جموں و کشمیر
سی یو کے میں جمعہ کے روز آن لائن کلاسز، ورک فرام ہوم پالیسی نافذ
سری نگر، سنٹرل یونیورسٹی کشمیر (سی یو کے) نے تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور اخراجات میں کٹوتی کے اقدامات کے تحت جمعہ اور “گرین ہفتہ” کو تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے لیے آن لائن تدریس اور ‘ورک فرام ہوم’ کا نظام لاگو کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سی یو کے جزوی طور پر آن لائن تدریس کی طرف رخ کرنے والا پہلا تعلیمی ادارہ بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں عالمی سطح پر توانائی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اداروں سے ایندھن کی کھپت کو کم کرنے کی اپیل کی تھی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے 13 مئی کو منعقدہ ’ڈینز کمیٹی‘ کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اور وائس چانسلر سے منظور شدہ سرکاری حکم نامے کے مطابق، نیا نظام 22 مئی سے اگلے احکامات جاری ہونے تک نافذ رہے گا۔ اس ہفتے سے یونیورسٹی جمعہ اور ‘گرین ہفتہ’ کو تدریسی اور غیر تدریسی دونوں ملازمین کے لیے آن لائن کلاسز اور ورک فرام ہوم کی سہولت فراہم کرے گی۔
حکم نامے میں تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے کئی اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تعلیمی شیڈول میں کسی قسم کی رکاوٹ سے بچنے کے لیے جمعہ کے روز ہونے والی تمام پریکٹیکل اور لیبارٹری کلاسز اب جمعرات کی دوپہر میں منعقد کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ شعبہ جاتی اور اسکول سطح کی میٹنگز، پی ایچ ڈی وائیوا اور ورکشاپس کو جہاں تک ممکن ہو آن لائن منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آف لائن میٹنگز کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں اور مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بعد ہی دی جائے گی، خاص طور پر ان مواقع پر جب ایک ہی وقت میں متعدد سرگرمیوں کو سنبھالنا ضروری ہو۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات لاگت میں کمی اور کام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف آخری ضرب لگانی ہوگی: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ منشیات سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے اور نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچانے کے لیے عوام کو منشیات کے غلط استعمال کے خلاف آخری اور فیصلہ کن ضرب لگانی ہوگی۔
پلوامہ میں منشیات مخالف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ منشیات کے خلاف جاری مہم اب ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس میں معاشرے کے ہر طبقے کی شرکت ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا، میں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کے ناسور کے خلاف آخری وار کریں تاکہ ہم سب مل کر نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کر سکیں اور اپنی نوجوان نسل کو نشے کی لت سے محفوظ رکھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں عوامی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہمولہ میں ہزاروں افراد کو منشیات کے خلاف آواز بلند کرتے دیکھا گیا، جبکہ جموں، سانبہ، ادھم پور، کٹھوعہ، سری نگر اور دیگر اضلاع میں بھی نوجوانوں اور والدین نے اس جدوجہد کے تئیں مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
گزشتہ ماہ شروع کیے گئے ’نشہ مکت ابھیان جموں و کشمیر‘ کے تحت چلائی گئی مہم کے دوران جموں و کشمیر پولیس نے نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت 700 سے زائد مقدمات درج کرتے ہوئے 800 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
اس مہم کے دوران 600 کلوگرام سے زائد منشیات بھی ضبط کی گئی ہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ نے 93 لاکھ روپے کے زمینی فراڈ معاملے میں بڈگام میں چھاپہ مارا
سری نگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے منگل کے روز جنوبی کشمیر میں ایک مہاجر کی جائیداد اور کھڑے درختوں کی فروخت سے متعلق 93 لاکھ روپے کے مبینہ زمینی فراڈ معاملے میں ضلع بڈگام میں تلاشی مہم چلائی۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی مہم اس سال اپریل میں پولیس اسٹیشن ای او ڈبلیو کشمیر میں بھارتیہ نیائے سنہتہ کی دفعات 318(4)، 336(3)، 340 اور 61(2) کے تحت درج ایف آئی آر کے سلسلے میں انجام دی گئی۔ یہ معاملہ پلوامہ کے دروسو علاقے میں پانچ کنال مہاجر زمین اور بجبہاڑہ میں 300 کھڑے درختوں کی فرضی معاہدوں کے ذریعے مبینہ دھوکہ دہی سے فروخت سے متعلق ہے۔
