دنیا
بیجنگ میں شی جن پنگ اور پوتن کی ملاقات، مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی پر زور
بیجنگ، چین کے صدر شی جن پنگ نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم اور تزویراتی شراکت داری کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی عالمی صورتحال میں بیجنگ اور ماسکو کے درمیان تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارتی نظام کو درپیش چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
چینی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات میں شی جن پنگ نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو روکنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر پڑنے والے منفی اثرات میں بھی کمی آئے گی۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات کا موجودہ مضبوط مرحلہ باہمی سیاسی اعتماد اور گہرے تزویراتی تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک مسلسل مختلف شعبوں میں اشتراک کو وسعت دے رہے ہیں اور تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شی جن پنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں چین اور روس کے درمیان اچھی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کا معاہدہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بیجنگ اور ماسکو اس معاہدے میں توسیع پر متفق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی نظام کو دوبارہ ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف دھکیلے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ ایسے ماحول میں چین اور روس کے درمیان تعاون عالمی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
چینی اور روسی میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ شی جن پنگ نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں روسی صدر ولادی میر پوتن کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا جبکہ فوجی بینڈ نے چین اور روس کے قومی ترانے بھی بجائے۔
یہ سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ کو ابھی ایک ہفتہ بھی مکمل نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق شی اور پوتن کی گفتگو میں ٹرمپ کے حالیہ دورے، مشرق وسطیٰ کی جنگ، عالمی توانائی سپلائی اور بین الاقوامی نظام کو درپیش چیلنجز جیسے معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
اقوام متحدہ نے عباس عراقچی کو نیویارک اجلاس کے لیے مدعو کیا
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کی تصدیق کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دعوت عباس عراقچی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے دی گئی ہے۔
اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت چین کے پاس ہے۔
بین الاقوامی امن اور سلامتی کے موضوع پر یہ اجلاس منگل کو منعقد ہوگا۔
تاہم ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ عباس عراقچی اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے، سلامتی کونسل میں ایشیائی ممالک کو زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے: اقوامِ متحدہ کے سربراہ
ٹوکیو، اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گہرے ہوتے عالمی معاشی بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بدھ کے روز آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سمندری آمد و رفت کی آزادی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج کی دنیا کے آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کی عکاسی کے لیے ایشیائی ممالک کو مستقل رکنیت میں زیادہ نمائندگی دی جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت تنازعات، موسمیاتی بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی وجہ سے شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے اثرات نے عالمی معاشی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
گوتریس نے کہا، ’’مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی معاشی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ توانائی، کھاد اور دیگر خام اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘
خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری جہاز رانی کی آزادی فوری طور پر بحال کی جانی چاہیے، جنگ بندی کی تمام خلاف ورزیوں کو ختم کیا جائے اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور جغرافیائی سیاسی دوریاں‘‘ مؤثر عالمی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق بعض ممالک بغیر کسی خوف کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل اور عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی تقسیم عالمی استحکام اور کثیر جہتی اداروں کی مؤثریت کو کمزور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف، جو انسانیت اور دنیا کے بہتر مستقبل کا خاکہ ہیں، ان کے حصول کے لیے مزید مضبوط پیش رفت کی ضرورت ہے۔
گوتریس نے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنے والے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی محدود صلاحیت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ اور مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی اور اقوامِ متحدہ کی ساکھ بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل دونوں قسم کی نشستوں میں توسیع ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں میں وسیع اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مؤثر مالی امداد فراہم کرنے کے لیے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی تنظیمِ نو کا بھی مطالبہ کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا
ایران شدید دباؤ میں ہے، ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں عوام کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہاں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران موجودہ صورتحال کے باعث معاہدہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کو ابھی صرف تین ماہ ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ وقت جنگ بندی میں گزرا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا، تاہم اس معاملے میں انہیں کوئی جلدی نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ’’بری طرح تباہ‘‘ کر دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت دیکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے معاملے میں جلد بازی نہیں کر رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی کی امریکی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ویتنام، افغانستان، عراق اور دیگر ممالک میں کئی کئی سال تک جنگیں لڑیں، جبکہ ایران جنگ میں امریکا نے صرف 13 جانیں گنوائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر جنگوں میں امریکا کو لاکھوں جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ٹرمپ نے چین اور روس کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کی ملاقات اچھی بات ہے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوتن کی استقبالیہ تقریب اتنی شاندار نہیں تھی جتنی ان کی تھی۔
امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حوالے سے بھی کہا کہ ایران کے معاملے پر ان دونوں کا مشترکہ مؤقف ہے اور نیتن یاہو وہی کریں گے جو وہ کہیں گے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا6 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان6 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا6 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین1 week agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
دنیا1 week agoایران کا جواب نامعقول، کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے: ٹرمپ
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
دنیا6 days agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی خبر کے بعد نیٹ 2026 کا امتحان منسوخ








































































































