دنیا
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای فیصلہ سازی کے عمل میں پوری طرح شامل
تہران، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید چوٹوں سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور عوام کے سامنے آئے بغیر فیصلہ سازی کے عمل میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ اس کی تصدیق جناب مجتبیٰ کے ساتھیوں نے کی ہے۔
مسٹر مجتبیٰ اس حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے جس میں ان کے والد اور ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جنگ کے آغاز میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی حالت سے واقف ذرائع کے مطابق، جناب مجتبیٰ کو تہران میں سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر حملے میں چہرے پر شدید چوٹیں آئیں اور ان کی ٹانگوں کو کافی نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس کی چوٹیں سنگین ہیں، لیکن معاونین کا دعویٰ ہے کہ وہ ذہنی طور پر چوکنا ہیں۔ وہ آڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اعلیٰ سطحی بات چیت میں شرکت کرتے رہتے ہیں، بشمول جنگ اور امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات۔ ان کے کردار کی جانچ پڑتال ایران کے لیے ایک نازک وقت میں سامنے آئی ہے، کیونکہ پاکستان میں جنگ بندی کی بات چیت جاری ہے اور ملک کو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ غیر مستحکم دور کا سامنا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 فروری کے حملے اور 8 مارچ کو سپریم لیڈر کے عہدے پر ان کی باضابطہ ترقی کے بعد سے ان کی کوئی تصویر یا ریکارڈنگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
سرکاری میڈیا نے بھی ان کی حالت کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی ہیں۔ اس حملے میں جس نے ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کیا، اس میں ان کی اہلیہ اور سسرال والوں سمیت جناب مجتبیٰ کے خاندان کے کئی افراد بھی مارے گئے۔ اپنے والد کے برعکس، جنہوں نے کئی دہائیوں تک اقتدار سنبھالا، مسٹر مجتبیٰ ہمیشہ پردے کے پیچھے رہنے والی شخصیت رہے ہیں۔ اب، جیسے ہی وہ صحت یاب ہو رہا ہے، وہ اپنے قائم کردہ سپورٹ نیٹ ورک، خاص طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ آئی آر جی سی اب ایران کے طاقت کے ڈھانچے کے اندر فیصلہ سازی میں براہ راست کردار ادا کرتا ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد جناب مجتبیٰ کے قوم سے پہلے تحریری خطاب میں آبنائے ہرمز کو بند رکھنے اور وہاں امریکی اڈوں کے بارے میں علاقائی ممالک کو خبردار کرنے کے حوالے سے سخت موقف شامل تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
معاہدے کے 14 نکات، ایران کا ایٹمی معاملہ ملتوی کر دیا گیا ہے: عباس عراقچی
تہران، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ابھی ایران کا امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوا، مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طور پر ہوں گے اور اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب یہ طے ہو جائے گا تو عوام کو اس کی مکمل تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا، معاہدے کے 14 نکات ہوں گے جبکہ ایران کے ایٹمی معاملے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر یہ نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے منجمد فنڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی عبوری معاہدے کا حصہ ہے، ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائے گا تاہم ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ معاہدے میں لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے گا، لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیل کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلاء ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
واشنگٹن، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے گزشتہ ماہ خفیہ اور ہنگامی بنیادوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیج کر اس کے جوہری پروگرام کے اہم ترین جزو یعنی انتہائی افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ بریفنگ اتنی حساس اور فوری نوعیت کی تھی کہ جنرل ڈین کین کو برسلز میں نیٹو حکام کے اجلاس سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس انتہائی حساس نوعیت کی کارروائی کی منظوری دینے کے قریب تھی۔ بعد ازاں جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی تاہم ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس کارروائی روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ بھاری جانی نقصان پر بھی تشویش تھی جس کے باعث انہوں نے فوج کو گرین سگنل دینے سے گریز کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
واشنگٹن-تہران بات چیت میں “امید” اور “احتیاط” ایک ساتھ جاری
واشنگٹن، تہران، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل سے جاری “تناؤ اور مذاکرات” کے چکر میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیان “معاہدہ متن تیار ہے” کے بیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ہم نے ایک شاندار معاہدہ کیا ہے” کے اشاروں سے تیزی پکڑنے والے اس عمل کے دوران، میز پر موجود شرائط اور متفقہ “اسلام آباد معاہدہ” کی تفصیلات واضح ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
تہران کے نمائندے ہارون آئکاچ اور واشنگٹن کے رپورٹر تونا شانلی کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے “متفقہ ضابطے” کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جوہری مواد کے تلف کیے جانے اور ایران کے اندر سیاسی نقطہ نظر کے اختلافات “حتمی دستخط” سے قبل صورتحال کو نازک رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے اس مسودے کے حوالے سے جسے وہ “اسلام آباد معاہدہ” کہتے ہیں، تہران کی جانب سے آنے والی معلومات ایران کی حکمتِ عملی اور سرخ لکیروں کو واضح کرتی ہیں۔ ہارون آئکاچ کے بیان کے مطابق؛ تہران انتظامیہ نے سب سے نازک مسئلے یعنی جوہری معاملے کو “دوسرے مرحلے” میں رکھنے کی پیشکش قبول کی ہے۔
ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر واضح طور پر اعتراض کیا ہے اور اس کی جگہ اس ذخیرے کی “شرح افزودگی” میں تحفیف لانے کی تجویزپیش کی ہے۔ آبنائے ہرمز کو تجارتی نقل و حمل کے لیے کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے؛ تاہم سیکیورٹی کا سابقہ درجہ بحال نہیں ہوگا اور اسے ایران اور عمان کے کنٹرول میں رکھے جانے کی شرط رکھی گئی ہے۔
اسرائیل کے لبنان میں حملوں سمیت علاقے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس عمل کے دوران ایران کے بین الاقوامی نظام میں موجود مالی اثاثوں کی واپسی کا بھی ہدف رکھا گیا ہے۔
تونا شانلی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ذرائع اور ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کی بنیاد پر سامنے آنے والا “پانچ نکاتی منصوبہ” مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:
– جوہری مواد کی منتقلی: امریکہ جوہری ذخیرے کے تلف یا ایران سے باہر منتقل کیے جانے پر مُصر ہے۔
– جوہری پروگرام کا خاتمہ: پروگرام کے مکمل طور پر ختم کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
– مطابقت شرطی واپسی: منجمد فنڈز کو آزاد کرنے کے لیے ‘معاہدے کی مکمل پابندی’ شرط رکھی گئی ہے۔
– آبنائے ہرمز: محاصرہ ختم کیا جائے اور آبنا کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔
– دہشت گردی کی مالی معاونت: علاقائی گروپوں کو فراہم کردہ مالی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ
طے پا گیا تو ایران کی بین الاقوامی نظام میں مکمل شمولیت کا راستہ کھولنے کا منصوبہ ہے۔ اس تناظر میں ایک وسیع اقتصادی پیکیج زیرِ غور ہے جو حتیٰ کہ امریکی کمپنیوں کو بھی ایران کے تیل تک رسائی فراہم کرے گا۔ فریقین کے اسی ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ملاقات کے امکان کے پیشِ نظر، سفارتی ذرائع اس عمل کو ‘امید افزا مگر محتاط’ انداز میں چلانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ





































































































