پاکستان
ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر: پاکستانی وزیر خزانہ

خبراردو:
پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں قرض کی قدر اتنی خطرناک اونچائی پر پہنچ چکی ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
سوشل میڈیا کے ساتھ ملک کی معیشت کے سلسلے میں سوال وجواب کے خصوصی اجلاس میں عمر نے بدھ کو کہا ’’آپ اتنے بھاری بھرکم قرض کے بوجھ کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس جا رہے ہیں۔ ہمیں بھاری فرق کو پاٹنا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اگر پی ایم ایل -این دور کو دیکھیں تو مہنگائی ڈھائی پوائنٹس میں تھی، ہم شکرگزار ہیں کہ ابھی یہ اس سطح کو نہیں چھو پائی ہے‘‘۔
’جیو نیوز‘ کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی کی طرح مہنگائی ابھی ڈھائی پوائنٹس کو نہیں چھو پائی ہے۔ انہوں نے کہا ’’پہلے دیکھیں تو مہنگائی نے سماج کے ہر طبقے کو یکساں طور پر متاثر کیا، یہ صحیح ہے کہ مہنگائی نے غریبوں پر زیادہ اثر ڈالا، ہماری حکومت میں یہ صورت حال مختلف ہے، زیادہ آمدنی والے طبقہ کے مقابلے میں غریبوں پر مہنگائی کا نسبتاً کم اثر ہوا ہے‘‘۔
اسدعمر نے مانا کہ معیشت میں کساد بازاری کے نتیجے میں روزگار کی شرح سست ہے، انہوں نے کہا ’’آپ کہہ رہے ہیں میری ساری پالیسیاں اسحاق ڈار کی طرح ہی ہیں، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ میں نے معیشت کو چوپٹ کر ڈالا۔ ان کی مدت کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔ ڈالر مضبوط ہوا پہلے کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے اور اس وجہ سے ایک ملک کے ناطے ہمیں اتنا زیادہ نقصان ہوا۔ یہ طلب اور رسد کی قیمت ہے‘‘
پاکستان
پاکستان کا فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
راولپنڈی، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فتح 4 جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے اور طویل فاصلے تک انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ میزائل تجربے کا مشاہدہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران نے کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان نے فتح 4 کے کامیاب تجربے کو سراہا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فتح 4 میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی مقامی دفاعی صلاحیتوں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
پاکستان
پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
اسلام آباد، محمد اسحق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، اور اسلام آباد کی ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مستقل جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی اور بحری آمد و رفت کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں، جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے براہ راست ایرانی حکام سے رابطے کیے ہیں اور واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے کی سمت تیزی سے پیش رفت چاہتا ہے، تاہم اس معاملے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران “سو فیصد” یورینیم افزودگی روک دے گا اور امریکی دباؤ کے باعث تہران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے باز رکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی قیادت اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے “نیوکلیئر ڈسٹ” کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بالآخر اعلیٰ افزودہ یورینیم کے اس ذخیرے تک رسائی حاصل کر لے گا جو اب بھی ایرانی سرزمین کے اندر زیر زمین موجود ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جاری تنازع بغیر کسی عجلت کے حل ہو جائے گا اور ایران کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا ہے، جس سے اس کے مالی وسائل متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری دباؤ اور محاصرے کی طرف تھا۔
انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ بحری دباؤ کے نتیجے میں ایرانی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل پیر کی شام ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی صورتحال کو “آئی سی یو” میں قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کے ساتھ موجودہ معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے “پروجیکٹ فریڈم” کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ بھی دیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ یہ بیان منصوبے کے آغاز کے صرف ایک دن بعد سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو نئی تجاویز پیش کی تھیں، تاہم تہران کے ردعمل پر ٹرمپ نے ناراضی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ افزودہ یورینیم کی منتقلی، ایران کے اندر افزودگی کا عمل روکنے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ایرانی پابندی کے کھلا رکھنے جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بنے ہوئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
پاک-ایران وزرائے خارجہ کا رابطہ،مذاکراتی بحالی پر غور
اسلام آباد، پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ گفتگو اسلام آباد کی ان جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کو بحال کرنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل مدتی تنازع کا بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔ اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا محور “علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششیں” تھیں۔ جواب میں عباس عراقچی نے پاکستان کے “تعمیری” کردار اور دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی “مخلصانہ” کوششوں کی تعریف کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے تعمیری روابط کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل اور خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ یہ تازہ ترین رابطہ اس وقت ہوا ہے جب چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی ترمیم شدہ 14 نکاتی تجویز پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ایٹمی مسئلہ اس کی حالیہ تجویز کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس نے مشورہ دیا تھا کہ اس پیچیدہ مسئلے پر دونوں فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بحث کی جائے۔ ثالثی کے عمل سے واقف پاکستانی ذرائع نے اناطولیہ ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ نے اسلام آباد کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے اپنے جواب میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے کو مستقل جنگ بندی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران کی ترمیم شدہ تجویز میں مشورہ دیا گیا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کو مستقل جنگ کے خاتمے میں تبدیل کیا جائے اور ایٹمی مسئلے کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جائے۔ پاکستان نے 11-12 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، تاہم اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ یہ مذاکرات 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہوئے تھے جس کی بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع کر دی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان6 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا3 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا3 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان4 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا6 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان5 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین6 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا4 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان3 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا7 days agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا






































































































