دنیا
امریکی سعودی سرمایہ کاری کانفرنس میں 270 ارب ڈالر کے معاہدے

واشنگٹن، امریکی سعودی سرمایہ کاری کانفرنس میں 270 ارب ڈالر کے معاہدے طے پاگئے، جس میں ریئرارتھ ریفائنری کا قیام بھی شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سعودی سرمایہ کاری کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان 270 ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے جبکہ ریئرارتھ ریفائنری کے قیام کے لیے بھی معاہدہ کرلیا گیا۔
ایم پی مٹیریلیز،سعودی مادن کمپنی اورپینٹاگون مل کرریفائنری قائم کریں گے، اہداف میں عالمی نایاب معدنیات کی سپلائی چین کومتنوع بناناشامل ہے۔
ریفائنری سعودی عرب میں ہوگی تاکہ مینوفیکچرنگ اوردفاعی ضروریات پوری ہوں ، جوائنٹ وینچرمیں ایم پی مٹیر یلیز اور پینٹاگون49 فیصد اور مادن 51 فیصد شیئر رکھے گا۔
پینٹاگون جوائنٹ وینچرکی مالی اعانت کریگا،ایم پی مٹیریلیزسرمایہ کاری نہیں کرے گی، اقدام امریکہ اور سعودی عرب کے اقتصادی اور دفاعی تعلقات کومزید گہرا کرے گا۔
کانفرنس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکت کی اور اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ کا سب سے بڑا نیٹوا اتحادی ہے اور دونوں ممالک نے اپنے اتحاد کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔
ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تاریخی اہمیت پر زور دیا اور دفاع، توانائی اور اے آئی میں سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
ہوانا، کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگز نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ جھوٹے بیانات کے ذریعے خطے میں فوجی کشیدگی اور تصادم کو ہوا دے رہے ہیں۔
برونو روڈریگز نے کہا کہ مارکو روبیو ایک بار پھر کیوبا پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ہونے کا بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں تاکہ خطے میں تناؤ کو مزید بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو فوجی جارحیت اور تصادم کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جس کے نتائج امریکہ اور کیوبا دونوں کے لیے خونریزی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
کیوبا کے وزیرِ خارجہ کے مطابق کیوبا سے امریکی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں، تاہم واشنگٹن دانستہ طور پر جزیرے میں معاشی بحران اور سماجی بے چینی کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ پابندیوں، سیاسی دباؤ اور معاشی اقدامات کے ذریعے کیوبا کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
برونو روڈریگز نے کہا کہ اس کے برعکس کیوبا خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، تاہم امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جو چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کر کے رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران پر شدید دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحریہ ایران کے خلاف سخت ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے فولادی محاصرے کے ذریعے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر موجود رہے اور امریکہ ایرانی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو حاصل کرنے کے بعد انہیں تباہ کرنے پر کام کرے گا۔
سمندری تجارت سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بغیر کسی ٹیکس یا پابندی کے کھلا رہنا چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے جوہری معاملے پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستانی حکام آج تہران جا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا۔
رپورٹس کے مطابق تہران پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ممکنہ دورے کا منتظر ہے، جو اسلام آباد کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک تجویز پر غور کر رہا ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
واشنگٹن، امریکہ نے ایسے 9 افراد پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر حزب اللّٰہ کے لیے لبنان کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے اور تنظیم کے سیاسی و مالیاتی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان میں حکومتی عمل داری مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
امریکی وزارتِ خزانہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حزب اللّٰہ کی حمایت کے ذریعے یہ افراد لبنان میں ایرانی حکومت کے ’’بدنیتی پر مبنی ایجنڈے‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں اور لبنانی عوام کے لیے امن و استحکام کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللّٰہ کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت اور ہتھیار ڈالنے سے انکار لبنان کو امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب بڑھنے سے روک رہا ہے۔
ٹومی پیگوٹ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں پارلیمنٹ کے ارکان، ایک سابق ایرانی سفارت کار اور ایسے سکیورٹی اہلکار شامل ہیں جن پر حزب اللّٰہ کے مفاد میں اپنے اختیارات استعمال کرنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ محکمہ خارجہ کے ’’انعام برائے انصاف‘‘ پروگرام کے تحت ایسے افراد کو 10 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا جو حزب اللّٰہ کے مالیاتی نیٹ ورک سے متعلق معلومات فراہم کریں۔
ٹومی پیگوٹ نے خبردار کیا کہ جو عناصر حزب اللّٰہ کو پناہ، تعاون یا کسی بھی شکل میں مدد فراہم کرتے رہیں گے، انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک محفوظ اور مستحکم لبنان کے لیے حزب اللّٰہ کا مکمل غیر مسلح ہونا اور ملک بھر میں سکیورٹی امور پر لبنانی حکومت کی مکمل عمل داری ضروری ہے۔
امریکی پابندیوں کی نئی فہرست میں ابراہیم الموسوی، حسن فضل اللہ، حسین الحاج حسن، محمد عبد المطلب فنیش، احمد اسعد بعلبکی، سامر عدنان حمادی، خضر ناصر الدین، علی احمد صفاوی اور محمد رضا رؤف شیبانی کے نام شامل ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد امریکہ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کا نیا دور 2 اور 3 جون کو منعقد ہوگا، جبکہ اس سے قبل 29 مئی کو پینٹاگون لبنان اور اسرائیل کے فوجی وفود کے درمیان ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
ادھر حزب اللّٰہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے مذاکرات کو جو اس کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے سے متعلق ہوں۔
واضح رہے کہ 17 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع حال ہی میں نافذ ہوئی ہے، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملے اور جنوبی لبنان میں کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان1 week agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا1 week agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا1 week agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان1 week agoپاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
ہندوستان1 week agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
دنیا6 days agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
ہندوستان1 week agoحکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھا کر 15 فی صد کی
دنیا1 week agoتائیوان معاملہ غلط سنبھالا گیا تو امریکہ اور چین تصادم کی طرف جا سکتے ہیں: شی جن پنگ
دنیا1 week agoایران نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو سخت پیغام دے دیا
دنیا1 week agoایرانی نوجوان جنگ کے سائے کو اپنے روشن مستقبل پر حاوی نہیں ہونے دیں گے :عباس عراقچی







































































































