تازہ ترین
معروف ماہر تعلیم آغا اشرف علی کون تھے؟

وادی کشمیر کے معروف ماہر تعلیم آغا اشرف علی 97 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
خبراردو:-
معروف ماہر تعلیم آغا اشرف علی گزشتہ رات کے دوران اپنی رہائش گاہ پر انتقال کرگئے۔ وہ 97 برس کے تھے۔ انہیں سنیچر کو سرینگر شہر کے علمگری بازار میں واقع آبائی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ اشرف علی نے جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام میں بہتری کے حوالے سے کلیدی کردار نبھایا ہے۔
آغا اشرف علی کے لواحقین کے مطابق وادی میں عالمی وبا کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر کسی بھی قسم کی تعزیتی مجلس کا انعقاد نہیں کیا جائے گا تاہم عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ فاتحہ خوانی ذاتی طور پر، بذریعے فون یا پھر سماجی رابطہ کی ویب سائٹ کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں۔
سرینگر شہر میں 18 اکتوبر 1922 کو پیدا ہونے والے آغا اشرف علی، آغا ظفر علی قاضی باش کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔ ان کے خاندان میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جاتی تھی۔ اشرف علی کی والدہ بیگم ظفر علی کشمیر کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ اشرف علی کی ابتدائی تعلیم سری نگر کے مشہور مشنری اسکول میں ہوئی اور گریجویشن کی ڈگری انہوں نے شری پرتاپ کالج سے حاصل کی۔کالج کے دوران سنہ 1941 میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی تقریر سے اشرف علی اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ذاکر حسین کو اپنا استاد مان لیا جس کے ساتھ ہی ان کی اپنی شخصیت میں بھی کافی تبدیلی آئی۔
گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اشرف علی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے انہیں سنہ 1945 میں مورسن میڈل سے نوازا گیا۔ تاریخ کے مضمون میں ماسٹرز ڈگری امتحانات میں انہوں نے اول مقام حاصل کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا اور اس دوران وہ متعدد دانشوروں کے رابطے میں آئے۔ ان شخصیتوں میں ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر مجیب، پروفیسر حبیب، پروفیسر عابد حسین شامل ہیں۔ دانشوروں کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے کے سبب انہیں مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کرنے کا بھی موقع ملا۔
اشرف علی ان سب شخصیات سے کافی متاثر ہوئے اور ان کے ذہن پر گہری چھاپ پڑی۔ ہند و پاک کی تقسیم کے بعد آغا اشرف علی کو واپس کشمیر آنا پڑا کیونکہ ان سے کہا گیا کی مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انھیں انگلستان جانا ہوگا۔لکھنؤ کی رہنے والی صوفیہ سے نکاح کے بعد اشرف علی انگلینڈ کے لیے روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے تعلیم کے نظام کے حوالے سے ڈپلومہ کا کورس کیا اور سنہ 1951 میں فرانس، جرمنی، سویڈن، سوئزرلینڈ اور ڈنمارک کا دورہ کر کے وہاں کے تعلیمی نظام کو جاننے کی کوشش کی۔
جس کے بعد وہ واپس کشمیر لوٹے، جہاں انہیں جموں و کشمیر کے اُس وقت کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ بطور آفیسر اسپیشل ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا۔وادی آنے کے ایک برس بعد 1952 میں انہیں کشمیر کا انسپکٹر آف اسکولز بنایا گیا۔ آغا اشرف علی نے اپنے کیرئر میں کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ سنہ 1954 میں انہیں ٹیچرس کالج آف ایجوکیشن کا آفیشیٹنگ پرنسپل مقرر کیا گیا بعد میں انہیں نیشنل ایکسٹینشن ٹریننگ سینٹر کا پرنسپل بنایا گیا۔جب غلام محمد صادق کو وزیر تعلیم مقرر کیا گیا تب اشرف علی کو دوبارہ سے انسپکٹر اسکول کی ذمہ داریاں سنبھالنے کو کہا گیا تاہم وہ راضی نہیں ہوئے اور کہا کہ ’’میں ٹیچرس کالج کا پرنسپل ہی ٹھیک ہوں کیونکہ یہاں سے بہتر استاد نکل سکتے ہیں۔‘‘
ان کی اس خواہش کا احترم کیا گیا اور سنہ 1955 سے لےکر 1960 تک وہ ٹیچرس کالج کے پرنسپل رہے۔ جس کے بعد وہ اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے۔سنہ 1967 میں وہ امریکہ کی یونیورسٹی بال اسٹیٹ ٹیچرز کالج کے پہلے پی ایچ ڈی ہولڈر بنے، وہ جب واپس وادی آئے تو انہیں دوبارہ سے کچھ وقت کے لئے آفیسر اسپیشل ڈیوٹی مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد کشمیر یونیورسٹی نے پوسٹ گریجویٹ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن شروع کیا جہاں انہیں پروفیسر مقرر کیا گیا۔ وہ یونیورسٹی کے پہلے کشمیری پروفیسر تھے ان سے قبل وہاں صرف لیکچرر اور ریڈرس ہی ہوا کرتے تھے۔
