تازہ ترین
حیدر آباد میں مرنے سے پہلے کووڈمریض نے بنایا ویڈیو

’انہوں نے میرا وینٹی لیٹر ہٹا دیا، میں مر رہا ہوں، بائے ڈیڈی بائے‘
خبراردو:-
سرینگر: حیدر آباد کے35سالہ کووڈ۔19مریض نے مرنے سے قبل 18سیکنڈ کی دردناک ویڈیو ’موبائیل کی میمری‘ میں قید کی۔ مذکورہ مریض نے بھارت کے صحت سہولیات پر بڑا سوالیہ نشان لگاتے ہوئے مادری زبان میں کہا ’انہوں نے میرا وینٹی لیٹر ہٹا دیا،میں مر رہا ہوں،بائے ڈیڈی بائے‘۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق کورونا بحران کے درمیان کووڈ۔19 انفیکشن میں مبتلا مریضوں کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کہیں بیڈ موجود نہیں ہے، کہیں آکسیجن کا انتظام نہیں ہے تو کہیں وینٹی لیٹر کا مسئلہ ہے۔ ہندوستان کے کئی اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ ہو رہے ناروا سلوک اور بدنظمی کی خبریں بھی لگاتار سامنے آ رہی ہیں۔
اس درمیان حیدر آباد کے ایک کورونا مریض کا ایسا ویڈیو سامنے آیا ہے جو انتہائی دردناک ہے۔ مریض نے اپنے مرنے سے کچھ دیر پہلے ہی اس ویڈیو کو بنایا اور بتایا کہ کس طرح ڈاکٹروں نے اس کا وینٹی لیٹر ہٹا دیا اور بار بار کہنے کے باوجود دوبارہ نہیں لگایا گیا۔
انڈیا ٹو ڈے اور دیگر میڈیا اداروں نے واقعہ کے حوالے سے اپنی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ دراصل کورونا کے35 سالہ ایک مریض نے بہت مشکل حالات میں ایک ویڈیو بنا کر اپنے اہل خانہ کو بھیجا تھا جس کی بنیاد پر مہلوک کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ کے ذریعہ ان کے بیٹے کے علاج میں لاپروائی برتی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان کو کورونا انفیکشن کا علاج کرانے کے لیے 24 جون کو حیدر آباد میں واقع امراض چھاتی کے مخصوص ’سٹی اسپتال‘ میں داخل کرایا گیا تھا، لیکن گزشتہ جمعہ کو اس کی موت ہو گئی۔ اپنی موت سے ٹھیک پہلے جو ویڈیو نوجوان نے گھر والوں کو بھیجا تھا اس میں وہ کافی تکلیف میں نظر آ رہا تھا اور وینٹی لیٹر مہیا نہ کیے جانے کی بات کہی جا رہی تھی۔ویڈیو میں نوجوان اپنی مادری زبان میں یہ کہتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ3 گھنٹے سے ان کا وینٹی لیٹر ہٹا دیا گیا ہے اور مریض کو سانس لینے میں ہو رہی تکلیف بھی ویڈیو میں صاف عیاں ہے۔
مریض کہتا ہے کہ’انہوں نے (ڈاکٹروں نے) وینٹی لیٹر ہٹا دیا ہے اور پچھلے3 گھنٹوں سے آکسیجن سپورٹ دینے کی میری گزارش کا جواب نہیں دے رہے ہیں، میرے دل نے کام کرنا بند کر دیا ہے، میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں ڈیڈی۔۔ بائے ڈیڈی۔۔ سبھی کو بائے، بائے ڈیڈی بائے۔‘یہ ویڈیو سو شل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی جبکہ میڈیا اداروں نے اس واقعہ پر اپنی رپورٹس بھی بنائیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دردناک ویڈیو کو دیکھ کر مہلوک نوجوان کے والد اور دیگر اہل خانہ کافی غمزدہ اور ناراض ہیں۔
انہوں نے اسپتال پر الزام عائد کیا ہے کہ اگر صحیح علاج ہوتا تو آج ان کا بچہ زندہ ہوتا۔ حالانکہ اس سلسلے میں اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریض کو آکسیجن سپورٹ پر رکھا گیا تھا اور دل کی بیماری کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے۔ حالانکہ مہلوک کے والد کا کہنا ہے کہ ویڈیو بھیجنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ان کے بیٹے کی موت ہو گئی اور اگر وینٹی لیٹر کی مدد اسے ملتی تو ایسا نہیں ہوتا۔
ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں متاثرین کے 19 ہزار سے زیادہ نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے 5 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی پیر کے روز جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر5لاکھ48ہزار318 ہوگئی ہے جس میں کورونا وائرس کے19ہزار459نئے کیسز بھی شامل ہیں۔گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران اس وبا سے 380 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جس سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد بڑھ کر16ہزار475 ہوگئی ہے۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی


































































































