دنیا
میں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ’’میں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے جواب کا چند دن تک انتظار کرسکتے ہیں، مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے ہمیں ایران سے مناسب جواب کی توقع ہے۔ انھوں نے کہا میری ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بہت اچھی گفتگو ہوئی، لوگوں کی ہلاکت سے بہتر ہے کہ معاہدے کے لیے چند روز انتظار کیا جائے، ایران سے درست جواب نہیں ملا تو ہم تیزی سے آگے بڑھیں گے، ہم کوئی بھی کارروائی کرنے کے لیے الرٹ پر ہیں۔
امریکی صدر نے کہا ڈیل ہونے تک ایرانی ٹینکروں کو جانے نہیں دیں گے، کوئی بھی معاہدہ ہونے تک پابندیاں نہیں ہٹائیں گے، اگر ایران سے 100 فی صد اچھا جواب ملا تو وقت اور بہت زندگیاں بچ جائیں گی، امید ہے ایران اور ہمارے لیے ایک اچھی ڈیل ہو جائے گی۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو نئی تجاویز بھجوا دیں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران اپنے جہاز نہیں نکال سکا، 37 جہازوں کو ہم نے روک دیا، ایران جب تک معاہدہ نہیں کرتا ریلیف کی کوئی بات نہیں ہو سکتی، ایران کو جنگ میں شکست ہو چکی، معاہدے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
انھوں نے اپنا پسندیدہ دعویٰ کیا کہ ایران مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے، اور اب ایران میں ذہین لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں، امید ہے جن سے بات کر رہے ہیں وہ ڈیل کر لیں گے، ایران ڈیل کر لیتا ہے تو یہ سب کے لیے اچھا ہوگا، جن سے بات کر رہے ہیں وہ سمجھدار ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کیوبا سے متعلق کہا کہ اس کے لوگ مشکلات میں ہیں، دیکھتے ہیں ان کے لیے کیا ہوتا ہے، کیوبا کے لوگ بہترین اور میرے دوست ہیں، ہم ان کو مشکلات سے آزاد کریں گے، ہمیں کیوبا کے عوام کی مدد کرنی ہوگی کیوں کہ حکومت نے وہاں اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے جنگ ٹالنے کیلئے ہر راستہ تلاش کیا، صدر پزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے مسلسل اپنے وعدوں کی پاسداری کی اور جنگ کو ٹالنے کے لیے ہر راستہ تلاش کیا ہے
.
مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی طرف سے تمام راستے کھلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جبر کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی خواہش وہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سفارتکاری میں ایک دوسرے کا احترام کرنا جنگ کرنے سے زیادہ سمجھداری، محفوظ اور دیرپا طریقہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں تحریر کیا کہ ایران دو عالمی دہشت گرد افواج کے خلاف ایک تاریخی اور منفرد مزاحمت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ نے ایرانی حکام پر پہلے سے زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری : ایکسیوس
واشنگٹن، امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے، صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی نئی کوشش پر ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سخت بدمزہ رہی، ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے تند و تیز لہجے میں گفتگو کی تھی، امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی۔
اسرائیلی و زیرِ اعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی و زیر اعظم آگ بگولا ہو گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے انتہائی شکوک رکھتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کرکے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کرکے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جب کہ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ کی ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فی صد یورینیم افزودگی کی پیشکش ٹرمپ نے بدھ کو کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں کہا ”صرف سوال یہ ہے کہ کیا ہم جا کر اس معاملے کو مکمل طور پر ختم کریں گے یا وہ کسی دستاویز پر دستخط کریں گے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو ”ایران کے معاملے میں وہی کریں گے جو میں چاہوں گا” تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کے تعلقات اچھے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے معاملے پر پہلے بھی وقتی اختلافات رہے ہیں، لیکن جنگ کے دوران دونوں قریبی رابطے میں رہے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ تازہ ترین تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس نے ابھی تک کسی لچک کا واضح اشارہ نہیں دیا۔ تینوں ذرائع کے مطابق پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر گزشتہ کئی دنوں سے مجوزہ مسودے کو بہتر بنانے اور اختلافات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ دو عرب حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق قطر نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا۔ تاہم چوتھے ذریعے نے کہا کہ یہ الگ قطری مسودہ نہیں بلکہ قطر سابق پاکستانی تجویز میں موجود اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ قطری حکام نے اس ہفتے کے آغاز میں تہران کا دورہ کیا جہاں انھوں نے ایرانی حکام سے تازہ ترین مسودے پر بات چیت کی۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات ”ایران کی 14 نکاتی تجویز” کی بنیاد پر جاری ہیں، جب کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ ثالثی میں مدد کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ ایک ہفتے سے کم عرصے میں وزیرِ داخلہ کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ ایک عرب عہدیدار کے مطابق اس نئی کوشش کا مقصد ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے زیادہ واضح وعدے لینا اور امریکہ سے منجمد ایرانی فنڈز مرحلہ وار جاری کرنے کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنا ہے۔