بطور پروفیسر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ انہوں نے ذہین طلباء کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنا شروع کیا اور جو طلباء تعلیم حاصل کر کے واپس وادی آئے انہیں یہاں کے اسکولوں نے اچھی تنخواہ پر بطور استاد مقرر کیا۔ وہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی بگوان سائیں کمیٹی کے رکن بھی رہے۔سنہ 1975 میں انہیں جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ بطور چیئرمین انہوں نے وادی کے تمام سکولوں میں ریاضی اور سائنس کو لازمی قرار دیا۔ وہ سنہ 1982 میں بطور کمشنر آف ہائیرایجوکیشن ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 1988 میں انہیں کمپیوٹر اتھارٹی آف جموں و کشمیر کا چیئرمین بنایا گیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اشرف علی کا سفر ختم نہیں ہوا۔ وہ لگاتار یونیورسٹیوں، کالجوں میں اسکولوں میں اپنے لیکچروں سے طلباء کو متاثر کرتے رہے۔ آغا اشرف علی کو نہ صرف تعلیم بلکہ ہر ایک شعبے پر عبور حاصل تھا جو ان کی تقریروں میں اور مباحثوں میں صاف نظر آتا تھا۔انہیں سنہ 2004 میں جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی جانب سے رکن قانون سازیہ بننے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انہوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ان کی کارکردگی کے لیے انہیں سینکڑوں انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں ’’پرائیڈ آف ایجوکیشن‘‘ اور ’’نگینہ وطن‘‘ کے خطابات سے بھی سرفراز کیا گیا۔
سنہ 2011 میں اشرف علی نے اپنی سوانح عمری ’’کچھ تو لکھیے کہ لوگ کہتے ہیں‘‘ اردو زبان میں شائع کی۔سنہ 1997 میں اشرف علی کی اہلیہ صوفیہ آغا کا انتقال ہوا۔ صوفیہ بھی ایک مشہور تعلیم داں تھیں اور سری نگر میں واقع کالج آف ایجوکیشن کی پرنسپل اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن رہیں۔ اشرف علی کا بڑا بیٹا آغا شاہد علی پوری دنیا میں اپنی شاعری کے لیے مشہور تھا۔ ان کا انتقال سنہ 2001 میں ہوا۔ اشرف علی کا دوسرا بیٹا ڈاکٹر آغا اقبال علی، اور دو بیٹیاں – ڈاکٹر حسین احمد اور ڈاکٹر سمیت آغا- اس وقت امریکہ میں بطور پروفیسر کام کر رہے ہیں۔(ای ٹی وی)
جموں و کشمیر
کٹھوعہ ادھم پور میں ترقی فائلوں سے زمین پر منتقل ہوگئی ہے: جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کٹھوعہ- ادھم پور لوک سبھا حلقہ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی فائلوں سے زمین پر منتقل ہوئی ہے۔
لوک سبھا میں مسلسل تیسری بار اس حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے یو این آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، “اس حلقہ میں ترقی کا انداز، جس میں پانچ اضلاع شامل ہیں: کٹھوعہ، ادھم پور، ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن، گزشتہ دس برسوں میں مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ ہم اب وعدوں سے آگے بڑھ کر ترقیاتی کاموں کی طرف بڑھ چکے ہیں۔”
خطے میں اس تبدیلی اور بنیادی ڈھانچے کی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا، “کٹھوعہ-ادھم پور حلقہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مضبوط سیاسی عزم، سائنسی طریقے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ایک مشکل جغرافیائی خطے کی تقدیر کو بدل سکتی ہے اور اسے مواقع اور ترقی کے مرکز میں تبدیل کر سکتی ہے۔”
وزیرموصوف نے کہا کہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی علامت جموں سری نگر ہائی وے پر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل ہے جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ مزید برآں، آئندہ کٹرہ-دہلی ایکسپریس وے سے سفر کے وقت کو پانچ سے چھ گھنٹے تک کم کرنے کی امید ہے، جبکہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے پورے خطے میں 200 سے زیادہ پل تعمیر کیے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور میں 190 کروڑ روپے کے دیویکا ریور فرنٹ پروجیکٹ نے مقدس دیویکا ندی کے کناروں کو جدید شہری شکل دی ہے۔ بسوہلی میں دریائے راوی کے اوپر مشہور کیبل سے بنے اٹل سیٹو اور کٹھوعہ میں کڈیان-گنڈیال پل نے اس خطے میں سفر کو بہت سہولت فراہم کی ہے۔
