اہم خبریں
“ہاں غریبی اچھی ہے لیکن بس تقریر و تحریر تک”

جاوید اختر بھارتی
اکثر و بیشتر لوگ کہا کرتے ہیں کہ غریبوں سے ہمدردی کرنا چاہیے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے، بہت اچھی بات ہے، اسلام غریبی میں پھلا پھولا ہے،، کبھی کسی غریب کو دیکھا تو کہا ہائے ہائے، کبھی غریب کو دیکھا تو بات بھی نہیں کی، کبھی ساتھ بیٹھنے بھی نہیں دیا، بعض لوگ ساتھ میں لیواکر کہیں جانے کے لئے تیار نہیں، بعض لوگ بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں، بعض لوگ بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں اس وجہ سے بسا اوقات غریبوں کے دل سے آہ نکلتی ہے اور وہ اپنی قسمت پر روتا ہے.
لیکن جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے کہنے کو تو ہر امیر ہر دولتمند یہ بات کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے آج میرے ہاتھ کل کسی اور کے ہاتھ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دولتمند ہوتے ہی مزاج کیوں بدل جاتا ہے، رہن سہن کیوں بدل جاتا ہے غریبوں سے گھٹن کیوں ہونے لگتی ہے .
معلوم یہ ہوا کہ یہ بات وہ ایک محاورے کے طور پر کہہ رہا ہے، دکھاوے کے لئے کہہ رہا ہے حقیقت میں اسے اس بات کا یقین ہے کہ آج میرے پاس پیسہ ہے تو سب کچھ ہے میں جو چاہوں کرسکتا ہوں حکومت بھی غریبی کے خاتمے کا نعرہ بلند کرتی ہے بلکہ پوری دنیا غریبی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے امیری و غریبی دونوں ہے اس لیے کہ یہ نظام الٰہی ہے اور ویسے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہر شخص ایک برابر ہوتا تو دنیا میں کیسے امن و امان قائم رہتا.
دنیا کے جتنے ممالک ہیں ہر ملک میں وزیراعظم ایک ہوتا ہے ملک کی پوری عوام وزیراعظم نہیں ہوتی، پوری عوام صدر نہیں ہوتی، پوری عوام فوج نہیں ہوتی، پوری فوج جنرل ہوتی جب دنیاوی سطح پر یہ نظام قائم ہے کہ ہر آدمی ایک برابر نہیں ہے تو پھر قدرت کے قانون کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر قدرت نے سب کو ایک برابر کیا ہوتا تو سب ووٹ مانگتے پھر ووٹ دیتا کون، سب رکشے پر بیٹھتے پھر رکشہ چلاتا کون اس وجہ سے قدرت نے حقوق العباد کا قیام کیا یعنی بندوں کا بندوں پر بھی حق ہے اور دل و دماغ دیکر سوچنے سمجھنے اور فیصلہ لینے کی صلاحیت سے انسان کو قدرت نے نوازا ورنہ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں.
وہ چاہے تو پل بھر میں سارے کے سارے انسانوں کو مالدار بنادے اس کے خزانے میں کمی نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہمیں روز نظر آتی ہے کہ پوری دنیا کے انسانوں کا چہرہ الگ الگ ہے، آنکھوں کا لینس الگ ہے، ہاتھوں کا فینگر الگ الگ ہے یہ تینوں چیزیں اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے ائے انسانوں اگر قدرت تمہیں چھپر پھاڑ کر دے سکتی ہے تو چمڑی ادھیڑ کر لے بھی سکتی ہے اس لئے غریبوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو، غریبوں کا دل نہ دکھاؤ فرعون لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کردیا گیا، قارون خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا، شداد کو خود اس کی بنوائی ہوئی جنت کی چوکھٹ پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا.
پھر آج کا انسان کس کھیت کی مولی ہے جو یہ سوچ رہا ہے کہ ہم مالدار ہیں تو ہمارا بال باکا نہیں ہوسکتا ایک دولتمند کے گھر میت ہوتی ہے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل جاتی ہے اس کے آخری رسومات میں لوگوں کا ازدہام ہے تاحد نگاہ جم غفیر ہے بڑے بڑے امراء، رؤوسا، حکمراں سب کے سب آئے ہوئے ہیں ارتھی اور جنازہ بھی کاندھے پر نہیں گاڑیوں پر رکھ کر لے جایا جارہا ہے لیکن آخر میں اسے مٹی میں ہی دفن کردیا گیا،، ایک غریب گھرانے میں موت ہوتی ہے کسی کو پتہ بھی چلتا ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوتی وقت مقررہ پر اس کے قریبی ساتھی رشتہ دار کاندھے پر اٹھاتے ہیں آخری رسومات ادا کرتے ہیں اور اسی مٹی میں اسے بھی دفن کیا جاتا ہے.
دنیا میں رہنے کا طریقہ الگ الگ، سوسائٹی الگ الگ نہ دولتمند کے ساتھ ایک دو لوگ دوچار دن قبر میں سونے کے خواہشمند ہوئے نہ غریب کے ساتھ تو پھر یہی احساس وقت رہتے کیوں نہیں ہوتا، جب آخری وقت ہوتا ہے تو غلطی کی معافی تلافی کی جاتی ہے آخر یہی کام صحتمند رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا جاتا،، کتنی رشتہ داریاں بگڑجاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، کتنی دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، نکاح اور شادی بیاہ کو مشکل بنادیا گیا اور زنا کو آسان بنا دیا گیا امیری اور غریبی کے نام پر، جہیز کا بازار بھی لگایا جاتا ہے اور جہیز کی آڑ میں موت کے گھاٹ بھی اتارا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے .
