ہندوستان
راہل گاندھی کا سرکاری ٹھیکوں سے پسماندہ طبقات کو ‘منظم طریقے سے الگ کرنے’ کا الزام، ڈیٹا کی کمی پر حکومت سے سوال
نئی دہلی، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو مرکز پر الزام لگایا کہ وہ بڑے سرکاری ٹھیکوں سے پسماندہ طبقات کے “منظم اخراج” کی راہ ہموار کر رہا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر سرکاری کاموں میں دلت، آدیواسی اور پسماندہ طبقے کے کاروباریوں کی شرکت سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں گاندھی نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور گزشتہ سال دیے گئے 16,500 کروڑ روپے کے سرکاری ٹھیکوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ انہوں نے لکھا “میں نے پارلیمنٹ میں حکومت سے پوچھا کہ گزشتہ سال دیے گئے 16,500 کروڑ روپے کے سرکاری کاموں کے ٹھیکوں میں سے کتنے دلتوں، آدیواسیوں اور پسماندہ طبقات کی ملکیت والے کاروباروں کو دیے گئے”
حکومت کے جواب کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ “حکومت اس حوالے سے کوئی ڈیٹا نہیں رکھتی۔”
راہل گاندھی نے موجودہ خریداری کے اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پالیسی کے تحت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای ) سے 25 فیصد سرکاری خریداری لازمی ہے، جس میں سے 4 فیصد دلت اور آدیواسی کاروباریوں کے لیے مختص ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے سرکاری کام کے ٹھیکوں کے معاملے میں ان دفعات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا “جب سب سے بڑے اور منافع بخش ٹھیکوں—سرکاری کام—کی بات آتی ہے، تو حکومت کہتی ہے کہ یہ ‘لازمی’ نہیں ہے۔”
اس مسئلے کو محض ایک انتظامی کوتاہی کے بجائے گہرا ڈھانچہ جاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے ذریعے جان بوجھ کرالگ کرنے کا بنایا گیا ایک نظام ہے، جو سماجی اور اقتصادی انصاف کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے معاشی مواقع تک مساوی رسائی کے بارے میں وسیع تر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا: “بہوجن کاروباریوں کو ملک کے سب سے بڑے سرکاری ٹھیکوں سے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے”
یہ ریمارکس معاشی پالیسی میں شمولیت اور مثبت اقدامات پر جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ سرکاری خریداری کو نمائندگی سے محروم کمیونٹیز میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے خریداری کے عمل میں چھوٹے اداروں کی شرکت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عمل درآمد میں کمی اور شفافیت کا فقدان ان کے فوائد کو محدود کر رہا ہے۔ پبلک اسپینڈنگ (سرکاری اخراجات) میں ڈیٹا کے انکشاف اور جوابدہی کا یہ معاملہ آنے والے وقت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا مرکز رہنے کا امکان ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
عالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
نئی دہلی ہندوستان نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ، اقتصادی عدم استحکام اور کمزور ہوتے کثیر جہتی ادارے عالمی نظام کو مزید نازک بنا رہے ہیں اور برکس ممالک کو استحکام اور عالمی طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے متحد ہو کر قدم اٹھانے چاہئیں وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعرات کو یہاں منعقدہ برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے میٹنگ میں بین الاقوامی سلامتی، اقتصادی عدم تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز خطاب میں کہا کہ دنیا غیر معمولی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے پیچھے مسلح تصادم، موسمیاتی آفات اور کووڈ وبا کے طویل مدتی اثرات اہم وجوہات ہیں۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ بحران الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ عالمی چیلنجوں کا ایک ایسا سنگم ہیں جو بین الاقوامی نظام کی صلاحیت کا امتحان لے رہے ہیں اور جن کا سب سے زیادہ اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “استحکام، پائیدار ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی کارروائی اور پختہ عزم ضروری ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ برکس ممالک کو صرف غور و خوض تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ “موثر اور مربوط حل” تیار کرنے چاہئیں۔