ریلوے کنکٹی وٹی پر بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا، “دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل، چناب ریل برج کی تعمیر اور ادھم پور اور کٹھوعہ کے راستے کٹرہ اور دہلی کے درمیان دو وندے بھارت ٹرینوں کے آغاز سے ریل رابطہ نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔”
مزید برآں، مسٹر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور ریلوے اسٹیشن کا نام شہید تشار مہاجن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ شمالی ہندوستان کا پہلا صنعتی بایو ٹیک پارک کٹھوعہ میں قائم کیا گیا ہے اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن کے ذریعہ قائم کردہ “بایو نیسٹ انکیوبیٹر، گٹھی، کٹھوعہ میں اختراعات کو فروغ دے رہا ہے۔ کٹھوعہ میں “آرکڈ بایو فارما” کا سنگ بنیاد رکھنا عالمی سطح پر فارماسیوٹیکل سیکٹر میں ایک بڑی چھلانگ کی نمائندگی کرتا ہے۔
مرکزی وزیر نےکہاا کہ وزیر اعظم نے اپنے “من کی بات” پروگرام میں خوشبو مشن کے تحت ڈوڈہ میں “جامنی انقلاب” (لیوینڈر کی کاشت) کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن نے کسانوں کو سائنس سے جوڑ دیا، جس سے لیوینڈر کی کاشت کے ذریعے مقامی معیشت میں مکمل تبدیلی آئی۔
ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ادھم پور کے منٹلائی میں بین الاقوامی یوگا سنٹر کی تعمیر، مانسر جھیل کو سودیش درشن اسکیم میں شامل کرنا اور کشتواڑ میں مچیل یاترا میں سہولیات کی بہتری سبھی طبقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کیے گئے اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر نے کہا، “راشٹریہ اوچتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) کے تحت پاڈر کے پہاڑی علاقے میں ایک ڈگری کالج کے افتتاح نے اعلیٰ تعلیم کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچایا ہے۔ محض ضلع کشتواڑ میں پکل ڈل، کیرو، کوار، دول ہستی اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بجلی کی حفاظت فراہم کریں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ صرف پچھلے ایک سال میں خطے میں 21 بڑے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ ان میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور ادھم پور کے لیے نیشنل ہائی وے 244 کے تحت منظور شدہ تقریباً 9,800 کروڑ روپے کے سرنگ پروجیکٹ شامل ہیں۔ چترگلا ٹنل، ادھم پور ہوائی اڈے کا آپریشنلائزیشن اور کشتواڑ کو اڑان اسکیم میں شامل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فضائی خدمات اب پہاڑی علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سال کے بادل پھٹنے کے سانحے کے بعد حساس علاقوں جیسے مچیل اور پیڈر میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہاں زلزلہ آبزرویٹری میں خودکار موسمی اسٹیشن نصب کیے گئے ہیں، اور ڈوڈہ کے لیے ایک ڈوپلر ویدر رڈار تجویز کیا گیا ہے۔
سڑک کنیکٹی وٹی پر وزیر نے کہا، “1000 کروڑ روپے سے زیادہ کے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے پروجیکٹوں کا افتتاح یا آغاز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ہیراگر کے سیلاب سے متاثرہ سرحدی دیہاتوں کے لیے ایک نینو ٹیکنالوجی پر مبنی واٹر فلٹریشن پلانٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اب آخری میل تک پہنچ رہی ہے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے نوٹ کیا کہ کٹھوعہ-ادھم پور پارلیمانی حلقہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران کئی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان میں ممبر آف پارلیمنٹ (ایم پی ایل اے ڈی) کے فنڈز سے آئی سی یو ایمبولینس، پینے کے پانی کے لیے ہینڈ پمپ، ڈوڈہ میں کھیل کے میدانوں میں سولر لائٹس، کٹھوعہ شہر میں ایک کثیر المنزلہ پارکنگ کمپلیکس، شہید نائک وکیل سنگھ جسروٹیا کے نام سے منسوب لڑکیوں کا اسکول، بلاور میں منصف کورٹ، اور رام کوٹ میں ایک کیندریہ ودیالیہ شامل ہیں۔
وزیر نے کہا، “اس خطے کی ترقی عوام کو ذہن میں رکھ کر کی جا رہی ہے تاکہ ڈوڈہ یا کشتواڑ کے سب سے دور دراز گاؤں بھی ملک کی ترقی کی کہانی سے جڑے ہوئے محسوس کر سکیں۔”
مسٹر سنگھ نے مزید کہا، “وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام سرکاری اسکیموں اور ترقیاتی کاموں کے فائدے قطار میں کھڑے آخری شخص تک پہنچنے چاہئیں اور اس ویژن کے ساتھ ہم اس خطے کو مزید مضبوط اور مستقبل میں ایک ماڈل حلقہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی سیاست دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے: میر واعظ
