تازہ ترین
ہم کیوں یومِ عالمی خواتین مناتے ہیں؟

شوکت جان
عالمی یوم خواتین کا دن کوئی الگ دن نہیں ہے، جب ہم یہ دن مناتے ہیں تو متعدد ردعمل سامنے آتے ہیں۔ صنفی مسائل (gender issues) جب آتے ہیں تو زیادہ تر لوگ اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو اس دن خواتین کی تذلیل کرتے ہیں اور 8مارچ ان کیلئے ایسا ہی دن ہے جیسے سال کے 364دن ہوتے ہیں ۔جب خواتین کیخلاف تشدد کی بات آتی ہے، اس دن بھی عصمت دری، گالی گلوچ، قتل اور تمام قسم کا تشدد خواتین کیخلاف ہوتا ہے۔ یہ دن صرف 8کا ہندسہ ہوتا ہے جس میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔

دنیا بھرمیں یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 65فیصد خواتین کو جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا دوستوں یا اجنبیوں سے ہوتا ہے جبکہ کئی کو اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے اس کا سامنا نہیں کیا ہے؟ یہ عالمی سطح پر درج کیا گیا ہے کہ نصف شکار یا تو کنبے کے افراد یا جاننے والوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔ آج کے دن18سال کی کم عمر کی 750ملین لڑکیوں کی شادی کی جائے گی۔ یہ اعداد و شمار بڑا لگ رہا ہے لیکن اسے اقوام متحدہ نے درج کیا ہے۔ یو این ریکارڈ کے مطابق 30ممالک میں ہر سال 250ملین خواتین اور لڑکیوں کو پوشیدہ اعضا کاٹنے(genital mutilation) کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ 200ملین لڑکیاں سکولوں میں تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔سکولوں میں بیت الخلاءاستعمال کرنے کے دوران4میں سے 1 لڑکی کبھی اطمینان محسوس نہیں کرتی۔
200, 250یا 4میں سے 1، یہ تمام اعداد و شمار سال کے 365دنوں میں ہمارے ضمیر کا حصہ ہے۔ کیا آپ ان نتائج کے متعلق آگاہ ہیں،یہ خاتون کے تولیدی پیداواری صحت (reproductive health) ، ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے؟ لوگوں کو بالعموم اور اکثر خواتین کی عزت اور ووقار کا خیال رہتا ہے لیکن تولیدی اور ذہنی صحت کے بارے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
یوم خواتین پر ہم ان خواتین کی عزت کرتے ہیں جوان سنی آوازوں اور ان دیکھے آنسووں کی خاطر بول ان کو حوصلہ بخشتی ہیں، ان آنسووں اور بکھری آوازوں کیلئے کون ذمہ دار ہے؟ کیا ہم نے کبھی ان کو درپیش مصیبتوں کا نوٹس لینے کی کوشش کی؟ بے شک ہم مرد ہی ان کے دکھ درد کیلئے ذمہ دار ہیں اور ان سنگین جرائم کو روکنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
دنیا بھر میں8مارچ پر خواتین تحائف، کارڈ اور آشیرواد لیتی ہیں ، بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہی طریقہ محبت اور شکرگزاری ظاہر کرنے کا طریقہ ہے لیکن صحیح معنوں میں اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ ہم جرائم کیخلاف آواز اٹھائیں۔ موجودہ دور میں کروڑوں خواتین ایسی ہیں جنہیں حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ، خواہ وہ بے زبان ہوں یا بنیادی حقوق کیلئے لڑرہی ہوں۔ یوم خواتین کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ خواتین کی پریشانیوں اور دکھ و درد کو محسوس اور سمجھاجائے ۔ ہمیں انہیں مرد کی طرح زندگی کے ہر ایک میدان میں برابر دیکھنا چاہئے ، ورنہ ’عالمی یوم خواتین‘ منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
عالمی یوم خواتین پر ہمیں آگے آکرخواتین کیخلاف امتیازاور غیر برابری کیخلاف لڑنا چاہئے اور یہی ہمارا ایک قیمتی تحفہ ان کیلئے ہوگا۔ خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے بنیادی سطح پر مسائل کو حل کرنا ہوگا اور یہاں پر یہ سوال ہے کہ تشدد کو کس طرح ختم کیا جائے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے سے ، باعزت رشتوں کو فروغ اور صنفی برابری سے ان مسائل کو دور کیا جاسکتا ہئے۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت



































































