ڈاکٹر جے شنکر نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے تئیں ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کے پائیدار ذرائع ہیں۔ انہوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کشیدگی سمندری سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ہندوستان نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستوں میں بلا تعطل نقل و حمل کو عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔
وزیرِ خارجہ نے غزہ کے تنازع کو “سنگین انسانی بحران” قرار دیتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر طویل مدتی سیاسی حل کی سمت میں کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے لبنان، شام، سوڈان، یمن اور لیبیا کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان بحرانوں کے حل کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ “استحکام منتخب نہیں ہو سکتا اور امن ٹکڑوں میں قائم نہیں کیا جا سکتا۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے تنازعات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، شہریوں کے تحفظ اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی۔
انہوں نے ایسی یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کی جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہیں ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ ایسے اقدامات کا سب سے زیادہ منفی اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے اور وہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
وزیرِ خارجہ نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ترقی کی سست رفتار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ہندوستان نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے اقتصادی عدم تحفظ، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے درمیان ترقی اور استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سلامتی کے مسئلے پر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی پرانی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہندوستان نے سرحد پار دہشت گردی کو بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ” قطعی برداشت نہ کرنے ” کی پالیسی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی اور مصنوعی ذہانت عالمی نظام کو تیزی سے بدل رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ اعتماد، شفافیت اور مساوی رسائی سے وابستہ سنگین سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت بتائی۔ موسمیاتی تبدیلی کو ایک فیصلہ کن عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی کارروائی کے ساتھ موسمیاتی انصاف، مناسب مالی امداد اور ترقی پذیر ممالک کے لیے آسان تعاون بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ وزیرِ خارجہ نے کثیر جہتی اداروں، خاص طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی پرزور وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں اصلاحات میں مسلسل ہو رہی تاخیر عالمی نظام کی ساکھ اور تاثیر کو کمزور کر رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
دہلی میں پھر چلتی بس میں عصمت دری پورے سماج کے لیے بدنما داغ : عآپ
نئی دہلی عام آدمی پارٹی (عآپ) نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں دہلی کی سڑکوں پر چلتی بس کے اندر ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری نے ایک بار پھر نربھیا سانحہ کی یادیں تازہ کر دی ہیں ‘عآپ’ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جمعرات کو ‘ایکس’ پر کہا کہ دہلی میں ایک بار پھر چلتی بس میں عصمت دری ہوئی ہے ہم نے نربھیا سے کچھ نہیں سیکھا یہ واقعہ پورے سماج کے لیے کلنک ہے۔ ‘عآپ’ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ دہلی میں نربھیا جیسا واقعہ دہرایا گیا ہے۔ 30 سال کی ایک خاتون کو رات میں بس میں وقت پوچھنے کے بہانے اغوا کر لیا گیا اور اس کے بعد چلتی بس میں تقریباً دو گھنٹے تک کئی لوگوں نے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ یہ بس دہلی کے رانی باغ علاقے میں سات کلومیٹر تک گھومتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے، جس کے سربراہ لیفٹیننٹ گورنر چاہتے ہیں کہ دہلی کے باشندے ان کی ریلز دیکھیں، جن میں وہ چھولے بھٹورے اور جلیبی کھا رہے ہیں۔
