جموں و کشمیر
درنگ واٹر فال پھر سے آباد، سیاحوں کی واپسی نے سیاحتی مقام میں نئی روح پھونک دی

سری نگر ، وادیٔ کشمیر کے معروف سیاحتی مقام درنگ واٹر فال نے عارضی بندش کے بعد ایک بار پھر اپنی پرکشش فطری خوبصورتی کے ساتھ سیاحوں کا خیرمقدم شروع کر دیا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں سے بند رہنے کے بعد جب انتظامیہ نے درنگ کو باضابطہ طور پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تو سیاحوں کی بڑی تعداد نے یہاں کا رخ کیا اور پورے علاقے میں پھر سے رونق لوٹ آئی۔
درنگ، جو برفیلی آبشار، سبزہ زاروں، گنگناتی ندیاں، غار نما قدرتی ساخت اور پتھریلی راستوں کے سبب کشمیر کی منفرد شناخت سمجھا جاتا ہے، ایک بار پھر سیاحوں کی موجودگی سے گونج اٹھا ہے۔ بندش کے دوران مقامی کاروباری طبقہ، جس میں گھوڑے والے، ریڑھی دار، فوٹو گرافرز، گائیڈز اور چھوٹے دکاندار شامل ہیں، شدید مالی مشکلات سے دوچار تھا لیکن سیاحوں کی واپسی نے انہیں نئی امید بخشی ہے۔
حکام کے مطابق درنگ کو حفاظتی وجوہات کے باعث عارضی طور پر سیاحوں کے لیے بند کیا گیا تھا۔ ہماری اولین ترجیح سیاحوں کی سلامتی ہے۔ ضروری انفراسٹرکچر اور حفاظتی اقدامات کے بعد آج ہم نے درنگ کو دوبارہ عوام کے لئے کھول دیا ہے۔
پیر کے روز جیسے ہی درنگ کی بحالی کی خبر پھیلی، گلمرگ اور سری نگر میں قیام پذیر ملکی و غیر ملکی ٹورسٹ گاڑیوں میں بھر بھر کر یہاں پہنچنے لگے۔ سیاح نہ صرف آبشار کے پس منظر میں تصاویر لیتے رہے بلکہ کئی افراد نے برف سے ڈھکی چٹانوں اور نیچے بہتے نیلگوں پانی کے بیچ گھومنے کا لطف اٹھایا۔
ممبئی سے آئی ایک خاتون سیاح کا کہنا تھا:’ہماری ساری چھٹیاں خطرے میں پڑ گئی تھیں کیونکہ درنگ بند تھا، لیکن آج دوبارہ کھلا تو ہم سیدھے یہیں آگئے۔ یہ جگہ کسی جنت سے کم نہیں۔‘
مقامی دکاندار فیاض احمد نے بتایا کہ سیاحوں کی غیر موجودگی نے مارکیٹ کو تقریباً مفلوج کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا:’ہمارے گھروں کا چولہا ٹورسٹ کی وجہ سے جلتا ہے۔ آج سیاحوں کی واپسی دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ اللہ کرے موسم ٹھیک رہے اور یہاں رش بڑھتا رہے۔‘
درنگ کی مقامی یونین نے بھی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بہتر سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
درنگ، گلمرگ کے کنارے پر واقع ایک فطری شاہکار ہے جو ہر موسم میں اپنی الگ خوبصورتی پیش کرتا ہے—گرمیوں میں سبزہ اور پانی کا شور، سردیوں میں جمے ہوئے آبشار کا دلفریب منظر، اور خزاں میں سنہری پتوں کا جادو۔اسی منفرد حسن نے اسے اس سال کی صفِ اول کے ٹورزم سپاٹس میں شامل کر دیا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہاں سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور درنگ اپنی کھوئی ہوئی چہل پہل کو دوبارہ پوری شان کے ساتھ حاصل کرے گا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
شمالی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما کا لائن آف کنٹرول کا دورہ
سرینگر، ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے آج شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد موسم گرما کے لیے آپریشنل حکمت عملی اور خطے میں فوج کی مجموعی تیاریوں کا معائنہ کرنا تھا۔لائن آف کنٹرول پر تعینات دستوں سے بات چیت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل شرما نے ان کے غیر متزلزل جذبے، آپریشنل مہارت اور ملک کے لیے ان کی انتھک وابستگی کو سراہا۔
شمالی کمان نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ آرمی کمانڈر نے تمام رینک کے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں میں مہارت حاصل کریں اور ہر وقت چوکنا، مستعد اور کسی بھی چیلنج کے لیے تیار رہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق، شمالی کشمیر کے بالائی علاقوں میں برف پگھلنے کے ساتھ ہی سرحد پار سے دراندازی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
موسم گرما کے روایتی خطرات کے پیش نظر فوج نے سرحد پر نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے۔
