تازہ ترین
مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات جناب اشونی ویشنو كے ہاتھوں”کریٹ ان انڈیا چیلنج – سیزن 1″ کے تحت ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ کے لیے 25 چیلنجز کا آغاز

مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات جناب اشونی ویشنو نے آج ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ (ویوز) کے لیے ’کریٹ ان انڈیا چیلنج – سیزن 1‘ کے حصے کے طور پر 25 چیلنجز کا آغاز کیا۔ اس آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ آج کا آغاز ہماری بڑھتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشت کا ترجمان ہے۔ ایک بالکل نئی تخلیق کاروں کی معیشت کو تشکیل دیا گیا ہے اور اسی کو ہندوستان کے وزیر اعظم نے بھی تسلیم کیا ہے جیسا کہ مارچ 2024 میں ان کے ذریعہ پیش کیے گئے پہلے قومی تخلیق کاروں کے ایوارڈ سے ظاہر ہوتا ہے۔
اس معیشت میں بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے كہا کہ تخلیق کاروں کی معیشت ہمارے شاندار ثقافتی ورثے، طرز زندگی، یوگا، روایتی ادویات کے نظام اور ہمارے کھانوں میں تنوع کو ظاہر کرنے کا ایک شاندار ذریعہ بن گئی ہے۔حکومت ہند اس معیشت کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ اس لیے ہمیں اس شعبے میں ہنر اور ہنر کی نشوونما اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
اس تخلیق کاروں کی معیشت کو مزید ترقی دینے کے لیے حکومت عالمی معیار کے ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگرام اور انفراسٹرکچر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیار کی یونیورسٹیوں اور سہولیات کے قیام کے منصوبے ہیں جو میڈیا اور تفریح میں تخلیق کاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔
فلم سازی میں نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال: ملازمت کی تخلیق
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فلم سازی ہماری طاقتوں میں سے ایک ہے جناب اشونی ویشنو نے كہا کہ آج کے دور میں اس شعبے میں نئی ٹکنالوجی اور آلات کے استعمال کی بڑی گنجائش موجود ہے جس سے روزگار پیدا کرنے کی اچھی گنجائش کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اگر یہ پروگرام کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو اس شعبے میں 2-3 لاکھ ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سماجی ذمہ داری
ساتھ ہی مرکزی وزیر نے یہ بھی یاد دلایا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس سفر میں ہمارے سماج کو نقصان نہ پہنچے اور ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ سماج، صنعت اور ہم سب کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس شعبے میں موجود بے پناہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے، ویوز کو منظم کیا جا رہا ہے اور یہ مستقبل میں ایک بڑے رجحان کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات كے سکریٹری جناب سنجے جاجو، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت اطلاعات و نشریات محترمہ نیرجا شیکھر، ڈائریکٹر جنرل، فكی، محترمہ جیوتی وج، وائس چیئرمین، سی آءی آءی نیشنل کمیٹی آن میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ، جناب برین گھوش اس تقریب میں شرکت کرنے والے معززین میں بھی شامل تھے۔
‘ہندوستان میں ڈیزائن، دنیا کے لیے ڈیزائن’
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ایچ سنجے جاجو نے کہا کہ یہ پہل ہندوستان کے تخلیقی ماحولیاتی نظام کو پروان چڑھانے اور اسے بلند کرنے کے ہمارے جاری مشن میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ “، انہوں نے مزید کہا كہ “یہ بغیر کسی رکاوٹ کے ہمارے وزیر اعظم کے ‘ڈیزائن ان انڈیا، ڈیزائن فار دی ورلڈ’ کے وژنری کال کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جیسا کہ ان کے 78ویں یوم آزادی کے خطاب کے دوران بیان کیا گیا تھا۔ قوم کے اندر موجود بے پناہ صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویوز اس صلاحیت کا ثبوت ہے اور ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
جہاں دنیا بھر کے روشن ترین ذہن، انتہائی باصلاحیت تخلیق کار، اور بصیرت والے رہنما علم کا اشتراک کرنے، خیالات کا تبادلہ کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔
‘کریٹ ان انڈیا چیلنج – سیزن 1’
یہ چیلنجز جن کی میزبانی معروف صنعتی انجمنوں اور تنظیموں نے کی ہے، ان میں اینیمیشن، فلم سازی، گیمنگ، موسیقی اور بصری فنون سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
یہ چیلنجز اصل ایونٹ تک کی دوڑ میں کیے جا رہے ہیں۔
‘کریٹ ان انڈیا’ چیلنجز کی فہرست – سیزن 1
1۔میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کی طرف سے اینیمی چیلنج
2۔ڈانسنگ ایٹمس کے ذریعے اینیمیشن فلم سازوں کا مقابلہ
3۔گیم جام از انڈیا گیم ڈیولپر کانفرنس
4۔ایسپورٹس فیڈریشن آف انڈیا کی طرف سے کھیلوں کا ٹورنامنٹ
5۔سٹی کویسٹ: شیڈز آف انڈیا از ای گیمنگ فیڈریشن
6۔ہینڈ ہیلڈ ایجوکیشنل ویڈیو گیم ڈیولپمنٹ بذریعہ انڈین ڈیجیٹل گیمنگ سوسائٹی
7۔انڈین کامکس ایسوسی ایشن کی طرف سے کامکس کریٹر چیمپئن شپ
8۔نوجوان فلم سازوں کا چیلنج فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وِسلنگ ووڈز انٹرنیشنل9. XR Creator Hackathon by Wavelaps اور XDG