تینوں ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی واضح نہیں کہ ایران نئے مسودے سے اتفاق کرے گا یا اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا۔ ایک قطری سفارت کار نے کہا ”جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا، قطر پاکستانی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطے اور اس کے عوام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔” امریکی ذریعے کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان طویل اور ”مشکل” گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک ”لیٹر آف انٹینٹ” پر کام کر رہے ہیں، جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تاکہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو اور 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع کیا جا سکے۔ اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔
دو اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ حکمتِ عملی پر اختلاف پایا گیا، جب کہ امریکی ذریعے کے مطابق ”کال کے بعد بی بی (نیتن یاہو) شدید پریشان تھے۔” ذریعے نے بتایا کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ نیتن یاہو اس گفتگو پر فکرمند ہیں۔ تاہم اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”سفیر نجی گفتگوؤں پر تبصرہ نہیں کرتے۔”
دو ذرائع نے نشان دہی کی کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے مختلف مراحل پر نیتن یاہو شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، چاہے بعد میں معاہدے نہ ہو سکے ہوں۔ ایک ذریعے نے کہا ”بی بی ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔” ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایرانی جہازوں کے خلاف اپنی ”قزاقی” بند کرنا ہو گی اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی، جب کہ اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق نیتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جانا چاہتے ہیں۔
یو این آئیْ۔ ع ا۔
دنیا
صدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں، کیونکہ وہاں ان کی مقبولیت انتہائی بلندیوں پر ہے۔
بدھ کو یو ایس کوسٹ گارڈ اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اسرائیل میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے الیکشن لڑ سکتے ہیں کیوں کہ وہاں انہیں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ ٹرمپ کا مزاحیہ انداز میں کہنا تھا کہ شاید صدارت کی مدت پوری کرنے کے بعد میں اسرائیل چلا جاؤں اور وہاں وزیراعظم کا الیکشن لڑوں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج صبح ہی ایک سروے رپورٹ آئی ہے جس کے مطابق اسرائیل میں میری مقبولیت 99 فیصد ہے، جو کہ ایک بہترین چیز ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس سروے رپورٹ کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ بینجمن نیتن یاہو اس وقت اسرائیل کے وزیراعظم ہیں جو 1996 سے اب تک کئی بار اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، اور صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جاری جنگ میں نیتن یاہو کے کٹر حامی رہے ہیں۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران جنگ کی موجودہ صورتحال پر نیتن یاہو سے کوئی بات چیت کی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ نیتن یاہو بالکل ٹھیک ہیں، وہ ایک بہت اچھے انسان ہیں اور میں ان سے جو کچھ بھی کرنے کو کہوں گا، وہ وہی کریں گے۔ بینجمن نیتن یاہو کا دفاع کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ نیتن یاہو جنگی حالات کے وزیراعظم ہیں، اور میری رائے میں اسرائیل میں ان کے ساتھ درست سلوک نہیں کیا جا رہا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
ہندوستان1 week agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
ہندوستان1 week agoحکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھا کر 15 فی صد کی
دنیا1 week agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
دنیا1 week agoایران نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو سخت پیغام دے دیا
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اور لداخ میں بارشوں کی 26 فیصد کمی: خشک سالی کا سلسلہ مسلسل ساتویں مہینے بھی جاری
دنیا5 days agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی








































































































