پاکستان
پاکستان میں 18851 افراد کورونا وائرس سے متاثر، اموات 432 تک پہنچ گئیں

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز روز بروز بڑھتے جارہے ہیں اور آج مزید نئے کیسز کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 18851 ہوگئی جبکہ اموات 432 تک پہنچ چکی ہیں۔
ملک میں کورونا وائرس کو 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرچکا ہے اور اس دوران پاکستان میں ابتدا میں تو کیسز کے بڑھنے کی رفتار کم تھی بعد ازاں اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
26 فروری کو ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کے بعد سے 31 مارچ تک مجموعی کیسز کی تعداد 2000 سے زائد تھی جبکہ اس عرصے میں 8 اموات ہوئی تھیں۔
تاہم اپریل کے آغاز سے کورونا وبا کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا اور صرف ایک ماہ یعنی 30 اپریل تک ملک میں متاثرین ساڑھے 16 ہزار سے تجاوز کرگئے جبکہ اسی عرصے میں 359 اموات بھی ہوئیں۔
جس کے بعد ماہ مئی کا آغاز ہوا اور ابھی اس ماہ کے 2 ہی دن گزرے ہیں کہ وائرس کے کیسز ساڑھے 18 ہزار سے بڑھ گئے جبکہ اموات بھی 400 کا ہندسہ عبور کرگئیں۔
آج (3 مئی) کو بھی ملک میں کورونا وبا کے نئے کیسز سامنے آئے جبکہ اس وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
اسلام آباد
صبح سویرے آنے والے اعداد و شمار میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 28 کیسز کی تصدیق کی گئی۔
سرکاری سطح پر کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں مجموعی کیسز کی تعداد 365 سے بڑھ کر 393 تک پہنچ گئی۔
گلگت بلتستان
اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے مزید 16 کیسز کی تصدیق ہوئی۔
ان نئے کیسز کے بعد گلگت بلتستان میں بھی کورونا کے متاثرین 340 سے بڑھ کر 356 تک پہنچ گئے۔
آزاد کشمیر
علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں بھی مزید ایک فرد اس وائرس کا شکار ہوگیا۔
اگرچہ اس وقت ملک کا سب سے کم متاثرہ حصہ آزاد کشمیر ہے اور وہاں کیسز میں اضافے کی شرح بھی کم ہے تاہم ایک نئے کیس کے بعد آزاد کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 67 ہوگئی۔
صحتیاب افراد
ان کیسز کے باوجود موجودہ مریضوں کے لیے حوصلہ افزا بات دیگر متاثرین کا جلد صحتیاب ہونا ہے۔
ملک میں جس طرح کیسز بڑھ رہے ہیں اسی طرح شفا پانے والے افراد کی تعداد میں بھی درجنوں تو کبھی سیکڑوں کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مزید 64 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہوگئے۔
جس کے بعد ملک میں مجموعی طور پر صحتیاب افراد کی تعداد 4817 ہوگئی۔
ملک کی مجموعی صورتحال
ملک کی مجموعی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں تو اس وقت سندھ اور پنجاب کے کیسز میں زیادہ بڑا فرق نہیں ہے۔
سندھ میں کیسز کی تعداد 7102 جبکہ پنجاب میں 6854 ہے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا میں 2907 افراد متاثر ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 1172 ہوچکی ہے۔
اسلام آباد میں نئے کیسز کے بعد مجموعی طور پر 393 افراد متاثر ہوئے ہیں تو وہیں گلگت بلتستان میں یہ تعداد 356 ہے۔
مزید برآں آزاد کشمیر میں اب تک 67 لوگوں کو یہ وائرس متاثر کرچکا ہے۔
دوسری جانب ملک میں اموات کے حساب سے سب سے زیادہ خیبرپختونخوا متاثر ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا: 172
سندھ: 122
پنجاب: 115
بلوچستان: 16
اسلام آباد: 04
گلگت بلتستان: 03
آزاد کشمیر: کوئی نہیں
پاکستان میں کورونا وائرس
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
تاہم اس کے بعد مذکورہ وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے اور اب تک ساڑھے 18 ہزار سے زائد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں اموات
ملک میں 18 مارچ کو کورونا وائرس سے پہلی موت خیبرپختونخوا میں ہوئی جس کے بعد 31 مارچ تک مجموعی اموات 26 تک پہنچیں۔
تاہم یکم اپریل سے لے کر 30 اپریل تک مزید 359 اموات دیکھی گئیں، بعد ازاں مئی کے آغاز میں ہی ملک میں اموات کی تعداد 400 سے تجاوز کرگئی یے اور یہ کورونا وائرس سے متعلق تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان
پاکستان کا فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
راولپنڈی، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فتح 4 جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے اور طویل فاصلے تک انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ میزائل تجربے کا مشاہدہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران نے کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان نے فتح 4 کے کامیاب تجربے کو سراہا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فتح 4 میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی مقامی دفاعی صلاحیتوں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
پاکستان
پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
