ہندوستان
گریٹ نکوبار منصوبے پر کانگریس نے حکومت کوبنایانشانہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے گریٹ نکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ کے تعلق سے ایک بار پھر مرکز ی حکومت پر حملہ بولا ہے اور الزام لگایا ہے کہ حکومت اپنے ’ایکو سسٹم‘ کے ذریعے ایسی جھوٹی مہم چلا رہی ہے، جس میں منصوبے سے ہونے والی ماحولیاتی تباہی پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کو ’چین کے تئیں نرم‘ دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ یہ حکومت چین کے تئیں مسلسل، منظم اور مرحلہ وار طریقے سے گھٹنے ٹیکنے کی پالیسی اپناتی رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 19 جون 2020 کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان نے لداخ میں شہید ہوئے 20 جوانوں کی توہین کی۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں ہندوستان نے روایتی گشت اور چراگاہوں کے حقوق ترک کردیئے ہیں۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ 26-2025 میں ہندوستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ تقریباً 115 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس سے مائیکرو،ا سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کا شعبہ متاثر ہوا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے ردِعمل میں چین کے کردار پر حکومت خاموش رہی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ گریٹ نکوبار منصوبہ بنیادی طور پر کاروباری ہے اور اس کا ماحول نیز مقامی برادریوں پر سنگین خراب اثر پڑے گا۔ واضح رہے کہ گریٹ نکوبار کے تعلق سے کانگریس نے حال کے دنوں میں مرکز کی حکومت پر بار بار الزامات لگائے ہیں، اس سے پہلے بھی کئی خطوط کے ذریعے مسٹر رمیش نے مرکز کی حکومت سے کئی سارے سوالات پوچھے ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
انتظامی فیصلے میں تاخیر لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف: مرمو
نئی دہلی، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے سول افسران سے مفادِ عامہ اور قائم شدہ نظام کے مطابق صحیح فیصلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح انصاف ملنے میں تاخیر کو انصاف سے محرومی مانا جاتا ہے، اسی طرح انتظامی فیصلے میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے انڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس (آئی اے ایس) کے سال 2024 بیچ کے افسران کے ایک گروپ نے بدھ کو راشٹرپتی بھون میں محترمہ مرمو سے ملاقات کی۔ یہ افسران ابھی مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں میں اسسٹنٹ سکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا سروسز، خاص طور پرانڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس نے ملک کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب جبکہ ملک ترقی کی ایک اعلیٰ سطح پر داخل ہو چکا ہے، افسران سے توقعات بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ اخلاقیات اور گڈ گورننس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ افسران کو ایماندار اور اخلاقی ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی، انہیں نتائج بھی دینے ہوں گے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے بچنا اخلاقیات نہیں کہلاتا بلکہ مفادِ عامہ اور قائم شدہ نظام کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا ہی حقیقی اخلاقیات کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انصاف ملنے میں تاخیر کو انصاف سے محرومی مانا جاتا ہے، اسی طرح انتظامی فیصلے میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ جمہوریت کا مقصد عوام کی امنگوں کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ امنگیں ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لیے افسران کا یہ فرض ہے کہ وہ مفادِ عامہ میں ان نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو ترجیح دیں۔” صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ نوجوان افسران کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کا منفرد موقع حاصل ہوگا۔ کئی مواقع پر انہیں کچھ خاص شعبوں کے ماہرین کی ٹیموں کی قیادت بھی کرنی پڑے گی، اس لیے ان کے سیکھنے کا دائرہ اور رفتار دونوں انتہائی وسیع اور تیز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ان کی صلاحیت غیر معمولی ہونی چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا، “افسران کی غیر جانبداری ان کی انصاف پسندی کی علامت ہوگی۔ ان کی حساسیت شمولیت کے تئیں ان کے عزم کا پیمانہ ہوگی۔ ان کی ساکھ شفافیت اور مسلسل بہترین کارکردگی پر مبنی ہوگی۔ ان کا ذاتی اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل ان کی سچائی اور دیانت داری کو واضح کرے گا، جو انہیں مفادِ عامہ میں فیصلہ کن اقدامات کرنے کا اخلاقی حوصلہ فراہم کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ افسران کو ہمدردی اور عقلیت پسندی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہیں حساس ہونا چاہیے، لیکن جذباتی نہیں۔ انہیں اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، لیکن وسیع تر مقاصد کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ صرف بہتی دھار کے ساتھ بہتے چلے جانے کے لیے کسی خاص کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔
‘وکست بھارت’ کے ہدف کو حاصل کرنے اور معاشرے کو ترقی کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچانے کے لیے افسران کو کئی بار حالات کے برعکس جا کر بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ چاہے فیلڈ میں کام کر رہے ہوں یا دفتر میں، ہندوستان کے عوام، خاص طور پر معاشرے کے محروم طبقات کو اپنے خیالات اور کاموں کے مرکز میں رکھیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ ایک ترقی یافتہ اور جامع ہندوستان کی تعمیر میں انمول تعاون دیں گے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
ملک بحران میں، وزیر اعظم بیرون ملک ٹافی بانٹنے اور ریل بنانے میں مصروف: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اٹلی کے دورے کے تعلق سے انھیں جم کر نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک اقتصادی چیلنجوں سے نبردآزما ہے، وہیں مسٹر مودی بیرون ملک ٹافی بانٹنے اور ریل بنانے میں مصروف ہیںمسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا، “اقتصادی طوفان سر پر ہے، اور ہمارے وزیر اعظم اٹلی میں ٹافی بانٹ رہے ہیں۔ کسان، نوجوان، خواتین، مزدور اور چھوٹے تاجر سب رو رہے ہیں، وزیر اعظم ہنستے ہوئے ریل بنا رہے ہیں اور بی جے پی والے تالی بجا رہے ہیں۔ یہ قیادت نہیں، نوٹنکی ہے۔” واضح رہے کہ مسٹر مودی اپنے پانچ ممالک کے دورے کے آخری مرحلے میں روم پہنچے ہیں، جہاں ان کی ملاقات اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے ہوئی۔ اس دوران وزیر اعظم نے انہیں ہندوستانی کمپنی پارلے کی ‘میلوڈی’ چاکلیٹ گفٹ میں دی۔ میلونی نے اس لمحے کی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس پر ہندوستانی سیاست میں بھی ردِعمل تیز ہوگیاہے۔ وزیر اعظم نے بھی اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ روم پہنچنے کے بعد انہوں نے محترمہ میلونی کے ساتھ رات کا کھانا کھایا اور تاریخی کولوزیم کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی عالمی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال ہوا نیز ہندوستان-اٹلی تعلقات کو اور مضبوط کرنے پر بات چیت جاری رہے گی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
‘سچ کے آئینے’ سے ڈرتی ہے مودی حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت سچ کا سامنا کرنے سے ڈرتی ہے اور گزشتہ 12 برسوں میں اس نے جمہوریت کا آئینہ مانے جانے والے اپوزیشن اور میڈیا کی آواز کو دبانے کا کام کیا ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات (کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ) کے سربراہ پون کھیڑا نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر مودی ملک میں اقتصادی بحران کے لیے عالمی جنگوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ملک کی معیشت پہلے ہی سے چیلنجوں کا سامنا کر رہی تھی اور کانگریس مسلسل اس کی وارننگ دیتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “جمہوریت میں اپوزیشن اور میڈیا وہ آئینہ ہوتے ہیں، جو اقتدار کو سچائی دکھاتے ہیں، لیکن سچ سے ڈرنے والی مودی حکومت اس آئینے کو توڑنے کا کام کر رہی ہے۔ جھوٹ آئینے سے ڈرتا ہے۔”
مسٹر کھیڑا نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے گزشتہ 12 برسوں میں کوئی پریس کانفرنس نہیں کی، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ میڈیا ان سے مشکل سوالات پوچھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ملک کو نصیحت دے کر غیر ملکی دورے پر چلے جاتے ہیں اور اس سے پہلے لمبے روڈ شو کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کئی رہنما پبلک ٹرانسپورٹ یا بائیک پر چلنے کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ پیچھے ان کی گاڑیوں کا پورا قافلہ چلتا ہے۔
کانگریس رہنما نے مہنگائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سال 2014 میں 414 روپے میں ملنے والا ایل پی جی سلنڈر اب 915 روپے کا ہو گیا ہے، جو 121 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل سلنڈر بلیک میں فروخت ہو رہا ہے، باہر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور دودھ نیز بریڈ جیسی ضروری چیزیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روپیہ مسلسل کمزور ہو کر 97 کی سطح تک پہنچ گیا ہے اور حکومت عوام کو حقیقی اعداد و شمار سے دور رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی پہلے 60 دن، پھر 60 مہینے مانگتے رہے اور اب سال 2047 تک کا وقت مانگ رہے ہیں، لیکن بیچ کے اقتصادی اعداد و شمار پر جواب نہیں دیتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں پٹرول کی قیمتوں میں 38 فیصد اور ڈیزل کی قیمتوں میں 62 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورِ حکومت میں خام تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں، جبکہ موجودہ حکومت میں کم خام تیل کی قیمتوں کے باوجود ایندھن مہنگا بیچا گیا۔ مسٹر کھیڑا نے الزام لگایا کہ حکومت کی ذمہ داری عوام کی پریشانیوں کو کم کرنا ہے، لیکن مودی حکومت لوگوں کے مسائل بڑھانے کا کام کر رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا6 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
ہندوستان7 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا7 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین1 week agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
دنیا1 week agoایران کا جواب نامعقول، کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے: ٹرمپ
دنیا7 days agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی خبر کے بعد نیٹ 2026 کا امتحان منسوخ








































































