10۔اِن ویڈیو کے ذریعے مصنوعی ذہنت والی فلم سازی کا مقابلہ
11۔ویوز پرومو ویڈیو چیلنج انڈین براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل فاؤنڈیشن
12۔انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے ذریعہ ٹروتھ ٹیل ہیكاتھون
13۔کمیونٹی ریڈیو ایسوسی ایشن کی طرف سے کمیونٹی ریڈیو مواد کا چیلنج
14۔انڈین میوزک انڈسٹری کی طرف سے تھیم میوزک کمپیٹیشن15. WAVES Hackathon: Adspend Optimizer by Advertising Agency Association of India
16۔انٹرنیٹ اور موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کی طرف سے ویوز اے آئی آرٹ انسٹالیشن چیلنج
جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہندوستان
مودی کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ ، ملک کی اقتصادی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یہاں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا کے بحران سے گھریلو معیشت پر پڑنے والے اثرات پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹنگ کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے میٹنگ کی صدارت کی۔ ملک میں اقتصادی تبدیلی اور طویل مدتی ترقی کی ترجیحات سے جڑے کئی موضوعات پر بحث کی۔ ساتھ ہی، اصلاحات کے عمل کو مزید رفتار دینے اور ‘ایز آف لیونگ’ (زندگی کو سہل بنانے) اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ (کاروبار کی آسانی) کو یقینی بنانے پر اپنے خیالات شیئر کیے۔” میٹمگ میں ممتاز ماہرین اقتصادیات اور پالیسی ماہرین نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے ہندوستانی معیشت و سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات پر خاص طور پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹ جیسے مسائل پر بھی گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔
اس میٹنگ کا بنیادی مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک میں اقتصادی ترقی کو رفتار دینا اور وسیع تر اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے جمعہ کو ہی ملک میں غیر ملکی سرمائے کی آمد بڑھانے کے لیے سرکاری سکیورٹیز (جی-سیک) میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری سے ہونے والی سود کی آمدنی یا سرمائے کے منافع پر انکم ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سال کی مدت کی سرکاری سکیورٹیز کے نئے ایشوز کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے اہل سکیورٹیز کی مدت کے ساورن گرین بانڈز میں سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ریزرو بینک نے کل ہی اپنے دو ماہی اقتصادی جائزے میں عالمی جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ اور مانسون کے خدشات کے درمیان رواں مالی سال 2026-27 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے تخمینے کو کم کر کے 6.6 فیصد، اور خردہ افراط زر کے تخمینے کو بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اپریل کے پالیسی جائزے کے وقت آر بی آئی نے رواں مالی سال کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد اور افراط زر 4.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک
نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچوک نے ہفتہ کے روز ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات ہے اور اصل مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور ایس ایس سی جی ڈی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے پیش نظر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج ہفتہ کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں سینکڑوں حامیوں نے حصہ لیا، جن میں طلباء اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد بھی شامل تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے سی جے پی کے مظاہرے کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی، تاہم دہلی پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
دہلی پولیس نے اس احتجاج کے لیے جنتّر منتر پر ایک بار کے لیے جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔ پوری راجدھانی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (عوامی ہنگامہ، ممکنہ خطرات، یا عوامی تحفظ و امن کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور عارضی احکامات) نافذ کی گئی تھی۔
اس احتجاج میں حمایت دینے کے لیے شامل ہوئے مسٹر وانگچوک نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے اگلے ہفتے کے آخر میں دوبارہ جنتّر منتر آئیں گے۔ احتجاجی مقام پر “سونم وانگچوک کو وزیر تعلیم بننا چاہیے” کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ “استعفے کا مطالبہ تو بس شروعات ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ امتحان میں گڑبڑی اور پیپر لیک تو دراصل ایک بہت بڑے مسئلہ کی علامتیں ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سب کے لیے اچھی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پورے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا7 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا7 days agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب




































































































