جموں و کشمیر
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے لیا راج بھون جموںمیں منعقدہ میٹنگ سیلابی صورتحال کا جائزہ

بچاﺅ وبحالی اورراحت کاری کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی
تباہ کاریوںکا جائزہ لینے کیلئے کئی علاقوں کا دورہ ، سیلاب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے
سری نگر: جے کے این ایس : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوارکی شام جموں پہنچنے کے بعدپیر کوراج بھون جموں میں جموں و کشمیر میں سیلاب کی صورتحال کے بارے میں ایک جائزہ میٹنگ کی۔میٹنگ میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، قائد حزب اختلاف سنیل شرما اور دیگر موجود تھے۔ اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن، آئی بی کے سربراہ تپن ڈیکا، بی ایس ایف کے ڈی جی دلجیت سنگھ چودھری اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا، ہندوستانی محکمہ موسمیات اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے نمائندے شامل تھے۔ امت شاہ نے میٹنگ کے بعد جموں اور نزدیکی علاقوں کا دورہ کرکے ازخود سیلاب کی تباہ کاریوں ،متاثرہ لوگوںکی مشکلات اور فوری نوعیت کے بحالی وامدادی اقدامات کا جائزہ لیا اور مجموعی صورتحال کا مشاہدہ بھی کیا ۔انہوںنے جموں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے بھی کیا۔
جے کے این ایس کے مطابق حکام نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو یہاں راج بھون میں سیلاب سے متعلق امدادی اقدامات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی ۔معلوم ہواکہ میٹنگ میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کو چسوتی کشتواڑمیں بادل پھٹنے کے بعدا ٓئے تباہ کن سیلاب کی زدمیں آکر 67افرادکی ہلاکت اور بڑی تعدادمیں رہائشی مکانات اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات ،کٹرہ میں ویشنو دیوی مندر کے راستے میں مٹی کے تودوں کی زدمیں آکر کئی یاتریوںسمیت 35افرادکی ہلاکت ،رام بن اورریاسی میں پیش آئے واقعات سمیت مجموعی صورتحال کے بارے میں مفصل جانکاری اور جموں وکشمیرحکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوںمیں شروع کی گئی بچاﺅ ،بحالی اور امدادی کارروائیوںکے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ۔ اجلاس میں پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر باڑ لگانے سے سرکاری انفراسٹرکچر، نجی املاک اور نقصان کے پیمانے کا جائزہ لیا گیا۔راحت اور بحالی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے، امت شاہ نے جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب کے لیے بین وزارتی مرکزی ٹیمیںقائم کرنے کا اعلان کیا۔ جوائنٹ سکریٹری سطح کے افسران کی قیادت میں یہ ٹیمیں اخراجات، زراعت، جل شکتی، بجلی، دیہی ترقی اور روڈ ٹرانسپورٹ سمیت متعدد وزارتوں کے ماہرین پر مشتمل ہوں گی۔ وہ جگہ کا جائزہ لیں گے اور پہلے سے جاری امدادی کاموں کا جائزہ لیں گے۔وزیر داخلہ کا دورہ اس سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے جس کے ساتھ نئی دہلی ابھرتے ہوئے بحران کو دیکھ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سڑکوں، پلوں، گھروں اور کھیت کی زمینوں کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جبکہ متاثرہ اضلاع میں بچاو اور بحالی کا کام جاری ہے۔میٹنگ کے بعد وہ جموں و کشمیر کے اس سرمائی دارالحکومت میں سیلاب زدہ علاقوں کا طوفانی دورہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما اور چیف سیکرٹری اتل ڈولو،اوردیگرسینئر سول، پولیس، نیم فوجی اور فوجی افسران کے علاوہ دیگر شامل تھے۔بعدازاں منوج سنہا، عبداللہ اور سنیل شرما کے ساتھ، وزیر داخلہ نے جموں ہوائی اڈے کے قریب بکرم چوک اور منگوچک کے قریب توی پل کا دورہ کیا اور جموں خطہ میں گزشتہ ہفتے ریکارڈ بارش کے بعد آنے والے حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا پہلے ہاتھ سے جائزہ لیا۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اتوار کی شام جموں و کشمیر میں شدید بارش اور سیلاب کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جموں پہنچے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق امیت شاہ جموں ہوائی اڈے پر اترے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت دیگر نے ان کا استقبال کیا۔ حکام نے بتایا کہ اس کے بعد وہ راج بھون کی طرف روانہ ہوئے۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ امت شاہ جموں و کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اس ہفتے کے اوائل میں بادل پھٹنے اور ریکارڈ بارش سے ہونے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیں۔عمرعبداللہ نے کہاکہ وزیر داخلہ یہاں صرف اور صرف شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے اور مرکز سے ہماری ضرورت کو دیکھنے کے لیے آرہے ہیں ۔ ، حکام نے بتایاکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو جموں کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔انہوںنے ضلع کے سب سے زیادہ متاثرہ گاو ¿ں منگوچک کا بھی دورہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ امت شاہ بکرم چوک کے قریب توی پل پر رکے اور دریا کے کنارے نقصانات کا معائنہ کیا۔
جموں و کشمیر
آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کو سری نگر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں تعینات رہے ایک سابق سینئر کلرک کے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں کئی غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کیا ہے۔
سری نگر کے فردوس آباد بٹمالو کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی ان غیر منقولہ جائیدادوں کی ضبطی سری نگر انسداد بدعنوانی بیورو میں سال 2025 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی۔ یہ معاملہ ایک جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں بھٹ پر اپنی آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی تھی۔ ضبط کی گئی جائیدادوں میں فردوس آباد بٹمالو میں ایک رہائشی مکان، نمبل نوگام میں ان کی بیوی اور بیٹی کے نام پر تین پلاٹ اور جانچ میں ضبط کیا گیا تقریباً 1266 گرام سونے کے زیورات شامل ہیں۔
انسداد بدعنوانی بیورو کے مطابق، جانچ کے دوران بھٹ کو گرفتار کیا گیا اور فی الحال وہ عدالت کے حکم پر ضمانت پر باہر ہے۔ بیورو نے بتایا کہ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سرکاری ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر رکھے تھے۔ مجاز اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بعد، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی قیادت میں دو ٹیموں نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد بٹمالو اور نوگام میں ان جائیدادوں کو ضبط کر لیا۔
ضبط کی گئی جائیدادوں پر اس سلسلے کے معلوماتی بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور انسداد بدعنوانی بیورو نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان جائیدادوں کو نہ تو خریدیں اور نہ ہی ان سے جڑا کوئی مالی لین دین کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ہندو مذہب نے کبھی خود کو کسی پر نہیں تھوپا : منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ دنیا ہندو مذہب – سناتن دھرم کو سب سے پرانے زندہ مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور یہ ایسا مذہب ہے، جس نے کبھی بھی خود کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا اور ہمیشہ تنوع، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو بنائے رکھا، جس سے قدیم ہندوستان میں مختلف مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا مسٹر سنہا نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ ‘بین المذاہب مذاکرے’ (انٹرفیتھ ڈائیلاگ) سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے باہمی احترام میں رچی بسی قدیم تہذیب کے طور پر ہندوستان کے ورثے کو اجاگر کیا، جہاں مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے ہیں، پھلتے پھولتے ہیں اور دنیا کو امن کا سبق سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندو مذہب یا سناتن دھرم دنیا کا سب سے پرانا زندہ مذہب، ہندو مذہب – سناتن دھرم، نے کبھی خود کو کسی پر مسلط نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے تنوع اور بقائے باہمی کو اپنایا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایک ایسی بنیاد رکھی، جس نے عیسائیت، اسلام، یہودیت اور پارسی مذہب کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی۔” انہوں نے کہا کہ “تنازعات اور عدم برداشت کا سامنا کر رہی دنیا میں، سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفے کی اصل روح ایک رہنما روشنی کا کام کر سکتی ہے۔ آج بھلے ہی دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم ہو، لیکن ہندوستانی فکر میں ان دوریوں کو پر کرنے کی منفرد طاقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک متحرک فکر ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کو ایک خاندان کے طور پر مل کر رہنا چاہئے۔ نوجوان نسل کو اس نقطہ نظر کو آگے بڑھانا چاہئے اور دنیا کو یہ یاد دلانا چاہئے کہ باہمی احترام کے ذریعے امن ممکن ہے۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ “دانشورانہ، روحانی اور ثقافتی اصطلاحات میں میں اسے ‘ہندوستانیت’ کہتا ہوں، یہ وہ بنیادی روح ہے جس نے دنیا کو تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام، سچائی کی تلاش، تنوع میں اکائی، دنیا کو ایک خاندان ماننے کا تصور اور ایک مشترکہ ثقافتی شعور کا نقطہ نظر دیا۔” انہوں نے کہا کہ “پانچ ہزار سال سے بھی پرانی علمی روایت کے علامت ہمارے قدیم گرنتھ، وید اور اپنشدوں نے ہمیشہ ہم آہنگی سے رہنے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے انسانیت کو سکھایا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے مل کر رہنا چاہئے۔ یہی ابدی اصول ہے۔” انہوں نے ذکر کیا کہ جب 12ویں اور 13ویں صدی میں اسلام ہندوستان آیا اور کئی صوفی سنت اور اسلامی اسکالرز یہاں آئے۔ انہوں نے محبت، روحانیت، ہمدردی اور برابری میں رچی بسی ایک انوکھی ہندوستانی ثقافت کو پایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ “صوفی سنت ویدوں، اپنشدوں، بدھ مذہب اور جین مذہب کے نقطہ نظر سے متاثر تھے اور انہوں نے ہندوستانی گرنتھوں سے بقائے باہمی کے اصول سیکھے۔ اس کے علاوہ، سنسکرت علم کے کئی خزانوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ہندوستان اور اس کے قدیم فلسفے نے کبھی کسی سے اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ ہندوستان نے ہمیشہ لوگوں سے کہا ہے کہ آپ اپنے عقیدے کو اپنے ساتھ لائیں، اپنی روایتوں کو لائیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی سے رہیں۔ یہی ہندوستان کی انفرادیت ہے۔ یہی ہندوستانی روحانی روایت کی عظمت ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ
سری نگر، جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست کرن سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے “بھیک نہیں مانگنی چاہئے”، کیونکہ مرکز کی حکومت پہلے ہی اس کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مذاکرے کے پروگرام کے علاوہ نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ “میں اس وقت ریاست کا سربراہ تھا۔ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ریاست تھا۔” انہوں نے ریاست کا درجہ بحال کیے جانے کی اہمیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ “میرا ماننا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہئے۔ حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اسے بحال کرے گی۔ ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ ہمیں اس کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ انہیں یہ دینا ہی ہوگا۔ وہ اسے کب دیتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔”
واضح رہے کہ کرن سنگھ نے ریاست کے سربراہ کے طور پر سال 1957 میں جموں و کشمیر کے آئین پر دستخط کئے تھے۔
مسٹر سنگھ نے امن اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے اور جموں و کشمیر کے خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرا پیغام ہے کہ ہم آہنگی بنائے رکھیں۔ جموں اور کشمیر کے درمیان جو تعلقات کبھی کبھی نازک ہو جاتے ہیں، انہیں مضبوط بنائے رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بین المذاہب مذاکرہ ہندوستان کا اتحاد بنائے رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسے جموں و کشمیر میں بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ “یہ پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ اگر فرقہ واریت اور تقسیم بڑھے گی تو ملک بھی تقسیم ہوگا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔”
بین المذاہب مذاکرے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “اس بین المذاہب مذاکرے کا مقصد یہی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا جموں و کشمیر میں بھی ہونا چاہئے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