ایک طرف کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے دوسری طرف کوئی اخبار بچھا کر فٹپاتھ پر سوتا ہے زندگی کا گذر بسر تو دونوں کا ہورہا ہے لیکن ایک کا آرام سے دوسرے کا تکلیف سے لیکن آج کے حالات پر نظر دوڑا نے سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر انسانیت میں کمی آتی جارہی ہے غریبی کے خاتمے کا خواب دیکھا کر سیاست تو خوب کی جاتی ہے مگر غریبوں کو راحت پہنچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب تو دینی، سیاسی، سماجی غرضیکہ ہر شعبے ہر میدان میں امیری اور غریبی کی کھائی بڑھتی جا رہی ہے اور معاشرے میں بھی دولتمند کو ہی ہر میدان میں ترجیح دیجاتی ہے چاہے وہ جاہل ہی کیوں نہ ہو اب تو یہاں تک ہونے لگا کہ سردیوں میں کسی کو کمبل دیدئے اور بیماریوں میں کسی کو دوچار پھل دے دئیے تو اس کی تصویر کھینچا کر ایسے وائرل کیا جاتا ہے کہ اس غریب کا جینا مشکل ہوجاتا ہے یعنی دو پیسہ ہاتھ میں اس کے رکھ کر اس کی خود داری چھین لی جاتی ہے اور حد تو یہ ہے کہ ایسی مکاری، فریبی چال والی بیماری مسلمانوں کے اندر بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہے.
زکوٰۃ کی رقم دے کر بھی بہت سے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ چار آدمی سے بتا نہ دیں حالانکہ اسلامی تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے ایک غریب آدمی کے پاس امدادی رقم بھیجی تو یہ کہدیا تھا کہ ان سے یہ نہ بتانا کہ یہ رقم کس نے دی ہے، ان سے تم بھلے سلام کرنا لیکن میرا سلام نہ کہنا، ہوسکے تو ان کے ہاتھ میں رقم نہ دیکر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کے قریب رکھ دینا وہ صاحب جب رقم دیکر واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنا سلام کہنے سے کیوں منا کیا اور دوسری بات یہ کہ پیسہ ہاتھ میں دینے سے کیوں منا کیا تو حضرت عائشہ نے کہا کہ تم میرا سلام کہتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھر کبھی ایسی حالت میں ہوتے کہ انہیں پھر امداد کی ضرورت پڑتی اور مجھ تک پیغام یہ سوچ کر نہیں پہچا تے کہ ان کے پاس سے ایک بار امدادی رقم اچکی ہے.
اس لیے میں نے یہ سوچا کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ رقم عائشہ نے بھیجی ہے اور ہاتھ میں نہ دینے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ تم ہاتھ میں دیتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کا ہاتھ نیچا ہوتا اور تمہارا ہاتھ اوپر ہوتا تو کہیں تمہارے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوجاتا کے لینے والے کا ہاتھ نیچے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے تو کہیں تم تکبر نہ کر بیٹھتے بہت سے علماء کرام نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے عروہ سے یہ رقم بھیجی تھی .
بہر حال اس واقعے سے امدادی سامان و رقم کا پرچار پرسار کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے بلکہ اس واقعے سے ہر خاص و عام کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو مالدار تھے وہ اپنی دولت سے جنت کا سامان خریدا کرتے تھے اور آج کا مسلمان بھی مدارس سے لیکر خانقاہوں تک صرف مرغ و ماہی کا انتظام کرنے والوں اور مٹھیوں کو موٹی موٹی رقم سے گرم کرنے والوں کو اہمیت دیتا ہے اور غریب مریدین تک کو قریب تک بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتا کوئی بڑے حوصلے سے دعوت دیتا ہے تو اس کے وہاں جانے سے کتراتے ہیں اور کسی کے وہاں اس انداز سے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد دسترخوان پر ہاتھ اٹھاکر اجتماعی دعا تک کرتے ہیں.
کیا اس سے غریبوں کو ٹھیس نہیں لگتی، کوئی آپ کو نذرانہ دے تو اس سے مصافحہ کریں اور گلے بھی لگائیں اور کوئی ہاتھ بڑھائے تو اسے اشاروں اشاروں میں کہیں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے تو کیا اس غریب مرید کو ٹھیس نہیں پہنچے گی پھر بھی اسٹیج سے خطابت کے انداز میں کہیں کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے تو دنیا چاہے کچھ بھی کہے میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا کرنے والا پیر نہیں بلکہ روٹی توڑ فقیر ہے، یہ واعظ نہیں بلکہ یہ ایک شعبدہ باز ہے اس کا انداز خطاب ایک فن ہے فن اس سے بڑھ کر کچھ نہیں –
javedbharti508@gmail.com
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
تازہ ترین1 week agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
جموں و کشمیر1 week agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
ہندوستان1 week agoمتحدہ عرب امارات سے ہندوستانی شہریوں کے انخلا کے حوالے سے کسی معاہدے پر بات نہیں ہوئی : وزارت خارجہ
تازہ ترین6 days agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی







































































