اسلام آباد، محمد اسحق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، اور اسلام آباد کی ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مستقل جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی اور بحری آمد و رفت کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں، جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے براہ راست ایرانی حکام سے رابطے کیے ہیں اور واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے کی سمت تیزی سے پیش رفت چاہتا ہے، تاہم اس معاملے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران “سو فیصد” یورینیم افزودگی روک دے گا اور امریکی دباؤ کے باعث تہران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے باز رکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی قیادت اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے “نیوکلیئر ڈسٹ” کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بالآخر اعلیٰ افزودہ یورینیم کے اس ذخیرے تک رسائی حاصل کر لے گا جو اب بھی ایرانی سرزمین کے اندر زیر زمین موجود ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جاری تنازع بغیر کسی عجلت کے حل ہو جائے گا اور ایران کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا ہے، جس سے اس کے مالی وسائل متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری دباؤ اور محاصرے کی طرف تھا۔
انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ بحری دباؤ کے نتیجے میں ایرانی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل پیر کی شام ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی صورتحال کو “آئی سی یو” میں قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کے ساتھ موجودہ معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے “پروجیکٹ فریڈم” کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ بھی دیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ یہ بیان منصوبے کے آغاز کے صرف ایک دن بعد سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو نئی تجاویز پیش کی تھیں، تاہم تہران کے ردعمل پر ٹرمپ نے ناراضی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ افزودہ یورینیم کی منتقلی، ایران کے اندر افزودگی کا عمل روکنے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ایرانی پابندی کے کھلا رکھنے جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بنے ہوئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
پاک-ایران وزرائے خارجہ کا رابطہ،مذاکراتی بحالی پر غور
اسلام آباد، پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ گفتگو اسلام آباد کی ان جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کو بحال کرنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل مدتی تنازع کا بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔ اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا محور “علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششیں” تھیں۔ جواب میں عباس عراقچی نے پاکستان کے “تعمیری” کردار اور دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی “مخلصانہ” کوششوں کی تعریف کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے تعمیری روابط کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل اور خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ یہ تازہ ترین رابطہ اس وقت ہوا ہے جب چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی ترمیم شدہ 14 نکاتی تجویز پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ایٹمی مسئلہ اس کی حالیہ تجویز کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس نے مشورہ دیا تھا کہ اس پیچیدہ مسئلے پر دونوں فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بحث کی جائے۔ ثالثی کے عمل سے واقف پاکستانی ذرائع نے اناطولیہ ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ نے اسلام آباد کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے اپنے جواب میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے کو مستقل جنگ بندی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران کی ترمیم شدہ تجویز میں مشورہ دیا گیا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کو مستقل جنگ کے خاتمے میں تبدیل کیا جائے اور ایٹمی مسئلے کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جائے۔ پاکستان نے 11-12 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، تاہم اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ یہ مذاکرات 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہوئے تھے جس کی بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع کر دی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا





































































































