران سمیت دونوں ممالک کے تجارتی اور تحقیقی شعبوں کے 250 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ پروگرام ہند-ای ایف ٹی اے تجارت اور اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کے نافذ ہونے کے بعد ہند -ناروے تعلقات میں بڑھتی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
مسٹر مودی نے ہندستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے اسٹیک ہولڈروں سے تجارتی معاہدے کے تحت طے کیے گئے بلند اہداف کے حصول کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “دونوں فریقوں کے متعلقہ اداروں کو ٹی ای پی اے کے تحت 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ہدف اور ہندستان میں 10 لاکھ روزگار پیدا کرنے کے مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔”
وزیر اعظم نے ہندستان کی مضبوط اقتصادی ترقی، سازگار آبادیاتی صورتحال اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے ملک کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام قرار دیا۔ انہوں نے ناروے کو سمندری معیشت، قابل تجدید توانائی، سبز تبدیلی، اہم معدنیات، اختراعی صنعتوں اور جہاز سازی جیسے شعبوں میں مزید شراکت داری کی دعوت دی، ساتھ ہی پائیدار ترقی اور موسمیاتی اقدامات کے تئیں ہندستان کے عزم کو بھی دہرایا۔
مسٹر مودی نے کہا، “ہندستان کا وسیع حجم، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور موسمیاتی عہد قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تیز توسیع کو فروغ دے رہے ہیں۔” انہوں نے سمندری شعبے میں کاربن اخراج میں کمی، سمندری استحکام اور موسمیاتی مالیات میں ناروے کی مہارت کی بھی تعریف کی۔
وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو نئی شراکت داریاں قائم کرنے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ سربراہ اجلاس کے دوران ہندستانی اور ناروے کی کمپنیوں اور اداروں کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔
اس سے قبل دن میں اوسلو میں چار گول میز مذاکرات منعقد کیے گئے، جن میں صحت خدمات میں اختراع، سمندری تعاون، بیٹری اور توانائی ذخیرہ نظام، ڈیجیٹلائزیشن اور برقی کاری اور ہوا سے توانائی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان1 week agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
تازہ ترین1 week agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا5 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا1 week agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
جموں و کشمیر1 week agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان6 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
ہندوستان5 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا6 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اب سیاسی شعبدہ بازی کے بجائے اقتصادی جوڑ توڑ کا معاملہ
ہندوستان1 week agoمتحدہ عرب امارات سے ہندوستانی شہریوں کے انخلا کے حوالے سے کسی معاہدے پر بات نہیں ہوئی : وزارت خارجہ
تازہ ترین7 days agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی







































































