سری نگر، کشمیر کے سرکردہ عالم دین اور حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے پیر کو کہا کہ عالمی سطح پر چل رہی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی سیاست دنیا کو عدم استحکام اور خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں سے مسلسل اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
رواں سال فروری میں امریکی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بمینہ میں آغا سید ہادی الموسوی کی جانب سے نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے انہیں عالمی مسلم برادری کی عظیم شخصیت قرار دیا جو مظلوموں بالخصوص مظلوموں اور بے آواز لوگوں کے لیے مسلسل کھڑے رہے۔
میرواعظ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کر کے کبھی بھی حقیقی معنوں میں کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ “افسوس کی بات ہے کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی بین الاقوامی سیاست پوری دنیا کو عدم استحکام اور خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کا اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں سے تیزی سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کر کے کوئی بھی جنگ حقیقی معنوں میں نہیں جیتی جا سکتی۔”
کشمیری عوام کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی محبت کو یاد کرتے ہوئے میرواعظ نے کشمیر کے اپنے تاریخی دورے اور مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کے ساتھ تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کو یاد کیا۔ انہوں نے مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں مرحوم رہنما کے کردار کی تعریف کی۔
کشمیر کی شناخت اور ثقافت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ نے خطے کی منفرد زبان اور روایات کو محفوظ رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
اردو کے حوالے سے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس زبان کو صرف اس لیے مذہبی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر مسلمان بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “تمام زبانیں احترام اور پہچان کی مستحق ہیں اور زبانوں کو سیاسی بنانا یا فرقہ وارانہ بنانا انتہائی بدقسمتی اور معاشرے کی جامع ثقافتی اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔”
میرواعظ نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم یو) کے بینر تلے مسلم دنیا کے تمام مکاتب فکر کے درمیان فرقہ وارانہ اتحاد، باہمی احترام اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ہوشیار رہیں، جو کمیونٹی کے اندر تفرقہ اور فرقہ وارانہ تفریق کو فروغ دیتے ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
انتخابات کے بعد مہنگائی بڑھاکر غریبوں کوچوٹ پہنچاتےہیں مودی :کھرگے
نئی دہلی ،کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر سیدھا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ الیکشن تک مہنگائی اور قیمتوں سے جڑی حقیقی صورتحال چھپاتے ہیں اور الیکشن ختم ہوتے ہی غریبوں کو نقصان پہنچانے والے فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ خمیازہ ملک کے غریب اور عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر پیر کو لکھا کہ اگر وزیراعظم مودی الیکشن سے پہلے پٹرول و ڈیزل سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھاتے تو بی جے پی کو اس کا بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑتا۔ اسی وجہ سے حکومت نے الیکشن تک تمام باتوں کو ملک سے چھپا کر رکھا لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور مسٹر مودی میں دوراندیشی کی کمی ہے اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے، جس سے غریبوں کو وہ ضروری چیزیں بھی نہیں مل پا رہی ہیں، جن کے وہ حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو نمایاں طور پر اٹھائے گی۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان1 week agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
تازہ ترین1 week agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا1 week agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین6 days agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی






































































































