دنیا
امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا، دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ تمام حدیں کراس کر گیا، آج کسی بھی وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اعلان کر کے باقاعدہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے سکتے ہیں،حکم نامے کا ڈرافٹ تیار،عالم اسلام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی، فلسطین سمیت اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا شدید ردعمل،دنیا کے دیگرمسلمان ممالک کا بھی تشویش کا اظہار، مسلمان حکمرانوں کے ٹرمپ سے رابطے، اقدام انتہائی خطرناک جس سے دنیا بھر میں اشتعال پھیلے گا، مسلم حکمرانوں نے امریکی صدر کو خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ممکنہ طور پر کسی بھی وقت مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتےہوئے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اعلان کر سکتے ہیں ، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکہ میں موجود یہودی اور اسرائیل کے حمایتی انتہا پسند گروہ دارالحکومت واشنگٹن کے باہر امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو زیب تن کئے موجود ہیں تاکہ امریکی صدر کے حکم نامے کا اعلان ہوتے ہی جشن منا سکیں جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو جمع ہونے کیلئے اکسایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے امریکی صدر کے حکم نامے کا ڈرافٹ پہلے سے تیار کر لیا گیا ہے ۔ امریکہ کے اس ممکنہ اقدام پر فلسطین، اقوام متحدہ اور عرب لیگ سمیت دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان سمیت کئی مسلم ممالک کے حکمرانوں نے امریکی صدر سے اس حوالے سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے انہیں اس اقدام سے باز رہنے کا کہا ہے۔ اعلی ٰ امریکی عہدیداروںکے مطابق ٹرمپ آج یرو شلم کو اسرائیلکا دا رلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے مگر امریکی سفارتخانے کی منتقلی میں 6 ماہ کی تاخیر کا امکان ہے۔ حماس کی جانب سے ممکنہ امریکی اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ حدود پار کرنے سے باز رہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا ہے جس میں ممکنہ امریکی اقدام کی صورت میںامریکہ کو خطرناک نتائج مرتب ہونے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ عراق، اردن ، سعودی عرب کے بعد ترکی کی جانب سے اس امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیا گیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح طور پر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔مسلم ممالک کےبعد یورپی ممالک نے بھی اس ممکنہ امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دوریاستی فارمولے کو نقصان پہنچے گا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر پارلیمان میں ممکنہ مواخذے کی وجہ سے جلد سے جلد اس حکم نامے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جس کا ڈرافٹ ایک اطلاع کے مطابق تیار کروالیا گیا ہے جس پر دستخط کرتے ہی امریکا کی جانب سےمقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا عمل مکمل ہوجائے گا-واضح رہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی یہودی کارپوریشنز اور کمپنیاں اسرائیلی دارالحکومت کے یروشلم منتقل ہونے پر نیویارک کی مشہور زمانہ وال سٹریٹ کی بھی نئے دارالحکومت منتقلی کی خواہاں ہیں جس سے دنیا کا اقتصادی نظام بھی یروشلم منتقل ہو جائے گاجس سے امریکی معیشت دبائو میں آسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا کے سنجیدہ حلقے جلد سے جلد صدر ٹرمپ کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے ممکنہ حکم نامے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کو بھانپتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارتی عملےاور مشنز کو سرگرمیاں محدود کرنے اور غیر ضروری سفر سے بھی روک دیا ہے۔
دنیا
جارحیت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دیں، ایران کا ہمسایہ ممالک سے مطالبہ
تہران، ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت پسندوں (امریکہ اور اسرائیل) کو اپنی سرزمین تہران کے خلاف حملوں کیلیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے ریڈار سسٹم اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر حملہ کیا، دہشتگرد فوج نے حملہ ہفتے کی صبح سیرک اور جزیرہ قشم میں کیا، تنصیبات کا مقصد ملکی سرحدوں اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی حفاظت کرنا تھا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حملہ یکم اپریل کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے جس کی پُرزور مذمت کرتے ہیں، ایرانی مسلح افواج نے جائز دفاع کے حق کے تحت جارحانہ اقدام کا مؤثر جواب دے دیا ہے، مسلح افواج نے پوری طاقت اور عزم کے ساتھ جارحیت کے منصوبہ سازوں کے مقاصد ناکام بنا دیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف کشیدگی کو کم کرنے کا عزم نہیں رکھتا، وہ اپنی مہم جوئی سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، کشیدگی میں کسی بھی ممکنہ اضافے کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔
عباس عراقچی نے مطالبہ کیا کہ خطے کے ہمسایہ ممالک اچھی ہمسائیگی کے اصول پر عمل کریں، وہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول کی پاسداری کریں اور جارحیت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جوہری مقامات پر حملے عالمی جوہری ادارے کی نگرانی منقطع ہونے کا سبب بنے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
تہران، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران کے بعض جوہری مقامات پر فوجی حملے عالمی جوہری ادارے کی نگرانی کا سلسلہ منقطع ہونے کا سبب بنے۔
جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری مقامات پر عالمی ادارے کی نگرانی سے دوری ایرانی عدم تعاون کا نتیجہ نہیں، عالمی جوہری ادارہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ابہام پیدا کرنے کے لیے امریکی اسرائیلی حملوں کے نتائج کو استعمال کر رہا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اگر آئی اے ای اے سفارتی حل کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی تکنیکی رپورٹس کو سیاسی دباؤ کا آلہ بنانے سے گریز کرنا ہو گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم جلد ہی ایران سے نکل جائیں گے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ٹرمپ نے وسکونسن ریاست کے زرعی علاقوں کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ ایجنڈے کے اہم امور پر بات چیت کی۔
ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے نکلے تھے، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے انہوں نے اس ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ یہ صورتحال جلد ہی ختم ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا، “ہم بہت جلد ایران سے باہر نکل آئیں گے، چاہے یہ کسی معاہدے کے ذریعے ہو یا کسی بہت سخت طریقے سے، ہر صورت میں ایسا ہو کر رہے گا۔ شاید سب سے سخت طریقے ہی سب سے آسان راستے ہوں لیکن ہم وہاں سے نکل جائیں گے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ کوئی بھی ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ہم نے اس کام کو بڑے پیمانے پر نمٹا دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے، کسی نہ کسی طرح یہ معاملہ اب حل ہو چکا ہے۔” اس کے علاوہ، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے متعلق عمل مکمل ہونے کے بعد امریکہ میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں قلیل وقت میں نیچے آ جائیں گی، انہوں نے امریکی عوام سے تھوڑا صبر کرنے کی اپیل کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا7 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا7 days agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب




































































