وہ علاقے جو شدید برف باری کے باعث سردیوں میں کٹ کر رہ جاتے ہیں، اب دوبارہ قابلِ رسائی ہو گئے ہیں۔ اسی لیے سیکورٹی فورسز نے دراندازی روکنے کے اقدامات کو مضبوط کیا ہے اور سرحد پر فوج کی تعیناتی کے پیٹرن کا ازسرِ نو جائزہ لیا ہے۔یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہندوستانی فوج سرحدوں پر کسی بھی قسم کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح متحرک اور مستعد ہے۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اور لداخ میں بارشوں کی 26 فیصد کمی: خشک سالی کا سلسلہ مسلسل ساتویں مہینے بھی جاری
سرینگر، جموں و کشمیر اور لداخ کے خطوں میں موسمیاتی تبدیلیاں اور بارشوں کی مسلسل کمی ایک سنگین صورتحال اختیار کر رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، یکم مارچ سے 13 مئی کے درمیان اس خطے میں معمول سے 26 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ کمی کسی وقتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی تشویشناک رجحان کا حصہ ہے۔
گزشتہ سال نومبر سے شروع ہونے والا خشک سالی کا یہ سلسلہ اب ساتویں مسلسل مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔یکم مارچ سے اب تک خطے میں صرف 196.9 ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جبکہ اس دوران معمول کی بارش 266.1 ملی میٹر ہونی چاہیے تھی۔
رپورٹ کے مطابق کشمیر اور جموں کے کئی اضلاع بارش کی شدید قلت کا شکار ہیں۔جنوبی کشمیر کا ضلع شوپیاں 72 فیصد کمی کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا (شدید قلت کا حامل)۔دیگر متاثرہ اضلاع جیسے کٹھوعہ (58٪)، کلگام (54٪)، اننت ناگ (47٪)، بڈگام (43٪) اور کشتواڑ (36٪) میں بھی بارشیں معمول سے کافی کم رہیں۔
یو این آئی م اع
جموں و کشمیر
منشیات سے پاک جموں کشمیر مہم: 32 دنوں میں 730 اسمگلر گرفتار
کواڑہ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز ضلع کپواڑہ میں ایک عوامی ‘پدیاترا’ (پیدل مارچ) سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یونین ٹیریٹری میں جاری ‘ڈرگ فری جموں کشمیر مہم’ نے منشیات کے نیٹ ورک کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ محض 32 دنوں کے دوران 730 سے زائد منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایل جی منوج سنہا نے اپنے خطاب میں مہم کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف شروع کی گئی یہ مہم اب ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور منشیات کے خاتمے کے لیے ایک “انقلاب” میں بدل رہی ہے۔
ایل جی کے مطابق، انتظامیہ کی مسلسل کارروائیوں نے منشیات اور دہشت گردی کے باہمی گٹھ جوڑ کو مفلوج کر دیا ہے۔ مہم کے دوران اسمگلروں کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں اور اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔ سرحد پار سے منشیات کے رابطوں کو توڑنے کے لیے 15 مبینہ اسمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔ضلع کپواڑہ میں منعقدہ اس ‘پدیاترا’ میں سرکاری افسران، طلبہ، سول سوسائٹی کے ارکان اور مقامی باشندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کا پختہ عہد کیا۔
یاد رہے کہ ایل جی منوج سنہا نے گزشتہ ماہ ‘نشہ مکت ابھیان’ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد سے وہ خود اس مہم کو تقویت دینے کے لیے یونین ٹیریٹری کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو اس وباء سے بچایا جا سکے۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا5 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا5 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
ہندوستان6 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا4 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا5 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
دنیا1 week agoامریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی : باقر قالیباف











































































































