اہم خبریں
ٹوجی گھوٹالہ ثابت نہیں،سبھی ملزمین بری

نئی دہلی، 21 دسمبر (یو این آئی)سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد(یو پی اے) حکومت کو ہلاکر رکھ دینے میں اہم رول ادا کرنے والے ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کے ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ میں سابق ٹیلی کوم وزیر اے راجہ، ڈی ایم کے کی رکن پارلیمنٹ کنی موزی سمیت تمام 19ملزمین کو آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بری کردیا۔پٹیالہ ہاوس واقع سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے اس اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کسی بھی الزام کو ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ’استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ دو فریق کے درمیان پیسے کا لین دین ہواہے۔ اس لئے تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔‘سال 2010 میں کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں اس گھپلہ کو ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اپنے الزام میں اسے تقریباَ 31ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ بتایا تھا۔الزامات سے بری ہونے والوں میں مسٹر راجہ اور محترمہ کنی موزی کے علاوہ اس وقت کے ٹیلی کوم سکریٹری سدھارتھ بیہورا، راجہ کے اس وقت کے پرائیوٹ سکریٹری آے کے چندولیا، سوان ٹیلی کوم کے پروموٹر شاہد عثمان بلوا اور ونود گوئنکا، یونیٹیک لمیٹیڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر سنجے چندرا ، ریلائنس انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین اعلی افسران سریندر پپرا، گوتم دوشی او رہری نائر ، کوسیگاوں فوڈس اینڈ ویجی ٹیبل پرائیوٹ لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر آصف بلوا اور راجیو اگروال، کلائنگر ٹی وی کے ڈائریکٹر شرد کمار اور فلم ساز کریم مورانی شامل ہیں۔ان کے علاوہ سوان ٹیلی کوم پرائیوٹ لمیٹیڈ ، یونیٹیک وائرلیس تمل ناڈو اور ریلائنس ٹیلی کوم لمیٹیڈ بھی اس معاملے میں ملزم تھے جنہیں بری کیا گیا ہے۔سی بی آئی نے مسٹر سینی کے سامنے ود گیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک کیس دائر کیا تھا۔سی بی آئی کے پہلے کیس میں راجہ اور کنی موزی کو اہم ملزم بنایا گیا تھا۔فیصلہ سنائے جانے سے پہلے عدالت کے احاطے میں زبردست بھیڑکی وجہ سے ملزمین عدالت نہیں پہونچ پائے تھے، اس کی وجہ سے کارروائی کچھ دیر کے لئے موخر کردی گئی۔ دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو انہوں نے ایک سطر کے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری وکیل الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران کنی موزی او راے راجہ کے حامی بھی عدالت کے کمرے میں موجود تھے۔ فیصلہ آتے ہی عدالت میں تالیاں بجنے لگیں۔ خیال رہے کہ ای ڈی نے اپنے چارج شیٹ میں ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی کی اہلیہ دیالو امل کو بھی ملزم بنایا تھا۔ اپنے عبوری رپورٹ میں ای ڈی نے دس افراد اور نو کمپنیوں کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ملزم بنایا تھا۔2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے تحت 2010 سے پہلے ”پہلے آو¿ پہلے پاو¿“ کے تحت الاٹمنٹ کیا جاتا تھا۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اس طریقے کار کو رد کرنے کے ساتھ ہی کئی الاٹمنٹ لائسنس مسترد کردئے گئے تھے۔بعد میں الاٹمنٹ نیلامی کے ذریعہ کیا جانے لگا تھا۔2014 میں عام انتخابات میں 2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ بڑا انتخابی موضوع بنا تھا۔فیصلے کے بعداپنے پہلے ردعمل میں کنی موزی نے کہا کہ ’میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو اس دوران میرے ساتھ کھڑے رہے۔ فیصلے کے بعد کانگریسی رہنماوں نے بھی بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ 2 جی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس کے سلسلے میں ا ن کی حکومت کے خلاف جو بڑے پیمانے پر وپگنڈہ کیا تھا وہ بالکل بے بنیاد تھا۔ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرنا چاہتا۔ فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے۔‘ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ’عدالت کے حکم کا احترام کیا جانا چاہئے۔ مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ یو پی اے کے خلاف پروپگنڈہ بے بنیاد تھا۔‘سابق ٹیلی کوم وزیر کپل سبل نے اسے قانونی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں کسی طرح کا نقصان نہیں ہونے کی ان کی بات درست ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر جن لوگوں نے الزام لگائے انہیں اب معافی مانگنی چاہئے۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر ممبر پارلیمنٹ پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز لوگوں پر گھپنے کے الزام کبھی درست نہیں تھے اور یہ اب ثابت ہوگیا۔کانگریس نے مزید کہا کہ ٹوجی گھپلہ پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں تمام ملزمین کے بری ہونے سے آج واضح ہوگیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار کے لئے سازش کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو اس کا جواب دینا چاہئے۔کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ٹو جی گھپلے جو فیصلہ آیا ہے اس سے دودھ کا دودھ او رپانی کا پانی ہوگیا ہے۔ بی جے پی اور اس کے چوٹی کے لیڈروں کی طرف سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بولا گیا جھوٹ سامنے آگیا ہے اور اب مسٹر مودی اور مسٹر جیٹلی جواب دہی سے نہیں بچ سکتے ہیں۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ اس معاملے میں سچائی سب کے سامنے آچکی ہے۔ بی جے پی نے ٹوجی بدعنوانی کو اقتدار کی سیڑھی بنایا اور اس کا خوب پروپیگنڈہ کیا اور اس جھوٹ کا پھل انہیں اقتدار کی صورت میں مل بھی گیا۔ اب ان کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ معافی صرف کانگریس اور ملک سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے مانگنی چاہئے کیوں کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا گھپلہ کہہ کر پروپیگنڈہ کیاگیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یو پی اے حکومت کو بدنام کرنے کے لئے یہ تانا بانا مسٹر مودی اور مسٹر جیٹلی اور سابق کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل ونود رائے نے مل کر تیار کیا تھا۔ ایک ماحول بنایا گیا اور ملک کو بدنام کیا گیا۔ اس سے معیشت کو بھی نقصان ہوا اور اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔اس دوران بی جے پی ممبر پارلیمنٹ اور ٹوجی معاملہ میں کافی سرگرم رہے سبرامنیم سوامی نے تمام ملزمین کوبری کئے جانے پر کہا کہ وہ اس فیصلے سے مایوس نہیں ہیں اور حکومت کو اونچی عدالت میں اسے چیلنج کرنا چاہئے۔دریں اثنا سی بی آئی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اونچی عدالت میں اپیل کرے گی
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا7 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا5 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا5 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی




































































































