تازہ ترین
ویڈیو: نوگام جھڑپ میں پی ایچ ڈی اسکالر سمیت 2 جنگجو جاں بحق، مکمل رپورٹ

خبراردو:
سرینگر میں فتحہ کدل جھڑپ کے چند روز بعد ہی سیکورٹی فورسز اور جنگجو نو جوانوں کے در میان سوتھوکو ٹھیر باغ وانبل نو گام میں خو نین معرکہ آرائی ہو ئی جس کے نتیجے میں 2جنگجو نو جوانوں کو جاں بحق کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج کی 55آر آر ،سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر سرینگر کے مضافاتی علاقے وانبل نو گام کا محاصرہ عمل میں لایا جس کے دوران مکان میں پناہ لئے ہو ئے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر کو د کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی ۔اس دوران سیکورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کرتے ہو ئے مذکورہ مکان پر شدید حملہ بو لا جس کے نتیجے میں مکان میں پناہ لئے 2جنگجو جاں بحق ہو ئے ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ منگلوار اور بدھ کی در میانی رات کو تقریباً2بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے وانبل کا محاصرہ عمل میں لایا اور جنگجوؤں کے فرار ہو نے کے تمام راستے سیل کئے ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جوں ہی فورسز اہلکاروں نے اس مکان کی جانب پیش قدمی کی جس میں جنگجو چھپے بیٹھے تو تو یہاں مو جود جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی ۔انہوں نے بتایا کی بدھوار کو تقریباً11بجے جھڑپ اختتام پذیر ہو ئی جس میں 2جنگجو جاں بحق ہو ئے تاہم جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز کے6اہلکار بھی زخمی ہو ئے ۔

ادھر جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی نو گام اور اس کے ملحقہ علاقوں سے نو جوانوں نے ٹو لیوں کی شکل میں نمو دار ہو کر سیکورٹی فورسز پر سنگ باری کی جنہیں منتشر کر نے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسوں گیس کے گولے داغے ،تاہم نو جوانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہی ۔نمائندے کے مطابق بدھوار صبح کو ہی نوگام، وانہ بل، پہرو، چھانہ پورہ، نٹی پورہ، گلشن نگر، بائی پاس، باغ مہتاب، مائسمہ سمیت متعدد علاقوں میں نوجوانوں کی ٹولیوں نے فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے بازی کی.
انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں نوجوانوں نے راہ چلتی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس کے بعد یہاں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے پولیس و سی آر پی ایف کی جمعیت نے موقعے پر آکر نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے تاہم سیکورٹی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔اس دوران انتظامیہ نے بدھوار کی صبح ضلع سرینگر میں افواہ بازی پر لگام کسنے اور مظاہروں کو ٹالنے کے لئے مو بائیل انٹر نیٹ خد مات کو معطل کرنے کے علاوہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریسی عمل بھی معطل رکھا ۔

ادھر کشمیر یو نیورسٹی اور سنٹرل یو نیورسٹی انتظامیہ نے بھی معرکہ آرائی کے پیش نظر کام کا ج کو معطل رکھا۔اس دوران بجبہاڑہ ،سنگم اور اننت ناگ میں جو ں ہی یہ خبر پھیلی کہ نو گام جھڑپ میں سبزاراحمدصوفی عرف سیف اللہ خالد ولد بشیر احمد صوفی ساکنہ گنڈ بابا خلیل سنگم بجبہاڑہ اپنے ایک اور مقامی ساتھی آصف احمد شیر گو جری ولد علی محمدساکنہ کھرم سری گفوارہ بجبہاڑہ سمیت جاں بحق ہوا تو یہاں نو جوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر کے ٹرانسپورٹ،تجارتی مراکز پر شدید پتھراؤ کیا جس دوران مذکورہ علاقوں میں افرا تفری کا مو حول بپاء ہوا ۔
ادھر سنگ باری کے نتیجے میں متعلقہ بازاروں میں دکانداروں نے آناٍ فاناً دکانوں کے شٹر گرا کر محفوظ مقامات کی طرف راہ فرار اختیار کی تاہم اس دوران مشتعل نو جوانوں نے سیکورٹی فورسز پر شدید سنگ باری کی جس کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کر نے کے لئے آنسوں گیس اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی نو جوان زخمی ہو ئے۔پولیس نے جھڑپ کے حوالے سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ فوج ،سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر سوتھیرکو ٹھیر باغ وانبل نو گام کا محاصرہ عمل میں لایا اور جوں ہی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مشتبہ مکان کی جانب پیش قدمی کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فوسز پر شدید فائرنگ کی جس کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے بھی کاروائی عمل میں لائی جس کے نتیجے میں 2جنگجووں کو جاں بحق کیا تاہم جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز کے 6اہلکار بھی زخمی ہو ئے ۔

اس دوران جھڑپ کے فوراً بعد پولیس نے عوام کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہو ئے کہا کہ وہ جائے جھڑپ کی جانب تب تک نہ جائے جب تک نہ پولیس کی جانب سے ملبے کوممکنہ بارودی مواد سے پاک کیا جائے ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ نو گام جھڑپ کے دوران جاں بحق ایک جنگجو پی ایچ ڈی اسکا لر ہو نے کے ساتھ ساتھ ،جے آر ایف کوالیفائر کے ساتھ ساتھ ایم فل کی ڈگری جی واجی یو نیورسٹی گوالیا ر سے کی تھی ،جبکہ انہوں نے نیشنل ایلجبلٹی ٹسٹ بھی پاس کیا تھا ۔مہلوک کے قریبی دوستوں نے بتایا کہ سبزار احمد جنگجوؤں کی صف میں شامل ہو نے سے قبل آئی اے ایس امتحان میں شر کت کے لئے تیاریوں میں مصروف تھا ۔

ذرائع نے معلوم ہوا ہے کہ حزب کمانڈر سبزار احمد نے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد 16جولائی 2016کو عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ جوں ہی سبزار احمد کی لاش ان کے آبائی گاؤں سنگم بجبہاڑہ پہنچائی گئی تو یہاں لو گوں کا سیلاب اُمڑ آیا اور انہوں نے سبزار احمد کے جلوس جنازہ میں شر کت کر کے اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ سبزار احمد کی نماز جنازہ متعدد بار ادا کی گئی ۔اس دوران عینی شاہدین نے بتایا کہ سزار احمد کی نماز جنازہ کے دوران جیش محمد کا معروف عسکری کمانڈر زینت الاسلام اپنے ساتھیوں سمیت نمودار ہوا اوعر انہوں نے سبزار احمد کو گن سلوٹ پیش کرتے ہو ئے گولیوں کے کئی راونڈ ہوا میں چلائے ۔ انہوں نے بتایا کہ سبزار احمد کی نمازہ جنازہ میں مختلف اضلاع سے آئے ہو ئے نو جوانوں کی بھاری تعداد نے شر کت کی جس کے بعد سبزار احمد کو اپنے آبائی گاؤں میں سپر د لحد کر دیا گیا ۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