ملزمان کی شناخت زمین کے دلال غلام محی الدین ڈار (جوالہ پورہ، بڈگام باشندہ) اور سوم ناتھ کول (بنگلور نارتھ، کرناٹک/جنی پور، جموں باشندہ) کے طور پر ہوئی ہے۔
ای او ڈبلیو نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شکایت کنندہ کو مبینہ طور پر مہاجر کی زمین اور درخت خریدنے کے لیے گمراہ کیا گیا تھا، جبکہ کول نے مبینہ طور پر اصل مالکان کے وکیل کے طور پر کام کیا اور ڈار نے گواہ کا کردار ادا کیا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ نہ تو زمین اور نہ ہی درخت ملزمان کی ملکیت تھے اور نہ ہی اصل مالکان نے انہیں فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔
حکام نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ جس بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی گئی تھی، وہ رقم منتقل کیے جانے والے اسی دن صرف شکایت کنندہ کو دھوکہ دینے کی نیت سے کھولا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ غلام محی الدین ڈار اور سوم ناتھ کول کے مبینہ مجرمانہ افعال بادی النظر میں بھارتیہ نیائے سنہتہ کی دفعات 318(4)، 336(3)، 338، 340 اور 61(2) کے تحت قابل سزا جرم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی مناسبت سے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
منگل کے روز ایگزیکٹو مجسٹریٹوں کی موجودگی میں تلاشی کارروائی انجام دی گئی تاکہ معاملے سے متعلق قابل اعتراض مواد اور دیگر شواہد جمع کیے جا سکیں۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
کٹھوعہ ادھم پور میں ترقی فائلوں سے زمین پر منتقل ہوگئی ہے: جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کٹھوعہ- ادھم پور لوک سبھا حلقہ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی فائلوں سے زمین پر منتقل ہوئی ہے۔
لوک سبھا میں مسلسل تیسری بار اس حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے یو این آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا، “اس حلقہ میں ترقی کا انداز، جس میں پانچ اضلاع شامل ہیں: کٹھوعہ، ادھم پور، ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن، گزشتہ دس برسوں میں مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ ہم اب وعدوں سے آگے بڑھ کر ترقیاتی کاموں کی طرف بڑھ چکے ہیں۔”
خطے میں اس تبدیلی اور بنیادی ڈھانچے کی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا، “کٹھوعہ-ادھم پور حلقہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مضبوط سیاسی عزم، سائنسی طریقے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ایک مشکل جغرافیائی خطے کی تقدیر کو بدل سکتی ہے اور اسے مواقع اور ترقی کے مرکز میں تبدیل کر سکتی ہے۔”
وزیرموصوف نے کہا کہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی علامت جموں سری نگر ہائی وے پر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل ہے جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ مزید برآں، آئندہ کٹرہ-دہلی ایکسپریس وے سے سفر کے وقت کو پانچ سے چھ گھنٹے تک کم کرنے کی امید ہے، جبکہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے پورے خطے میں 200 سے زیادہ پل تعمیر کیے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور میں 190 کروڑ روپے کے دیویکا ریور فرنٹ پروجیکٹ نے مقدس دیویکا ندی کے کناروں کو جدید شہری شکل دی ہے۔ بسوہلی میں دریائے راوی کے اوپر مشہور کیبل سے بنے اٹل سیٹو اور کٹھوعہ میں کڈیان-گنڈیال پل نے اس خطے میں سفر کو بہت سہولت فراہم کی ہے۔
ریلوے کنکٹی وٹی پر بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا، “دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل، چناب ریل برج کی تعمیر اور ادھم پور اور کٹھوعہ کے راستے کٹرہ اور دہلی کے درمیان دو وندے بھارت ٹرینوں کے آغاز سے ریل رابطہ نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔”
مزید برآں، مسٹر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور ریلوے اسٹیشن کا نام شہید تشار مہاجن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ شمالی ہندوستان کا پہلا صنعتی بایو ٹیک پارک کٹھوعہ میں قائم کیا گیا ہے اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹیو میڈیسن کے ذریعہ قائم کردہ “بایو نیسٹ انکیوبیٹر، گٹھی، کٹھوعہ میں اختراعات کو فروغ دے رہا ہے۔ کٹھوعہ میں “آرکڈ بایو فارما” کا سنگ بنیاد رکھنا عالمی سطح پر فارماسیوٹیکل سیکٹر میں ایک بڑی چھلانگ کی نمائندگی کرتا ہے۔
