جموں و کشمیر
ملک بھر میں کشمیریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے سے گریز کیا جائے:ڈاکٹر فارووق عبداللہ

سری نگر،نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لال قلعہ دھماکوں کی تحقیقات کے پس منظر میں ملک بھر میں کشمیری شہریوں، طلبہ اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی بے چینی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ہر سطح پر ان کے تحفظ، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں پڑھنے، کام کرنے یا کاروبار سے وابستہ کشمیری نوجوانوں اور شہریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے واقعات نہایت افسوس ناک اور خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’لال قلعہ دھماکوں کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن اس کی آڑ میں بے گناہ کشمیریوں کو ہراساں کرنا اور ان پر بلا وجہ شک ظاہر کرنا غیر منصفانہ ہے۔ کسی فرد واحد کے جرم کی سزا پورے سماج کو نہیں ملنی چاہیے۔‘
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ اور تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ متعلقہ انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کریں کہ بیرونِ کشمیر مقیم طلبہ، مزدوروں، کاروباری افراد اور ملازمین کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک، نفرت انگیزی یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہزاروں کشمیری نوجوان ملک کے مختلف حصوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور خصوصی مہارتوں، سرکاری و نجی شعبوں اور کاروبار میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کا خوف یا امتیازی رویہ نہ صرف ان کے لئے ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے بلکہ ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل پر بھی منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ایک امن پسند سماج ہے اور کشمیری شہری ملک کے ہر حصے میں امن، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس لئے یہ ریاستی ذمہ داری ہے کہ ان کے لئے ایک محفوظ، سازگار اور قابلِ احترام ماحول فراہم کیا جائے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ ہند کشمیریوں کے تحفظ سے متعلق ان کے جائز تقاضوں کو سنجیدگی سے لے کر ملک بھر میں ہم آہنگی، باہمی احترام اور اعتماد کے ماحول کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدامات کرے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
جموں میں انہدامی مہم پر این سی بی جے پی کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے، پی ڈی پی رہنما التجا مفتی کا الزام
جموں، سدھرا علاقے میں شروع کی گئی انہدامی مہم کے بعد التجا مفتی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نیشنل کانفرنس (این سی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے۔
متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے لیے سدھرا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہاکہ “برسرِ اقتدار این سی حکومت بی جے پی کی جانب سے جاری تمام ہدایات پر عمل کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں انسدادِ تجاوزات مہم کے نام پر کئی مکانات منہدم کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “جموں شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے اور ایسے موسمی حالات میں سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
شدید گرمی کے باعث بچے جلد اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “بی جے پی رہنما کے سدھرا دورے اور تعمیرات کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد ہی این سی حکومت نے کارروائی شروع کی۔”
التجا مفتی نے مزید الزام لگایا کہ “این سی نے جموں و کشمیر میں بھی اترپردیش طرز کا بلڈوزر ماڈل نافذ کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔” ان کے مطابق اس سے قبل ایسا کٹھوعہ، آر ایس پورہ اور اب جموں میں بھی ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری طور پر کھانا، خیمے، پانی، راشن اور دیگر ضروری اشیاء کا انتظام کیا جائے۔
التجا مفتی نے کہا کہ پپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) زمین سے متعلق بل لائی تھی، لیکن نہ تو این سی اور نہ ہی بی جے پی نے اس کی حمایت کی۔ ان کے مطابق این سی نے ان لوگوں کو “زمین پر قبضہ کرنے والے” قرار دیا جبکہ بی جے پی نے انہیں “لینڈ جہادی” کہا، اور این سی وہی کر رہی ہے جو بی جے پی کی جانب سے کہا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر رہائش فراہم کی جائے تاکہ انہیں کچھ راحت مل سکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے جنگلات کے وزیر جاوید احمد رانا پہلے ہی سدھرا علاقے کے قریب مہامایا جنگلات میں محکمہ جنگلات کی جانب سے کی گئی انہدامی کارروائی کی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے کُلگام میں مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکر گرفتار، دستی بم اور پوسٹر برآمد