مسٹر بھاردواج نے کہا کہ چلتی بس میں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے خاتون کی اجتماعی عصمت دری کی۔ یہ معلومات دہلی پولیس نے میڈیا کو دیر سے کیوں دیں؟ اس کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ کیا پولیس عصمت دری کے واقعے کو دبانا چاہتی تھی؟ کیا پولیس متاثرہ پر دباؤ بنانا چاہتی تھی، معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی یا پھر ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد میڈیا کو بتانا چاہتی تھی کہ ایسا ہوا تھا، مگر پولیس نے انہیں پکڑ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری حکومت ریلز پر چلتی ہے۔ ہمارا اعتراض ریلز بنانے پر نہیں ہے، بلکہ انہیں اپنے حساب سے ایڈٹ کر کے پیش کرنے پر ہے۔ دہلی والے حکومت کی آڈینس نہیں ہیں لیکن آج بی جے پی نے دہلی کے شہریوں اور ووٹروں کو محض ایک آڈینس بنا دیا ہے۔
‘عآپ’ لیڈر نے دہلی کے پولیس کمشنر سے پوچھا کہ یہ کیسی امن و امان کی صورتحال ہے کہ شہر میں دو گھنٹے تک ایک بس چلتی رہی اور رانی باغ کوئی دور دراز کا علاقہ نہیں ہے، یہ بالکل سینٹرل دہلی ہے۔ اس میں بس گھومتی رہی، ایک خاتون کے ساتھ دو گھنٹے تک عصمت دری ہوتی رہی اور پھر اس خاتون کو سڑک پر پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد بھی اس خبر کو دو دن تک چھپایا گیا۔ ہم پولیس کمشنر سے جاننا چاہتے ہیں کہ اس خبر کو کیوں چھپایا گیا اور آگے ایسا واقعہ نہ ہو، اس کے لیے وہ کیا کر رہے ہیں؟ دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور پنجاب کے ‘عآپ’ انچارج منیش سسودیا نے ‘ایکس’ پر کہا کہ دہلی میں ایک اور نربھیا سانحہ! چلتی بس میں پھر سے گینگ ریپ۔ دہلی میں بی جے پی کے تمام انجن ٹھپ ہو چکے ہیں۔ اسکول میں بچیاں محفوظ نہیں، بسوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
‘عآپ’ کی سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے دہلی کے امن و امان پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں نربھیا جیسا خوفناک منظر دوبارہ دیکھنا انتہائی دکھ بھرا اور شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانی باغ میں چلتی بس میں دو گھنٹے تک درندگی ہوتی رہی، لیکن بی جے پی حکومت کی ترجیح جوابدہی کے بجائے صرف ریلز اور برانڈنگ تک محدود رہ گئی ہے۔ مجرموں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ انہیں قانون کا ڈر ہی نہیں رہا۔ دہلی کی بہن بیٹیاں کب تک بی جے پی کے اس بدانتظامی کے خوف میں زندگی گزاریں گی
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
بزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مرکزی حکومت پر بزرگوں، بیواؤں اور معذور افراد کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ماہانہ پنشن میں برسوں سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے، جب کہ مہنگائی کی وجہ سے غریب اور محروم طبقہ شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے مسٹر کھرگے نے بدھ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھا کہ حکومت ایک طرف ملک کو کفایت شعاری اور قربانی کا درس دیتی ہے، وہیں دوسری طرف بزرگوں، بیواؤں اور معذوروں کا وقار چھین رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے بڑھاپے کی پنشن میں ‘ایک پیسے’ کا بھی اضافہ نہیں کیا، جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی قوتِ خرید میں تقریباً 45 فیصد کمی کے باوجود 200 روپے کی پنشن کی حقیقی قدر اب صرف 110 روپے، 300 روپے کی پنشن کی قدر 165 روپے اور 500 روپے کی پنشن کی قدر تقریباً 275 روپے کے برابر رہ گئی ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت عوام کی فلاح و بہبود پر اخراجات بڑھانے کے بجائے اشتہارات اور اپنی تشہیر پر بھاری رقم خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان حکومت نے اشتہارات کے ذریعے اپنی تشہیر پر 5,987.46 کروڑ روپے خرچ کیے۔ جناب کھرگے نے کہا کہ کروڑوں بزرگ شہری بنیادی ادویات اور خوراک تک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اپنی تشہیر، بڑے پروگراموں اور انتخابی مہمات پر فضول خرچی کر رہی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا7 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا6 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
دنیا5 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا7 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
ہندوستان3 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا7 days agoامریکی کوشش پھر ناکام، روس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد مسترد کر دی
ہندوستان7 days agoبی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ، دھامی حکومت عصمت دری کے ملزمان کو بچا رہی ہے: کانگریس
دنیا7 days agoحج 2026: رضاکارانہ کام کے خواہشمند افراد کیلیے خوشخبری












































































