مرکزی وزیر نےکہاا کہ وزیر اعظم نے اپنے “من کی بات” پروگرام میں خوشبو مشن کے تحت ڈوڈہ میں “جامنی انقلاب” (لیوینڈر کی کاشت) کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن نے کسانوں کو سائنس سے جوڑ دیا، جس سے لیوینڈر کی کاشت کے ذریعے مقامی معیشت میں مکمل تبدیلی آئی۔
ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ادھم پور کے منٹلائی میں بین الاقوامی یوگا سنٹر کی تعمیر، مانسر جھیل کو سودیش درشن اسکیم میں شامل کرنا اور کشتواڑ میں مچیل یاترا میں سہولیات کی بہتری سبھی طبقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کیے گئے اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر نے کہا، “راشٹریہ اوچتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) کے تحت پاڈر کے پہاڑی علاقے میں ایک ڈگری کالج کے افتتاح نے اعلیٰ تعلیم کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچایا ہے۔ محض ضلع کشتواڑ میں پکل ڈل، کیرو، کوار، دول ہستی اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بجلی کی حفاظت فراہم کریں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ صرف پچھلے ایک سال میں خطے میں 21 بڑے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ ان میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور ادھم پور کے لیے نیشنل ہائی وے 244 کے تحت منظور شدہ تقریباً 9,800 کروڑ روپے کے سرنگ پروجیکٹ شامل ہیں۔ چترگلا ٹنل، ادھم پور ہوائی اڈے کا آپریشنلائزیشن اور کشتواڑ کو اڑان اسکیم میں شامل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فضائی خدمات اب پہاڑی علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سال کے بادل پھٹنے کے سانحے کے بعد حساس علاقوں جیسے مچیل اور پیڈر میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہاں زلزلہ آبزرویٹری میں خودکار موسمی اسٹیشن نصب کیے گئے ہیں، اور ڈوڈہ کے لیے ایک ڈوپلر ویدر رڈار تجویز کیا گیا ہے۔
سڑک کنیکٹی وٹی پر وزیر نے کہا، “1000 کروڑ روپے سے زیادہ کے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے پروجیکٹوں کا افتتاح یا آغاز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ہیراگر کے سیلاب سے متاثرہ سرحدی دیہاتوں کے لیے ایک نینو ٹیکنالوجی پر مبنی واٹر فلٹریشن پلانٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اب آخری میل تک پہنچ رہی ہے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے نوٹ کیا کہ کٹھوعہ-ادھم پور پارلیمانی حلقہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران کئی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان میں ممبر آف پارلیمنٹ (ایم پی ایل اے ڈی) کے فنڈز سے آئی سی یو ایمبولینس، پینے کے پانی کے لیے ہینڈ پمپ، ڈوڈہ میں کھیل کے میدانوں میں سولر لائٹس، کٹھوعہ شہر میں ایک کثیر المنزلہ پارکنگ کمپلیکس، شہید نائک وکیل سنگھ جسروٹیا کے نام سے منسوب لڑکیوں کا اسکول، بلاور میں منصف کورٹ، اور رام کوٹ میں ایک کیندریہ ودیالیہ شامل ہیں۔
وزیر نے کہا، “اس خطے کی ترقی عوام کو ذہن میں رکھ کر کی جا رہی ہے تاکہ ڈوڈہ یا کشتواڑ کے سب سے دور دراز گاؤں بھی ملک کی ترقی کی کہانی سے جڑے ہوئے محسوس کر سکیں۔”
مسٹر سنگھ نے مزید کہا، “وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام سرکاری اسکیموں اور ترقیاتی کاموں کے فائدے قطار میں کھڑے آخری شخص تک پہنچنے چاہئیں اور اس ویژن کے ساتھ ہم اس خطے کو مزید مضبوط اور مستقبل میں ایک ماڈل حلقہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
دنیا6 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان6 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا6 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
تازہ ترین1 week agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی
دنیا1 week agoایران کا جواب نامعقول، کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے: ٹرمپ
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
دنیا6 days agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
دنیا1 week agoصومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی








































































