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع کُلگام میں سکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق، مشتبہ شخص کو کُلگام پولیس، فوج کی 34 راشٹریہ رائفلز اور 18 بٹالین سی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائی کے دوران محمد پورہ گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔ تلاشی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے اس کے قبضے سے دو ہینڈ گرینیڈ (دستی بم) اور قابلِ اعتراض پوسٹر برآمد کیے۔
گرفتار شخص کی شناخت عادل حسین لون، ساکن محمد پورہ، کُلگام کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن کُلگام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق مزید گرفتاریاں اور برآمدگیاں متوقع ہیں۔
یواین آئی ظ ا
جموں و کشمیر
اسکول کے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا ملنا چاہیے، کسی بھی بچے کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے: منوج سنہا
جموں، منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ نوجوان نسل کی غذائیت قوم کے مستقبل کی تشکیل کرے گی اور اس بات پر زور دیا کہ ہر اسکولی بچے کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
اکشے پاترا فاؤنڈیشن کی مرکزی کچن سہولت کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جو کٹرا ضلع ریاسی میں قائم کی جا رہی ہے، سنہا نے کہا کہ یہ سہولت فعال ہونے کے بعد روزانہ 5,000 اسکولی بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرے گی۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اکشے پاترا کے آئندہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں جموں میں ایک نئی کچن سہولت کا قیام شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ “میں حکومت اور سماجی تنظیموں کے درمیان مضبوط تعاون کی اپیل کرتا ہوں تاکہ نوجوان نسل کو بااختیار بنایا جا سکے۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ اسکول کے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا ملے۔ ہر بچہ صحت مند خوراک کا حق دار ہے اور ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے عام زندگی میں انسان کی چھوڑی گئی میراث کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ یہ تین سوالوں پر مبنی ہوتی ہے: ہم کیا تخلیق کر رہے ہیں؟ ہم کیا محفوظ کر رہے ہیں؟ اور ہم آئندہ نسلوں کو کیا سونپیں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہونا چاہیے: “ہم اپنے بچوں کو کیا کھلا رہے ہیں؟”
انہوں نے کہا کہ بھوکا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا، اور ایسا اسکول جو اپنے بچوں کو کھانا فراہم نہ کر سکے، مساوی ترقی کے مواقع پیدا کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، کئی دہائیوں کی عالمی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ غذائیت اور تعلیم الگ چیزیں نہیں بلکہ اچھی غذائیت ہی تعلیم کی بنیاد ہے۔
سنہا نے کہاکہ “جو بچے متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا کھاتے ہیں، وہ بہتر توجہ دیتے ہیں، معلومات کو زیادہ مؤثر انداز میں یاد رکھتے ہیں، اور کلاس میں زیادہ سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں۔ پروٹین، وٹامنز اور متوازن غذا بچے کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے لیے ضروری توانائی فراہم کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کا ہر اسکول یہ بات یاد رکھے کہ جب ہم اسکولوں میں غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرتے ہیں تو ہم صرف پیٹ نہیں بھر رہے ہوتے بلکہ مستقبل کی سوچ کی تشکیل کر رہے ہوتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہاکہ “اگلی نسل صرف ہمارا مستقبل نہیں بلکہ ان خوابوں اور امیدوں کا زندہ اظہار ہے جنہیں ہم بطور قوم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت اور اعتماد ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج ہم بچوں میں جو اقدار، علم اور یقین پیدا کریں گے، وہ آنے والے عشروں میں جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔”
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا1 week agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان1 week agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
دنیا6 days agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
ہندوستان1 week agoحکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھا کر 15 فی صد کی
دنیا1 week agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
دنیا1 week agoایران نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو سخت پیغام دے دیا
دنیا1 week agoایرانی نوجوان جنگ کے سائے کو اپنے روشن مستقبل پر حاوی نہیں ہونے دیں گے :عباس عراقچی









































































































