تازہ ترین
مشرقی لداخ:ہند۔چین سرحدی کشیدگی اور تعطل برقرار

’چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال نازک اور گھمبیر‘
مذاکرات کے ذریعے سرحدی کشیدگی کا خاتمہ ممکن،ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار: آرمی چیف
خبراردو:-
سرینگر: بری فوج کے سربراہ، جنرل منوج مکند نروانے نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال نازک اور گھمبیر ہے،تاہم مذاکرات کے ذریعے سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔اس دوران انہوں نے اپنے2روزہ دورہ لداخ کے دوران زمینی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور فوجی افسران کیساتھ سلامتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق لداخ کے2روزہ دورے پربری فوج کے سربراہ، جنرل منوج مکند نروانے نے کہا کہ چین کیساتھ سرحد پر صورت ِ حال نازک اور گھمبیر ہے۔آرمی چیف نے سرحدی علاقے کے دورے کے موقع پر جمعے کو خبر رساں ادارے’اے این آئی‘ سے گفتگو کی۔انہوں نے اعتراف کیا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر صورتِ حال ’معمولی‘ کشیدہ ہے۔
ان کے بقول ہمیں توقع ہے کہ سرحدی تنازعہ مکمل طور پر بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔بھارت اور چین کے درمیان کوئی مستقل سرحد نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کو تقسیم کرنے والی سرحد کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے۔ جہاں دونوں ملکوں کی فوجیں گزشتہ کئی ماہ سے الرٹ ہیں جب کہ چند روز قبل ہی بھارت نے لداخ میں اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے ہیں۔
ادھر خبروں کے مطابق دونوں ممالک نے سرحد پر بڑے ہتھیار بھی نصب کئے،جن میں بیلسٹک مزائیل بھی شامل ہیں جبکہ جنگی طیاروں کو بھی لداخ کے خطے میں اُتار ا گیا ہے اور ہر روز دونوں ممالک کے جنگی طیاروں کی گرگرا ہٹ سے فضائیں گونج رہی ہیں۔ آرمی چیف سرحدی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے جمعرات کو ہی لداخ پہنچے ہیں۔
اْن کے بقول اہلکاروں کا ’مورال‘ یعنی حوصلہ بلند ہے اور وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ انہوں نے سرحد پر موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور افسران اور اہلکاروں سے بات چیت بھی کی ہیفوجی سربراہ جنرل ایم ایم نرونے نے کہا ’ہم اس کے بارے میں مستقل طور پر غور و خوض کر رہے ہیں، ہم نے اپنی حفاظت کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں، مجھے امید ہے کہ ہم نے جو تعیناتی کی ہے اس سے ہم اپنی حفاظت کرنے میں کامیاب رہیں گے‘۔
جنرل منوج نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران سرحد پر کشیدہ صورتِ حال ہے لیکن ہم عسکری اور سفارتی سطح پر چین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ بات چیت کا عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے اختلافات کا حل تلاش کر لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ’میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے فوجی نہ صرف ہندوستانی فوج بلکہ ملک کا نام بھی روشن کریں گے‘۔
یاد رہے کہ رواں برس جون میں لداخ کی گلوان وادی میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس واقعہ میں چینی فوج کے40اہلکار بھی ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے،تاہم چین نے ابھی تک اسکی تصدیق نہیں کی۔رواں ہفتے ہی بھارتی فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ چین نے مشرقی لداخ میں ایک مرتبہ پھر سرحدی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم چین نے بھارتی فوج کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
فوج نے پیر کو جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے ہفتے کو لداخ کی پیانگونگ تسو جھیل کے جنوبی کنارے سے سرحدی حد بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔اسی روز چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڑاؤ لی جیان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بھارت کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی افواج لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی مکمل پاسداری کر رہی ہیں اور اسے کبھی عبور نہیں کیا گیا۔
دنیا
ایران اور امریکہ میں آج ہونے والے مذاکرات معطل
واشنگٹن، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران میں رواں ہفتے پیر سے شیڈول مذاکرات معطل ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا تازہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پیر کو سوئٹزرلینڈ میں شیڈول ٹیکنیکل کمیٹیوں کے مذاکرات معطل کر دیے گئے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی افواج پر حملے کیے ہیں اور مزید حملوں کی صورت میں ’’تباہ کن جواب‘‘ دینے کی وارننگ دی ہے۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ بحرین اور کویت میں 8 امریکی تنصیبات پر ایران نے میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا، ایرانی نیوی اور ایئرو اسپیس فورس نے مشترکہ طور پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور یہ حملہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی امریکہ نے کی اور یہ مفاہمتی یادداشت کی شق 1 کے منافی ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی مزید سخت ہوگی اور اس کے نتیجے میں تمام سفارتی عمل مکمل طور پر روک دیا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران میں 10 اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹکام نے کہا کہ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا، ایرانی ڈرون نے پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت



































































































